• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
میکسیکو میں گزشتہ 43 برس سے گدھوں کا دن منایا جاتا ہے۔ گزشتہ روز گدھوں کے اعزاز میں جو سالانہ میلہ منعقد کیا گیا‘ اس میں گدھوں کے مالکان نے انہیں خوبصورت لباس پہنائے ۔ ان کی تفریح کے لئے کھیلوں کا انتظام کیا گیا اور مالکان نے گدھوں کی کیٹ واک بھی کرائی۔ میکسیکو ہماری طرح کا ایک ملک ہے‘ جہاں بدانتظامی اور غریبی عام ہے۔ مگر وہاں کے لوگ زیادہ حوصلہ مند واقع ہوئے ہیں۔ وہ نہ صرف گدھوں کی بالادستی سے واقف ہیں بلکہ ہر سال ایک تقریب میں انہیں خود سے اچھے ملبوسات پہنا کر ‘ ان کے ”خرغمزے“ بھی برداشت کرتے ہیں۔ خرگردی ہمارے ملک میں بھی کم نہیں۔ کونسا شعبہ ایسا ہے‘ جہاں گدھوں کو بالادستی حاصل نہیں ہے۔ مگر ہم اس کا اعتراف کرنے میں بخل سے کام لیتے ہیں۔ مجھے میکسیکو میں شرح تعلیم کی تفصیل معلوم نہیں۔ مگر اندازہ ہے کہ وہاں پر گدھوں کی تعداد ہم سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ وہ تھوڑے گدھوں کے ساتھ اپنے ذوق نفاست کا اظہار باقاعدہ میلے لگا کے کرتے ہیں‘ ہم ایسا کیوں نہیں کر سکتے؟ ہم میں ایسا کون ہے‘ جو جلسوں‘ ٹیلی ویژن اور جلوسوں میں ڈھینچوں ڈھینچوں نہیں سنتا؟ آج سے 50 برس پہلے بھی لوگ جلسوں میں ڈھینچوں ڈھینچوں سننے جاتے تھے۔ آج بھی اسی ذوق شوق سے سنتے ہیں۔ گدھے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ ہزار سال پہلے بھی ڈھینچوں ڈھینچوں کیا کرتا تھا اور آج بھی وہی کرتا ہے۔ہمارے ہاں ڈھینچوں ڈھینچوں کرنے والے مختلف لہجے اور الفاظ کا سہارا لیتے ہیں۔ مگر مطلب سمجھنے کی کوشش کی جائے‘ تو صرف ڈھینچوں ڈھینچوں کی سمجھ آتی ہے۔آج سے 50 سال پہلے جب کوئی یہ کہتا تھا کہ مہنگائی ختم ہو جائے گی۔ بیروزگاری نہیں رہے گی۔ عوام خوشحال ہو جائیں گے۔ چوری اور رسہ گیری کا نام نہیں رہے گا۔ جہالت ختم ہو جائے گی‘ تو اس زمانے کے لوگوں کو شاید اندازہ نہ ہو کہ یہ کہنے والے صرف ڈھینچوں ڈھینچوں کر رہے ہیں۔ لیکن ہم آج جب اس طرح کی باتیں سنتے ہیں تو سمجھ لیتے ہیں کہ ان کا مطلب ڈھینچوں ڈھینچوں کے سوا کچھ نہیں۔
میں نے عرصہ پہلے جلسوں میں جانا چھوڑ رکھا ہے۔ ٹیلیویژن پر بھی میکسیکو کے محترموں کا خطاب نہیں سنتا۔ مجھے کہیں جانے کی ضرورت ہی نہیں۔ ہمارے ہاں آج بھی گدھا گاڑیاں کثرت سے پائی جاتی ہیں۔ ہمیں ٹی وی چلا کر بجلی ضائع کرنے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی اور ہم جلسوں میں جانے کے لئے ٹرکوں اور ٹرالیوں کے محتاج بھی نہیں ہیں۔ سڑک پر نکلتے ہی ڈھینچوں ڈھینچوں سن کے شادباد ہو جاتے ہیں۔ ہینگ لگے نہ پھٹکڑی‘ رنگ چوکھا آئے۔ میکسیکو والے اپنی روایات کے مطابق گدھے کو باپ نہیں‘ بادشاہ سمجھتے ہیں اور اس کا احترام کرتے ہیں۔ مگر میکسیکو میں ان محترم جانوروں کے بھائی بند‘ ہمارے ہاں آج بھی گدھے کہلاتے ہیں۔ حالانکہ انہیں یہاں کے معاشرے میں اعلیٰ مقام حاصل ہے۔ وہ کونسا رتبہ نہیں‘ جو گدھوں کو نہیں ملتا؟ وہ کونسی شان و شوکت نہیں‘ جس کا مظاہرہ گدھے نہیں کرتے؟ وہ کونسی آسائشیں اور اختیارات ہیں‘ جن سے ہمارے گدھے محروم ہوں؟ اس کے باوجود ہم میکسیکو والوں کی طرح گدھوں کو سجا بنا کر ان کی تفریح طبع کے لئے باقاعدہ میلے کیوں نہیں لگاتے؟ کیا وجہ ہے کہ ہم فائیوسٹار ہوٹلوں میں سٹیج لگا کر ان پر گدھوں کو نہیں بٹھاتے؟ انہیں مائیک پر آ کر اظہار خیال کی دعوت کیوں نہیں دیتے؟ ہم ڈھینچوں ڈھینچوں بہت سنتے ہیں لیکن اصلی گدھوں کے بغیر۔ اسی کو پائریسی کہتے ہیں۔ ہمیں کوئی چیز بھی خالص نہیں ملتی۔ جعلی سی ڈیز‘ جعلی دوائیں‘ جعلی مشروبات‘ جعلی کریمیں‘ جعلی دانشور‘ جعلی لیڈر‘ جعلی گدھے۔ کوئی بھی چیز اصلی نہیں رہ گئی۔
ہم امریکہ کی ہر معاملے میں نقل کرتے ہیں‘ مگر جمہوریت میں کوئی اس کی نقل نہیں کرتا۔ وہاں صرف دو بڑی جماعتیں ہیں اور دونوں نے گدھے اور ہاتھی کو اتنی عزت دی ہے کہ ان کی تصویر دکھا کر عوام سے ووٹ مانگتے ہیں۔ ایک پارٹی کا نشان ہاتھی ہے ‘ ایک کا گدھا۔ جب جارج ڈبلیو بش امریکہ کے صدر بنے‘ تو وہاں کے لوگوں نے کہا کہ یہ غلط انتخابی نشان‘ یعنی ہاتھی پر ووٹ لے کر آئے ہیں۔ حالانکہ انہیں ڈیموکریٹس کے انتخابی نشان پر منتخب ہونا چاہیے تھا‘ جو کہ گدھا ہے۔ پاکستان میں نہ کسی جماعت نے ان میں سے کسی کو اپنا انتخابی نشان بنایا اور نہ ہی اس کا مطالبہ کیا۔ گدھے اور ہاتھی کی غلامی پر ہی قناعت کر لی۔البتہ ایک جماعت نے نہ صرف شیر کا انتخابی نشان حاصل کیا بلکہ اپنے آپ کو بھی شیر کہنا شروع کر دیا۔ اپنے انتخابی نشان کی مدح میں طرح طرح کے گیت تیار کئے اور سنائے ۔ شیر میں ایسی صفات تلاش کی جانے لگیں‘ جن سے دوسرے جانوروں کا استحصال ہوا۔ مثلاً کتا اور گھوڑا دونوں ہی وفا کے لئے مشہور ہیں۔ ان سے وفا چھین لی جائے‘ تو بیچاروں کی امتیازی حیثیت ہی ختم ہو جاتی ہے۔ یہاں وفاداری کا اعزاز شیر کو عطا کر دیا گیا ہے۔ جس پر گھوڑے اور کتے احساس محرومی کا شکار ہو گئے۔ اب وہ انسانوں کو دیکھ کر ڈرتے ہیں کہ اگر کوئی انہیں درندہ سمجھ بیٹھا‘ تو کیا سلوک کرے گا؟ ہم بھی کیسے لوگ ہیں۔ شیروں سے وفا مانگتے ہیں اور جب وہ شیر کی طرح اپنی خصلت دکھاتے ہیں‘ تو پھر شکایت کی جاتی ہے کہ انہوں نے بے وفائی کر دی۔ آج کل امریکہ پر گدھے کی حکومت ہے۔ میری مراداس انتخابی نشان سے ہے‘ جو حکمران جماعت کی شناخت ہے۔ اگر ہم گدھے کی شناخت رکھنے والی حکمران جماعت کی نازبرداریاں کرتے ہیں‘ تو اپنے ملک میں میکسیکو والوں کی طرح‘ گدھوں کی امتیازی حیثیت کیوں تسلیم نہیں کرتے؟ ڈیموکریٹ کبھی پاکستان کے دوست نہیں رہے‘ ہمیشہ بھارت کی طرفداری کرتے رہے۔ مگر اس مرتبہ جب سے ڈیموکریٹس آئے ہیں‘ ان کا رویہ بدل گیا ہے۔ اب وہ ہمارے لیڈروں کی عزت افزائی کرنے لگے ہیں۔ ان کے لئے دیدہ و دل فرش راہ کرتے ہیں۔ انہیں عزت و احترام سے ملتے ہیں۔ شاید انہیں ہمارے لیڈروں میں اپنے انتخابی نشان کی جھلک نظر آنے لگی ہے۔ انہیں ان کا حق ملنے لگا ہے۔ میرا مشورہ ہے کہ ہمارے لیڈران کرام کو میکسیکو کے دورے پر بھی جانا چاہیے۔ وہاں انہیں امریکہ سے زیادہ پذیرائی ملے گی۔ امریکہ والے صرف عشائیوں اور اجتماعات میں بلاتے ہیں۔ میڈیا میں اہمیت دیتے ہیں۔ جبکہ میکسیکو والے ان ساری چیزوں کے علاوہ‘ ان کی خدمت میں اچھے اچھے ملبوسات بھی پیش کریں گے۔ انہیں سٹیج پر لا کر ان کی کیٹ واک دیکھیں گے اور امریکیوں کی طرح ان کی ڈھینچوں ڈھینچوں بھی سنیں گے۔
کالم ختم کرنے سے پہلے شیر کا ذکر بے حد ضروری ہے۔ اگر کالم گدھے اور ہاتھی پر ختم کر دیا‘ تو سمجھا جائے گا کہ میں پاکستانی جمہوریت کو اہمیت نہیں دیتا۔ جبکہ شیر ہمارے ملک میں بہت بڑی سیاسی طاقت ہے۔ اس سے ڈرنا چاہیے۔ اپنے آپ کو ڈرپوک ثابت کرنے کے لئے شیر کا ایک لطیفہ ضیافت طبع کے لئے حاضر ہے۔ جنگل کے قریب ایک گاؤں میں رہنے والا شخص‘ لکڑیاں کاٹتے ہوئے شیر کی نظر میں آیا اور بھاگ کر جان بچانے میں کامیاب ہو گیا۔ اپنے بچ نکلنے کا یہ قصہ وہ ایک دوست کو یوں سنا رہا تھا کہ ”جیسے ہی میں نے شیر کو دیکھا تو لکڑیاں اور کلہاڑا چھوڑ کے بھاگ کھڑا ہوا۔ شیر نے میرا پیچھا کیا۔ تھوڑی دیر جا کر شیر میرے بالکل قریب آ گیا۔ اس کا پیر پھسلا اور وہ گر پڑا۔ سنبھلنے کے بعد پھر اٹھا۔ پھر میرے اتنا قریب آگیا کہ اس کی سانسوں کی حرارت میرے جسم کو چھونے لگی۔ عین اسی لمحے شیر پھر پھسلا اور میں آگے نکل گیا۔ مزید تھوڑی دور آ کر شیر ایک مرتبہ پھر پھسلا‘ تب تک میں اپنے گھر میں گھس کر دروازہ بند کر چکا تھا۔“ دوست نے کہا کہ ”تم بڑے دلیر آدمی ہو‘ میں ہوتا تو میری پتلون خراب ہو چکی ہوتی۔“ کہانی سنانے والے نے جواب میں کہا”تمہارا کیا خیال ہے‘ شیر کس چیز پرپھسل رہا تھا؟“
معذرت:- گزشتہ کالم کے آخر میں ایک غیرمتعلقہ فقرہ جو کسی دوسری تحریر سے تھا شائع ہو گیا‘ جس پر معذرت خواہ ہوں۔
تازہ ترین