• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آخری عام انتخابات کو چارسال ہوگئے اوریوں رواں پانچ سالہ میعاد کا آخری سال شروع ہوگیا ، تما م وفاقی وصوبائی حکومتوں کی الٹی گنتی یعنی کائونٹ ڈائون شروع ہوچکا۔ حکمرانوں کے لئے پلک جھپکتے ہی ان کے اقتدارکے دن ختم ہوگئے۔ وہ کہتے ہیں پتہ ہی نہیں چلا۔ اور وقت پورا ہوگیا لیکن وہ نہیں جانتے کہ ان کے وعدوں کے انتظار میں گرم توے پر چٹختے مکئی کے دانوں کی مانند ان کا انتظار کرنے والے لوگوں پر یہ وقت کتنا طویل اور بھاری گزرا۔کہتے ہیں ہر کسی کو وقت گزرنے کا احساس اس کے حالات کے مطابق ہوتا ہے جیسے باغ میں بیٹھے شخص سے جب اس کے محبوب نے کہا کہ بس اب چلتے ہیں شام ہوگئی تو اس نے کہا اتنی جلدی؟ ابھی تو آئے ہیں تو اس کے محبوب نے کہا کہ آئے تو صبح سے ہیں بس آپ کو ہی وقت گزرنے کا احساس نہیں ہو پایا، اس کے مقابل ایک دوسرے شخص کو جب بادشاہ نے دس سیکنڈ تک گرم توے پر بٹھانے کی سزا دی اورسزا کے بعد کسی نے اس سے پوچھا کہ وقت کیسے گزرا تو اس کا کہنا تھا دس صدیاں تھیں جو بیت کے ہی نہیں دے رہی تھیں۔ یہی حال ہمارے ہاں حکمرانوں اورعوام کا بھی ہے کہ دونوں پر وقت ان کے حالات کے مطابق گزر رہا ہے۔
اب سب اہل اقتدار ایک بار پھر منتخب ہونے کے لئے جان کی بازی لگا رہے ہیں اور لوگوں کو یقین دلا رہے ہیں کہ انہیں اس بار ٹھیک طرح سے کام کرنے کا موقع نہیں ملا۔ یا انہیں ان کے حصے کے وسائل نہیں دیئے گئے ورنہ وہ تو لوگوں کی زندگی بدلنے کے اپنے عزم پر قائم ہیں۔
خیبر پختونخوا میں لوگوں نے آخری مرتبہ بھی اپنی روایت برقرار رکھی اور تمام جماعتوں کو مسترد کرکے ایک نیا تجربہ کیا اور اپنے غموں کا مداوا اور ترقی کی خواہش میں عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کو وہ موقع دے دیا جس کا اس جماعت کو کافی عرصے سے انتظار تھا۔ اس صوبے کے مہم جو مزاج لوگ اس سے پہلے بھی ایسے کئی تجربے کرچکے ہیں وہ ہر بار نئی جماعت کو ووٹ دیتے ہیں اس سے پہلے وہ 2002کے عام انتخابات میں چلنے والی خاص۔ ’’ہوا‘‘ کے نتیجے میں دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے غریب آئمہ مساجد اور گاڑیوں و ایئرکنڈیشنڈ ہالوں سے ناواقف لوگوں کو ووٹ دے چکے تھے، یہاں کے لوگوں نے یہ کام پیشہ ور سیاستدانوں سے انتقام لینے کے لئے کیا تھا اوران کے مقابلے میں دینی جماعتوں کے ان غریبوں کو منتخب کراکے اپنے حصے کا انقلاب برپا کیا تھا، لیکن لوگوں نے ان کو بھی چلتا کردیا اور اگلی بار لوگوں نے دینی جماعتوں پر زمین تنگ کرکے ان کو چند حلقوں تک محدود کردیا۔ یہاں کے لوگوں نے 2008 میں یہ باری اے این پی اور اس کی اتحادی پیپلز پارٹی کو دی۔ قوم پرستوں اور جمہوریت پسندوں کے اس پانچ سالہ دور اقتدار میں بدعنوانی سے ملتے جلتے الفاظ کا چرچا رہا۔ درجن کے قریب اعلیٰ تعلیمی ادارے مفاد عامہ کیلئے کھولے گئے لیکن نوکریاں ریوڑیوں کی طرح بیچی جاتی رہیں۔ آخر کار جب ان سے بھی عوام کو اپنے مسائل کا حل نہ ملا تو 2013میں سارا زور تحریک انصاف کو جتوانے پر لگا دیا۔ لیکن یہ وقت پہلے کے مقابلے میں ذرا مختلف تھا کہ اس بار لوگوں کو صرف انتقام نہیں لینا تھا بلکہ ان کے سامنے عمران خان کی جانب سے بار بار دہرایا جانے والا پروگرام بھی تھا۔ اس پروگرام کے نعروں نے لوگوں کی توقعات کو آسمان پر چڑھا دیا۔ اس ایک بار تو لوگوں نے عمران خان کی جماعت کو ووٹ دے دیا لیکن اب دوسری بار کے لئے تحریک انصاف بھی پریشان ہے کہ وہ صرف قانون سازی اور کرپشن نہ کرنے کے نام پر ہی لوگوں سے ووٹ کیسے لے گی؟ بات بڑی آسان ہے۔ تحریک انصاف نے لوگوں کے لئے جو کچھ کیا۔ اسے کسی صورت تبدیلی نہیں کہا جاسکتا اور وہ اتنا بھی غیرروایتی نہیں کہ لوگ اس کی بنیاد پر اس جماعت کو دوبارہ ووٹ دے دیں۔ تاہم تحریک انصاف والے انتخابات جیتنے کے بہت سے داؤ پیچ سیکھ گئے ہیں۔ تحریک انصاف نے جتناکچھ کاغذوں میں کیا۔ زمین پراس کا وجود نہ ہونے کی بدولت اس جماعت کے لئے یہ مشکل ہورہا ہے کہ لوگوں کو کیسے سمجھائیں کہ وہ کیا تبدیلی لے کر آئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صوبائی حکومت خصوصااس کے وزیراعلی پرویزخٹک پریشان ہیں کہ وہ کچھ ایسا کرجائیں کہ لوگ ان کی حکومت کی کارکردگی پرسوال اٹھاناچھوڑدیں۔وہ چاہتے ہیںکہ پشاورمیں چلنے کے لئے ریپڈ بس کا بی آرٹی منصوبہ کم ازکم شروع ہی کرسکیں تاکہ لوگوں کو یقین دلایا جاسکے کہ اس آخری سال توتحریک انصاف کی حکومت ان کے لئے کچھ کرکے ہی جائے گی اورایسا کرکے وہ دوبارہ بھی حکومت میں آسکے گی۔وزیراعلیٰ کی اس حوالے سے بے چینی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ انہوںنے عالمی اداروں کے نمائندوں کے سامنے اجلاس کے دوران افسران بالا کو کھری کھری سنادی کہ چھ ماہ کے اندر ہی بی آرٹی پر چارسوبسوں کو دوڑنا چاہئے یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پچھلے چارسالہ دوراقتدار کے دوران وزیراعلیٰ اور دیگر سب وزیروں نے اپنے اپنے حلقوں پرتوجہ مرکوزرکھی لیکن ان سے بھی وہی غلطی سرزد ہو ہی گئی کہ ان سے صوبے کا دارالحکومت پشاور نظرانداز رہ گیا اوراب وہ اس اجڑے شہراقتدار کے لوگوں کے لئے کچھ کرکے دوبارہ حکومت میں آنے کے چکر میں ہیں ۔لیکن شاید کسی بڑے منصوبے پرکام شروع کرکے اسے مکمل کرنے کا وقت ان کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔صوبے کے وزیراعلیٰ کچھ حوالوں سے خوش قسمت بھی ہیں کہ انہیں مسلم لیگ ن کے سواکسی جماعت سے زیادہ ٹف ٹائم ملنے کی توقع نہیں۔ ورنہ دیگر بڑی جماعتیں جمعیت علما اسلام، اے این پی اورپیپلزپارٹی کسی کے ساتھ اتحاد نہ کریں توشاید ان کے ہاتھ قابل ذکرکچھ بھی نہ آئے۔ دوسری جانب صوبائی حکومت کی اتحادی جماعت اسلامی اورقومی وطن پارٹی پہلے سے ہی تحریک انصاف کی قربت میں ہیں۔ جو بھی ہو۔ سیاسی میدان میں تو تحریک انصاف کو کوئی بڑا چیلنج درپیش نظرنہیں آرہا۔ہاں کارکردگی کے میدان میں ابھی اس کے ہاتھ خالی ہیں اوراسے انتخابات سے پہلے ہر صورت کسی ایک یا دوبڑے ترقیاتی منصوبوں کی ضرورت ہوگی جن کو وجود ملتے ہی وہ حقیقت کے روپ میںسامنے آسکیں ورنہ خیبرپختونخوا کے لوگوں کی تاریخ کہتی ہے کہ وہ خالی ہاتھ لوگوں کو دوبارہ ووٹ نہیں دیا کرتے۔

 

.

تازہ ترین