• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
’’آپ مسلمانوں کے تابناک ماضی کاذکر کیوں نہیں کرتے؟تصویر کا دوسرا رُخ کیوں نہیں دکھاتے اور یہ کیوں نہیں بتاتے کہ ایک وقت تھا جب مسلمان سائنسی ترقی کے اعتبار سے آگے تھے ؟ـ‘‘اس سے ملتے جلتے جملے کئی قارئین کی جانب سے موصول ہوتے ہیں ۔تلخ حقیقت اور کڑوا سچ تو یہ ہے کہ ہمارے ماضی کا ’’م‘‘ہی تابناک ہے باقی تاریخ قابل فخر تو کیا قابل بیان بھی نہیں ۔آج جن عظیم سائنسدانوں کی ایجادات ہم فخریہ انداز میں بیان کرتے ہیں ،کبھی موقع ملے تو یہ بھی پڑھنے کی زحمت کریں کہ انہیں مسلم حکمرانوں نے کیسے نشان عبرت بنایا ۔بارہویں صدی کا عظیم ماہر فلکیات اور ریاضی دان ابن رشد جسے ایک درجن سے زائد ایجادات کا بانی سمجھا جاتا ہے ،اندلس کے حکمران یعقوب المنصور نے اس کے کتب خانے کو نذر آتش کر دیا اور اسے ملک بدر کر دیا۔بہر حال میرے خیال میں اگر اس دور کا تذکرہ زبوں حالی و پستی کا شکار معاشرے کو غیرت اور ترغیب دلانے یا ترقی پر اکسانے کی نیت سے کیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن اگر ہم شاندار ماضی کے ان سہانے سپنوں میں کھو جائیں اور یہ تذکرہ اس قدر طویل ہو جائے کہ ہم اس کے سحر سے باہر نکلنے اور تلخ زمینی حقائق کا سامنا کرنے کو تیار ہی نہ ہوں تو پھر اس ذہنی عیاشی کے بجائے اصل اور حقیقی سوالات پر غور کرنا چاہئے ۔وہ سوالات یہ ہیں کہ اگر ہم ایک زمانے میں عروج و ترقی کی منازل طے کر رہے تھے تو یہ سلسلہ کب ،کہاں اور کیسے ٹوٹا؟اور آج کس طرح ہم اس سفر کا دوبارہ آغاز کر سکتے ہیں ؟ اس سے متصل اور مربوط ایک اور اہم ترین سوال یہ ہے کہ وہ انگلستان جہاں جہالت و انتہاپسندی کی بہتات تھی،جہاں شعور و ترقی کا نام و نشان تک نہ تھا ،اس جاہل ،اجڈ اور گنوار معاشرے نے محض چندسوسال میں کیسے اتنی ترقی کر لی کہ اس کے تین ہزار فوجیوں نے 57کروڑ انسانوں کے ملک ہندوستان پر قبضہ کر لیا؟جب میں پندرہویں صدی اور اس سے پہلے کے یورپ کو دیکھتا ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے اپنے موجودہ معاشرے کا عکس دیکھ رہا ہوں ۔کلیسا اور بادشاہت کے گٹھ جوڑ سے اظہاررائے کی راہیں مسدود ہیں ۔جو دانشور سچ بولنے کی جسارت کرتا ہے ،اسے بغاوت کے جرم میں قتل کر دیاجاتا ہے یا پھر چڑیل یا بھوت قرار دے کر مار ڈالتے ہیں ۔گلیلو کو پھانسی ہوئی ،سقراط کو زہر کا پیالہ دیا گیا،لاتمیرے کو آگ کا الائو روشن کر کے زندہ جلا دیا گیا۔معاشرے کی اصلاح کرنے والوں نے ہمت نہ ہاری ،یہاں تک کہ پرنٹنگ پریس ایجاد ہونے کے بعد ابلاغ کے راستے کھل گئے ۔مذہبی پیشوائوں نے حکمرانوں کی مدد سے سماجی شعور کو مقید کرنے کی ایک اور کوشش کی اور کتابیں چھاپنے والوں کیلئے سزائے موت کا قانون بنا دیا گیا۔برسہا برس مصنف اور پبلشر تختہ دار پر جھولتے رہے ۔آخری سزا جان ٹوائن نامی پبلشر کو ہوئی جس نے ایک گمنام مصنف کی کتاب چھاپنے کی جسارت کی ،اس کتاب کے مندرجات کا خلاصہ یہ تھا کہ بادشاہ عوام کو جوابدہ ہے ،اگر وہ جوابدہی سے گریز کرے تو لوگوں کو یہ حق حاصل ہے کہ اس کے خلاف بغاوت کر دیں ۔چونکہ مصنف کا نام معلوم نہ ہو سکا اس لئے فل بنچ نے متفقہ طور پر پبلشر کو ہی سزائے موت دیدی۔اس کے بعد ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے اور لوگ بادشاہت اور اس کے معاون و مددگار اداروں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔یہ یورپ کی ترقی کا نقطہ آغاز تھا ۔
اب ایک نظر اس طرف کہ جب یورپ بیدار ہو رہا تھا اور ان کے مردہ معاشرے میں انقلابی روح جنم لے رہی تھی تو مسلم معاشرے میں کیا ہو رہا تھا ؟آج ہم ہندوئوں کی طرح مقدس کتابوںکو دم درود اور جھاڑ پھونک کی کتاب سمجھ بیٹھے ہیں۔جب بغداد پر تاتاریوں نے حملہ کیا تو ہمارے جید علماء اس بحث میں مشغول تھے کہ سوئی کی نوک پر فرشتے بیٹھتے ہیں یا نہیں اور اگر بیٹھتے ہیں تو کتنے ؟کوئی شخص بھاگتا ہو آیا اور حملے کی خبر دی تو انہوںنے یہ کہہ کر جھاڑ پلادی کہ دیکھتے نہیں ہم کس قدر اہم گفتگو کر رہے ہیں ۔یہ معمہ سلجھا لیں پھر حملہ آوروں سے بھی نمٹ لیں گے ۔اسی طرح اٹھارویں صدی کے آخر میں جب نپولین بوناپارٹ نے مصر پر حملہ کیا تو مُراد بک کی حکومت تھی۔اس نے جامعہ ازہر کے جید علماء کو جمع کیا اور ان سے مشورہ کیا کہ اب کیا کرنا چاہئے؟جامعہ ازہر کے علماء نے متفقہ مشورہ دیا کہ فوری طور پر بخاری شریف کا ختم شروع کروا دینا چاہئے کہ انجاح مقاصد کیلئے تیر بہدف نسخہ ہے۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا لیکن ابھی بخاری شریف کا ختم مکمل نہیں ہوا تھا کہ اہرام کی لڑائی نپولین نے جیت لی اور مصر کی مسلم حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔شیخ عبدالرحمان الجبروتی لکھتے ہیں کہ انیسویں صدی کے اوائل میں جب روسیوں نے بخارا کا محاصرہ کر لیا تو امیر بخارا نے دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے بجائے حکم جاری کیا کہ تمام مدرسوں اور مساجد میں ختم خواجگان پڑھا جائے۔اُدھر روسیوں کی قلعہ شکن توپیں شہر کے حفاظتی حصار منہدم کر رہی تھیں ،اِدھر لوگ ختم خواجگان میں ’’یا مقلب القلوب ،یا محول الاحوال ‘‘کا ورد کر رہے تھے۔مغل سلطنت کے شاہی درباروں میں تو ایسے ایسے اشغال سے جی بہلایا جا رہا تھا کہ انسانیت بھی شرما جائے۔شہنشاہء عالم کی جوانی کا عالم برقرا ر رکھنے کیلئے ہندوستان کے طول و عرض میں حکماء کی تلاش جا ری ہے ،قصیدہ گوئی کے مقابلے ہو رہے ہیں ،مغنیائوں اور رقاصائوں کی اجارہ داری ہے ۔کسی رنگین مزاج بادشاہ کا دل چاہاتو اس نے خواتین کا الگ شہر بسا دیا جس میں ماسوائے شاہی خاندان کے، مردوں کا داخلہ ہی ممنوع تھا۔عالم پناہ کے محبوب تیتر اور بٹیر جن کا نام رستم و سہراب تھا ،دار فانی سے کوچ کر گئے تو ان کی یاد میں چالیس روزہ سوگ کا اعلان کر دیا گیا۔رستم و سہراب کا ذکر کرتے ہوئے نجانے کیوں آصفہ کی بلیاں یاد آ گئیں جنہیں لاہور کا موسم راس نہ آیا اور اگلے ہی لمحے تھر میں غذائی قلت کا شکار بچے ذہن میں سما گئے ۔آج بھی ہمیں ان حکمرانوں کے بے پناہ نشانات اور آثار نظر آتے ہیں ،ان کے بنائے ہوئے محلات ،ان کے شاہی باغات ،ان کے مقبرے ،ان کی محبوبائوں کے مقبرے ،یہاں تک کہ ان کے گھوڑوں کے مقبرے مگر کہیں کوئی اسپتال ،کوئی کالج ،کوئی یونیورسٹی دکھائی نہیں دیتی ۔بدقسمی سے تنزل و زوال کا سلسلہ ہنوز جاری و ساری ہے ۔آپ تو پوچھتے ہیں کہ آگے کیسے بڑھا جائے مجھے یہ فکر ہے کہ پسپائی کی رفتار کیسے کم کی جائے ۔کم ازکم امت مسلمہ نامی اس گاڑی کے پیچھے کوئی بھاری پتھر ہی لگا دیا جائے تاکہ گاڑی آگے نہ بھی بڑھے تو پیچھے جانے کا احتمال نہ ہو۔سیاسی غلبہ ہویا معاشی ترقی ،سب راستے جنگ وجدل کے بجائے علمی تحقیق کے میدان سے گزرتے ہیں ۔مگر علمی و فکری جمود کے اس دور میں ہماری جہالت سر چڑھ کر بول رہی ہے ۔حجرہ شاہ مقیم میں ایک واعظ کی جانب سے گستاخ قرار دیئے جانے پر نویں جماعت کے طالبعلم انور علی نے اپنا ہاتھ کاٹ ڈالا اور اس طالب علم کا خیال ہے کہ اس کا یہ فعل عشق رسول ﷺ کا تقاضا تھا۔سوال یہ ہے کہ عشق رسولؐ کیلئے جذبات کے بھڑکنے کی تو شاید توجیحات موجود ہیںلیکن اگر کوئی طالبان کے مبلغ نفرت کی بنیاد پر کسی کی گردن مارنے کا حکم دیںتو کیا یہ جذباتیت نہیں۔امت مسلمہ کو جذباتیت سے نکل کر عقلی دلائل کی طرف آنا چاہئے۔
تازہ ترین