برسات کے اس بھر پور موسم سے کراچی کے علاقے ملیر کے کا شت کار بہت خوش تھے لیکن ان کی یہ خوشی سندھ کے محکمہ آب پاشی کے حکام کی نااہلی اور بدعنوانیوں کی نذر ہوگئی ۔
ملیر ندی کے پشتے پر بیٹھےکاشت کار بڑی حسرت سے اس برساتی پانی کو سمندر کی نذر ہوتے دیکھ رہے ہیں جو ان کیلئے زندگی اور خوش حالی کا پیغام لایا تھا۔
اس برس کراچی میں مون سون کی برسات جم کر ہوئی،ملیر کے کاشت کار بہت خوش تھے کہ ان کے پاس ڈیڑھ دو سال کا پانی ذخیرہ ہوگیا ہےلیکن یہ خوشی بہت عارضی ثابت ہوئی ۔
کراچی کا دیہی علاقہ ملیر سبزی اور پھلوں کے باغات کی وجہ سے مشہور ہے، ایک دور تھا جب اس کے درمیان سے گزرنے والی ملیر ندی کے سینے پر سارا سال صاف شفاف پانی بہتا تھا۔
اب ریتی اور بجری کی چوری کے سبب حالت یہ ہے کہ سو فٹ کی گہرائی میں بھی پانی مل جائے تو غنیمت ہے، برسات کو کاشت کار اپنے لئے قدرت کا انعام سمجھ رہے تھے جو اب ان سے چھن چکا ہے۔
یہ پشتہ دوسری مرتبہ ٹوٹاہے، ہر مرتبہ مقامی لوگوں نے ناقص تعمیر کی نشاندہی کی لیکن حکام نے ان پر توجہ نہیں دی۔
ملیر کے کاشت کار پانی کے اس ذخیرے کی تباہی کا ذمہ دار محکمہ آب پاشی سندھ کے حکام کو سمجھتے ہیں، جن کی نااہلی اور کرپشن کی وجہ سے وہ قدرت کے اس عظیم تحفہ سے محروم ہوگئے ۔