• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایف بی آئی ڈائریکٹر کاش پٹیل عوامی مقامات میں بھی نشے میں دھت رہتے ہیں: رپورٹ میں دعویٰ

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

ایک بین الاقوامی میڈیا رپورٹ میں امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ واشنگٹن ڈی سی کے مختلف مقامات پر متعدد بار نشے کی حالت میں دیکھے گئے اور بعض اوقات وہ حکومتی عملے کی موجودگی میں بھی غیر معمولی کیفیت میں پائے گئے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق کاش پٹیل نے ایک موقع پر اپنے قریبی معاونین کو یہ بھی بتایا کہ اِنہیں وائٹ ہاؤس سے برطرف کر دیا گیا ہے جس کے بعد اِن کے رویے کو بعض عینی شاہدین نے ’شدید گھبراہٹ سے دو چار‘ قرار دیا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ان کے طرزِ عمل کے باعث وہ خود بھی اس خدشے کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ اِن کی پوزیشن خطرے میں ہے، بعض سابق اور موجودہ اہلکاروں کے مطابق ان کی بے چینی کی بڑی وجہ اِن کا ذاتی برتاؤ بتایا جاتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض مواقع پر اِنہیں اس حد تک نشے کی حالت میں دیکھا گیا کہ وہ بظاہر ہوش و حواس میں نہیں تھے۔

رپورٹس کے مطابق ان کے ابتدائی دور میں کچھ اجلاس رات کے بعد دوبارہ شیڈول کیے گئے جبکہ بعض مواقع پر سیکیورٹی اہلکاروں کو دروازے کھولنے کے لیے خصوصی اقدامات بھی کرنا پڑے۔

رپورٹ میں ان کے رویے کو ’غیر متوازن، دوسروں پر شک کرنے والا اور بغیر ثبوت جلدی نتیجہ اخذ کرنے والا‘ بھی قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ سامنے آنے کے بعد ایف بی آئی کی ترجمان ایرکا نائٹ نے ان الزامات کو ’من گھڑت‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس پر قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب کاش پٹیل نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس رپورٹنگ پر عدالت جائیں گے، انہوں نے اس رپورٹ کو ’جعلی خبر‘ قرار دیا ہے۔

اُنہوں نے صحافیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے کا اشارہ بھی دیا ہے۔

ان کے وکیل جیس بنال نے بھی ایک خط جاری کرتے ہوئے رپورٹ کے زیادہ تر دعوؤں کو ’بے بنیاد اور ہتک آمیز‘ قرار دیا ہے۔

خاص رپورٹ سے مزید