جنرل اشفاق پرویز کیانی سے بجا طور پر قومی زندگی کے مختلف میدانوں میں بہ سمیت آرمی بہت سی اصلاحات کرنے کی توقع کی جاتی ہے لیکن مقام افسوس ہے کہ ان کے عہد میں بھی بڑے بڑے آرمی آفیسرز اور سول بیوروکریٹ فوجی زمینوں کے غریب الاٹیز پر بدستور مظالم کر رہے ہیں۔ ان لوگوں کو ہراساں کیا جارہا ہے، زمینوں سے ماتحت عدلیہ کے افسروں کی مدد معاونت یا Connivance سے ان زمینوں سے بے دخل کیا جارہا ہے جو پشت ہا پشت سے ان کے قبضے میں ہیں اور جو ان کا واحد ذریعہ روزگار ہیں۔ انگریز نے تو اپنی استعماری ضروریات کے تحت زرعی زمینیں الاٹ کرنے کا معمول اپنایا تھا لیکن ان کے چلے جانے کے بعد بھی حکمرانوں کے معمولات جاری ہیں اور وہ انگریزوں کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ یعنی وہی ہے چال بے ڈھنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے۔ اقبال # نے کہا تھا:
دہقاں ہے کسی قبر کا اُگلا ہوا مُردہ
بوسیدہ کفن جس کا ابھی زیر زمیں ہے
جاں بھی گِرَوِ غیر، بدن بھی گِرَوِ غیر
افسوس کہ باقی نہ مکاں ہے نہ مکیں ہے
یورپ کی غلامی پہ رضامند ہوا تو
مجھ کو تو گلہ تجھ سے ہے، یورپ سے نہیں ہے!
اقبال# نے کس قدر درست کہا تھا لیکن جس طرح ہم نے اقبال# کی دوسری تعلیمات کو پامال کرنا اپنا معمول بنا رکھا ہے اسی طرح دہقاں کے بارے میں اس کی تعلیم کو ہم پامال کر رہے ہیں۔ بانی ٴ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے کہا تھا ”میں بڑھاپے میں اس لئے جدوجہد نہیں کر رہا کہ سرمایہ داروں اور اعلیٰ سول اور فوجی بیوروکریسی کو ملک کے وسائل لوٹنے کاموقع ملے بلکہ میری جدوجہد اس لئے ہے کہ میں غریبوں،محتاجوں ، بیواؤں، یتیموں اور محروم الوسائل خواتین کی مدد کرسکوں۔“ خلیفہ ثانی حضرت سیدنا عمر فاروق نے کہا تھا ”زمین اس کی ہے جو وہاں کاشتکاری کرے“ انہوں نے غیرحاضر مالکان کا کوئی حق زمین کی آمدنی میں تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ خود ہادی برحق نے اپنا کل اثاثہ اپنے خالق و مالک اور رب رحیم کے پاس جانے سے پہلے غریبوں میں تقسیم کر دیا تھا حتیٰ کہ آپ کی رحلت کے وقت گھر میں چراغ جلانے کے لئے تیل بھی موجود نہ تھا۔ آپ کی ازواج مطہرات اور صحابہ اکرام کا بھی معمول تھا کہ گھر آئے مہمان کو کھانا کھلائے بغیر جانے نہ دیتے تھے حتیٰ کہ مہمان کو بے خبر رکھنے کے لئے کہ وہ خود کھانا نہیں کھا رہے، اپنے گھر کا چراغ بجھا دیتے تھے تاکہ وہ بے خوف و خطر پیٹ بھر کر کھانا کھالے۔ یہ ہمارے اسلاف کا طریقہ تھا۔خلفائے راشدین نے حتی الوسع نبی آخر الزمان کی سنت اور معمول پر عمل کیا۔ قرآن حکیم کہتا ہے کہ :
”مومن غریبوں اور محروموں اور حاجت مندوں کو اپنی جان پر ترجیح دیتے ہیں خواہ وہ خود تنگ دست ہوں۔“ حضرت عمر بن عبدالعزیز جنہیں پانچواں خلیفہ راشد کہا جاتا ہے اپنا منصب سنبھالنے سے پہلے اس قدر مالدار تھے کہ ان کے خزانوں کی چابیاں اونٹوں کی قطار پر لاد کر لے جائی جاتی تھیں لیکن منصب خلافت سنبھالنے کے بعد انہوں نے فقیرانہ زندگی اختیار کرلی ۔ جب سرکاری کام ختم ہو جاتا تو لیمپ بجھا دیتے اور خود تیل وغیرہ جلا کر اس کی روشنی میں ذاتی کام کرتے۔ایک دفعہ کھانے میں ان کی زوجہ محترمہ و مطہرہ نے انہیں کچھ میٹھا پیش کیا۔ آپ نے پوچھا یہ کیسے بنا ہے؟ زوجہ محترمہ نے بتایا کہ روزانہ کے بیت المال سے ملنے والے راشن میں سے چٹکی چٹکی آٹا بچا کر یہ میٹھا بنایاہے۔آپ نے اسی وقت حکم دیاکہ کل سے بیت المال سے اتنا راشن کم آیا اور ملا کرے گا جتنا آپ نے حلوہ بنانے پر صرف کیاہے۔ہم اپنے اسلاف کی سادہ مزاجی اور سادہ روی کی کتنی مثالیں دیں سب کا وہی معمول تھا جو حضرت عمر بن عبدالعزیز کا تھا۔ خلفائے بنی امیہ اور بنی عباس کانپ کانپ جاتے تھے جب انہیں احساس ہوتا کہ وہ سید کونین نبی رحمت کے کسی اسوہ یا حکم یاہدایت کی پیروی نہیں کررہے۔ دور کیوں جایئے مغلیہ خاندان کے آخری بڑے حکمران اورنگزیب عالمگیر ٹوپیاں سی سی کر اور قرآن مجید کی کتابت کرکے اپنی ضروریات پوری کرتے تھے۔ہمارے اپنے بانی پاکستان حضرت قائداعظم علیہ الرحمة ایک ایک پائی کا حساب رکھتے تھے اور جہاں بھی کوئی غلطی کرتا اورقائداعظم کے اندازے سے زیادہ خرچ کردیتا تو اس کی سخت بازپرس کرتے۔ ان کے سیکرٹری جناب کے ایچ خورشید ان کی ہدایات پرسختی سے عمل کراتے۔ ایک روزقائداعظم نے کھانا بڑی رغبت سے کھایا اور پوچھا یہ کس نے بنایاہے؟ آپ کوبتایا گیا کہ آپ کاایک پرانا باورچی تھا جو آپ کے مزاج اور ذوق کو سمجھتا تھا یہ کھانا اسی نے بنایاہے۔ قائداعظم سخت ناراض ہوئے اورپوچھا کہ اس کو آپ نے کس کی اجازت سے بلایا تھا۔ قائداعظم کی ہمشیرہ مادر ِ ملت محترمہ مس فاطمہ جناح خاموش رہیں۔ آپ نے حکم دیا کہ اس کو ابھی واپس بھیجو اوراس کی آمد و رفت پر اٹھنے والے اخراجات میری جیب سے ادا کرو۔ قائداعظم کی کس کس ادا کا ذکر کیاجائے۔ ایک دفعہ آپ ڈھاکہ کے انتہائی ضروری سفر پر جانا چاہتے تھے۔ آپ کو بتایا گیا کہ حکومت ِ پاکستان کے پاس جو جہاز ہیں وہ ایک ہی پرواز میں ڈھاکہ نہیں پہنچ سکتے۔ اس کے لئے ایک بڑے جہاز کا انتظام کرنا پڑے گا۔ قائداعظم رحمة اللہ علیہ نے کہا میں اس غریب ملک کا پیسہ نئے جہاز کا انتظام کرنے پر خرچ نہیں کرنا چاہتا۔ قائداعظم کے سٹاف نے کہا اس کے بغیر آپ ڈھاکہ نہیں جاسکیں گے۔ قائداعظم نے کہا اسی جہازپر دوفیول ٹینک (Fuel Tanks) لگا دو میں اسی جہاز میں جاؤں گا۔ میں ہندوستان میں اترنا نہیں چاہتا چنانچہ قائداعظم اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر اسی جہاز سے ڈھاکہ گئے۔ قائداعظم ایوان صدر کے اخراجات پر کڑی نظر رکھتے اور کسی کو ان سے تجاوز کی اجازت نہ دیتے۔ فالتو بتیاں بند کروا دیتے۔اپنے کپڑوں پراٹھنے والے اخراجات کا باقاعدہ حساب رکھتے اور کسی کو ان سے تجاوز کرنے کی اجازت نہ دیتے۔ مادر ِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کو سختی سے ہدایت تھی کہ اخراجات پر نظر رکھیں اور جو بھی خلاف ورزی کرے اس کی سخت باز پرس کی جائے۔ آپ نے بمبئی یا ممبئی میں ماؤنٹ پلیزنٹ کے نام سے کوٹھی بنوائی اس کے اخراجات کی ایک ایک شق پر کڑی نظر رکھی۔ مزدوروں اور کاریگروں اور کوٹھی کا سامان مثلاً فرنیچر، پردے فراہم کرنے والوں سے پوری سختی سے حساب کتاب ٹھیک رکھنے پر اصرار کیا۔ مادر ِ ملت محترمہ فاطمہ جناح اور جناب کے ایچ خورشید کو ہدایت تھی کہ ان کی ہدایات سے تجاوز نہ ہونے پائے ۔ اوپر ممبئی یا بمبئی میں آپ کی کوٹھی ماؤنٹ پلیزنٹ کا ذکرہوا۔ آپ کا ارادہ تھا کہ قیام پاکستان کے بعد وقتاً فوقتاً اس میں آ کر رہا کریں گے۔ ان کا خیال تھا کہ ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات ویسے ہی ہوں گے جیسے امریکہ اور کینیڈا کے ہیں لیکن ہندو کی تنگ دلی اور سنگدلی کی وجہ سے قائداعظم کو اپنا یہ ارادہ پوراکرنے کا موقع نہ مل سکا اوروہ پھر کبھی ماؤنٹ پلیزنٹ میں نہ ٹھہر سکے۔ لیکن اس کی یاد ہمیشہ ان کے دل میں رہی اور ان کے مرض الموت میں جب ان کی صاحبزادی ان سے ملنے آئیں تو ان سے بھی قائداعظمنے ماؤنٹ پلیزنٹ سے اپنی قلبی وابستگی کا ذکر کیا لیکن ان کی قسمت اور تقدیر میں وہاں مزید رہنا نہیں تھا۔
بات میں نے یہاں سے شروع کی تھی کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سے بجاطور پر قومی زندگی کے مختلف میدانوں میں بشمول آرمی بہت سی اصلاحات کرنے کی توقع کی جاتی تھی لیکن مقام افسوس ہے کہ ان کے عہد میں بھی بڑے بڑے آرمی آفیسرز اور سول بیوروکریٹ فوجی زمینوں کے غریب الاٹیز پر بدستور مظالم کر رہے ہیں۔ ان لوگوں کو ہراسا ں کیا جارہاہے۔ زمینوں سے ماتحت عدلیہ کے افسروں کی مدد معاونت یا Connivance سے ان زمینوں سے بے دخل کیا جارہاہے جو پشت ہا پشت سے ان کے قبضے میں ہیں اور جو ان کا واحد ذریعہ روزگار ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ جنرل کیانی سے جو توقعات وابستہ کی گئی تھیں وہ انہیں پورا کرنے میں کامیاب رہیں گے۔ بہتر ہوگا کہ جنرل کیانی اس خبر کابھی نوٹس لے لیں کہ اسلام آباد میں اربوں روپے مالیت کی زمین ایک گولف کلب قائم کرنے کے لئے دی گئی تھی۔