• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے

After The Sun In Sindh The Wind Power Project Started

کوئلے کے بعد اب ہوا سے بجلی پیدا کرنےکے منصوبے گھارو اور جھمپیر میں لگائے جاچکے ہیں جس کے بعد امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ آئندہ سالوں میں 17ہزار میگاواٹ بجلی کو قومی گرڈ میں شامل کیا جا سکے گا۔

چھ سو اسی ایکڑ زمین پر مشتمل یہ منصوبہ کراچی سے دو گھنٹے کی مسافت پر لگائے گئے ہیں جن کی تعداد میں اضافہ بھی کیا جارہا ہے۔ ان منصوبوں سے 11000میگاواٹ بجلی بنائی جائے جس سے ملک میں موجود توانائی بحران پر قابو پایا جاسکے گا ۔


نمائندہ ’’جنگ ‘ ‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انرجی انجینئر زبیر انور خان نے بتایا کہ’ 2006 میں ہوا سے بجلی بنانے کا منصوبہ ڈائریکٹر متبادل توانائی ترقیاتی بورڈ نسیم نے شروع کیا تھاجس میں رینیو ایبل انر جی کے نام سے چند ٹربائن لگائے گئے تھے ۔

انہوں نے بتایا’ سب سے پہلے 3 ٹربائن جھمپیر میں لگائے گئے تھے جن سے 50 میگاواٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ سب سے پہلا منصوبہ سال 10- 2009 میں مکمل ہوا تھا جس سے 56 میگا واٹ بجلی حاصل ہونے لگی تھی ۔ ان کا کہنا تھا کہ 2012 میں اسی طرح کے اور دیگر منصوبے لگائے گئے تھے ۔

ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ سی پیک کے تحت ابھی تک 2 منصوبے لگائے جا چکے ہیں جبکہ ابھی مزید لگائے جا ئیں گے ۔

منصوبے کے فوائد کے بارے میں بتاتے ہوئے زبیر انورخان کا کہنا تھا کہ اس کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ ماحول میں آلودگی نہیں پھیلتی جبکہ یہ قدرت کی طرف سے عطاکیا ہوا ایک عظیم تحفہ ہے جسے کہیں سے خریدنا نہیں پڑتا ۔ مناسب ریٹ میں بروقت بجلی حاصل کی جا سکتی ہے ۔

اس کے علاوہ انہوں نے بتا یا کہ ’’ جھمپیر اور گھارو پسماندہ علاقے ہیں جہاں اس منصوبے کی وجہ سے علاقے کو ترقی ملے گی اور یہ علاقہ مزید ترقی کرے گا ۔

ملک میں 23000میگا واٹ تک بجلی پیدا کی جا سکتی ہے مگر ما ہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے حساب سے5ہزار میگاواٹ بجلی کے شارٹ فال کا سامنا رہتا ہے ۔

سی پیک توانائی منصوبوں سےامید کی جاتی ہے کہ کچھ سالوں میں 17ہزار میگاواٹ بجلی کو قومی گرڈ میں شامل کیا جا ئے گاجس سے توانائی کے بحران کو کم کرنے میں مدد ملے گی ۔

ورلڈ وائنڈ انرجی ایسوسی ایشن کے ساتھ کام کرنے والے ایک تجزیہ کار ذیشان اشفاق نے بتایا کہ ’’ پاکستان کے گرڈ اسٹیشنوں میں اس وقت شمسی توانائی سے زیادہ ہواکے ذریعے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے ۔

تازہ ترین