آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
یہ ایک شاندار سہ پہر تھی۔ میں اپنے صوبے کی بچیوں کے پاس کھڑا غربت اور شدید مالی مسائل کے باوجود اُن کی جدوجہد اور علم حاصل کرنے کی لگن کی غیر معمولی کہانیاں سن رہا تھا۔ انہیں سن کر میرے دل میں ایک بار پھر اس ملک میں روا رکھے جانے والے طبقاتی فرق اور ظالمانہ نظام کی یاد تازہ ہوگئی ۔
غریب عوام کے لئے بنائے گئے فلاحی منصوبوں پر کبھی بے معانی بھڑک دار جملوں اور کبھی کسی عجیب و غریب جوازکو بنیاد بناکر کی جانے والی تنقید میں اضافہ ہورہا ہے ۔ شاید ملک میں امیر اور غریب کے درمیان فرق کی لکیر کبھی بھی اتنی گہری نہیں تھی۔ اور اس کی فکر لمحہ بھر کے لئے بھی میرے ذہن سے محو نہیں ہوتی ۔ یہ اس ملک ، جو سماجی مساوات اور تمام شہریوں کے لئے بلاامتیاز ترقی کے مواقع یقینی بنانے والے اصولوں کی بنیاد پر وجود میں آیا تھا، کے لئے انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ اسے نام نہاد اشرافیہ نے یرغمال بنا رکھا ہے ۔ اس سے بھی بدتر یہ کہ وہ اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کے لئے کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار ہیں، اور ایسا کرتے ہوئے وہ ملک کے پسماندہ افراد کی ضروریات کا بھی خیال نہیں کرتے ۔
ان ذہین اور ہونہار بچیوں کی باتیں سننے کے بعد میرے دل میں اپنے صوبے میں سماجی اور معاشی مساوات قائم کرتے ہوئے منفی بیانیے کو رد کرنے کی تحریک پہلے سے بھی

زیادہ توانا ہوگئی ۔ مجھے یقین ہے کہ ایک نظام جو دس فیصد اشرافیہ کو 90 فیصد عوام پر من مانی کرتے ہوئے اپنی مرضی مسلط کرنے کی اجازت دیتا ہے ، وہ دیر تک نہیں چل سکتا۔ چنانچہ ہمارا عزم ایک فلاحی معاشرے کا قیام ہے جو غریب افراد کی نگہداشت کرسکے ۔ اگر سر پر منڈلانے والے ہنگامہ خیز انقلاب کا دروازہ بند کرناہے تو ہمیں اپنے ملک میںاجارہ داری، مفاد پرستی اور ناانصافی کی گہری جڑوںکو اکھاڑ پھینکنا ہوگا۔اگر معاشرے کے خوشحال طبقوں نے یہ احساس نہ کیا کہ ملک کے نوجوانوں کو ہماری ضرورت ہے تو ان غربت زدہ نوجوانوں کا احساس ِ محرومی ایک ایسا ٹائم بم ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے ، اور ہمارے ہاتھ سے وقت نکلا جارہا ہے ۔ اگران استحصال زدہ افراد کے زخموں پر مرہم رکھنے میں اشرافیہ نے میری حمایت کی توہم انہیں واپس ملکی دھارے میں شامل کرنے کی امید کرسکتے ہیں۔
اس مقصد کے حصول کے لئے سب سے موثر اقدام تعلیم ، خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم پر سرمایہ کاری ہے۔ ہمارا عظیم مذہب، اسلام خواتین کی تعلیم کی تاکید کرتا ہے ۔ جب اسلام اہل ایمان کو علم حاصل کرنے کا حکم دیتا ہے تو وہ مرد اور عورت میں تخصیص نہیں کرتا ۔ یہ بات قرآن مجید اور حدیث سے ثابت ہے علم حاصل کرنا عورتوں کے لئے بھی اتنا ہی ضروری ہے جتناکہ مردوںکے لئے۔ رسول ِ پاک ﷺ نے لڑکیوں کو تعلیم اور تربیت فراہم کرنے اور اس مقصد کے لئے خصوصی انتظامات کرنے کی ہدایت فرمائی ہے ۔
میں ایوان ِ اقبال کمپلیکس میں ’’خادم ِاعلیٰ زیور ِ تعلیم پروگرام‘‘شروع کرنے کے موقع پر سینکڑوں لڑکیوں کی غیر معمولی کہانیاں سنتے ہوئے حیرت سے سوچ رہا تھا کہ ہمارے نوجوان کس قدر ارفع صلاحیتوں کے مالک ہیں، اور اگر درست محرکات اور اور ساز گار ماحول میں ان کی صلاحیتوں کو پروان چڑھایا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمارا ملک ترقی کے راستے پر گامزن نہ ہوسکے۔ لڑکیوں میں شرح ِ خواندگی بڑھانے کے ساتھ ساتھ اُن کے گھرانوں کی سماجی اور معاشی معاونت کرنے کے عمل میں ’’زیور ِ تعلیم پروگرام ‘‘ ایک اہم پیش رفت ہے ۔ حکومت ِ پنجاب اس مقصد کے لئے سالانہ چھ بلین روپے فراہم کرے گی اور ان وسائل سے 460,000 طالبات استفادہ کریں گی۔ اس پروگرام کے تحت سیکنڈری اسکول کی طالبات کو فراہم کیے جانے والے وظیفے کو 200 روپے سے بڑھا کر 1000 روپے کردیا گیا ہے ۔ اس پروگرام کو پنجاب کے اُن 16 اضلاع میں شروع کیا گیا ہے جہاں بچیوں کے تعلیم حاصل کرنے کا گراف بہت پست تھا۔
میں یہ بات پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ طالبات میں وظائف کی تقسیم کا عمل ہر قسم کی غلطیوں سے پاک ہے ۔ اس مقصد کے لئے مواد کی مختلف مراحل پر جانچ کرنے اور اسےا سکول سے حاصل ہونے والے مواد سے مربوط کرنے کے لئے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ٹولز کا استعمال کیا جارہا ہے ۔ یہ عمل انتہائی شفاف اور مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر ہے ۔’’زیور ِ تعلیم پروگرام ‘‘طالبات کے اسکولوں میں داخلے کی شرح کو بڑھانے اور انہیں تعلیمی میدان میں آگے بڑھنے کے لئے د و ضروری امور کا خیال رکھتا ہے : ایک تو غریب لڑکیوں کی کفالت کرنا اور دوسرا، انہیں بہترخوراک فراہم کرنا ہے ۔ اس مقصد کے لئے ہونے والی عملی تحقیقات سے استفادہ کیا جارہا ہے ۔
یہ پروگرام ہمیںبانی ٔ پاکستان کے تصور کی تکمیل کے قابل بنائے گا، نیزمعتدل مزاج، انسان دوست، معاشی طور پر خوشحال اور بلند اخلاقی اقدار پر عمل پیرا معاشرے کا قیام عمل میں لانے میں معاون ثابت ہوگا۔ حالیہ تاریخ میں صرف سات برسوں کی قلیل مدت میں ایک ریاست(پاکستان ) کی تخلیق ہماری خواتین کی حیرت انگیز جدوجہد کا زندہ معجزہ ہے جس نے قائد ِاعظم ، محمد علی جناحؒ کی ولولہ انگیز قیادت میں علامہ اقبال ؒ کے خواب کو حقیقت میں بدل دیا۔ میں یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اگر محترمہ فاطمہ جناح، بیگم شاہنواز، سلمیٰ تصدق حسین اور بیگم رعنا لیاقت علی خان آزادی کی جدوجہد میں ہراوّل دستے کا کردار ادانہ کرتیں تو ہمیں آزادی نصیب نہ ہوتی ۔ میرے وطن نے بہت سی خواتین کو قانون سازی، طب ، وکالت، انصاف، تعلیم، تبلیغ، سفارت کاری اور بزنس اور معیشت میں قائدانہ کردار ادا کرتے دیکھا ہے ۔
ہمیں اپنے سماجی جمود کو توڑنے اور معاشرے کی مثبت تخلیقی صلاحیتوں کوفعال کرنے کے لئے اپنی بچیوں اور خواتین کی حوصلہ افزائی کرنی ہوگی کہ وہ آگے آکر اپنا کردار ادا کریں۔ اس مقصد کے لئے ضروری ہے کہ اُن کے بھائی ، شوہر اور والدین اُن کا حوصلہ بڑھائیں کہ یہ ان کا حق ہے ۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم جامد تصورات سے آگے بڑھ کر ہر اُس شخص اور نظریے کو شکست دیں جو لڑکیوں کی تعلیم کی مخالفت کرتا ہے اوران کے اسکولوں کو بموں سے اُڑانے کے لئے مسخ شدہ تصورات کی ترویج کرتے ہوئے دہشت گرد تیار کرتا ہے ۔ لازمی ہے کہ ہم اپنے عظیم مذہب کی سچی ہدایت کے مطابق لڑکیوں کو تعلیم دینے کا احسن فریضہ سرانجام دینے کے لئے پوری استقامت سے کھڑے ہوں۔
ابتدائی اور ثانوی درجوں پر لڑکیوں کی تعلیم پر سرمایہ کاری کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ ہمارے ملک میں خواتین کی تعداد آبادی کے نصف سے زیادہ ہے ۔ اُنہیں تقویت دینے کا مطلب ملک کو ترقی کی راہوں پر گامزن کرنا ہے ۔ اُنہیں آنے والے کل کے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے اور ملک کی سماجی اور معاشی ترقی میں اپنا موثر کردار ادا کرنے کے قابل بنانا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے ۔ ’’زیور ِ تعلیم ‘‘ ایک ملک گیر تحریک کا نام ہے ۔ صرف تعلیم کی ڈھال ہی دہشت گردی ، انتہا پسندی، جہالت اور پسماندگی کے خلاف ہمارا تحفظ کرسکتی ہے ۔
اس وقت حقیقی اور دیرپا تبدیلی کی کھیتی کاشت کی جارہی ہے ۔ آئیے اس بات کو یقینی بنائیں کہ یہ منصوبہ ثمر بار ثابت ہوگا۔ لڑکیوں کو تعلیمی وظائف کی فراہمی اس سلسلے کا ایک اہم قدم ہے ۔ اب ہمیں اس کے دائرے کو وسیع کرتے ہوئے باقی اضلاع کی بچیوں کو بھی ان وسائل سے استفاد ہ کرنے کے قابل بنانا ہے ۔ میں اس مضمون کا اختتام ایک افریقی کہاوت پر کرنا چاہوں گا۔۔۔’’اگر آپ ایک آدمی کو تعلیم دیتے ہیں تو آپ ایک فرد کو تعلیم دیتے ہیں، لیکن اگر آپ ایک عورت کو تعلیم دیتے ہیں تو آپ پوری قوم کو زیور ِتعلیم سے آراستہ کرتے ہیں۔‘‘



.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں
محمد شہباز شریف…وزیراعلیٰ پنجاب سے مزید