بلغاریہ کی آنجہانی نابینا نجومی خاتون بابا وانگا، جنہیں اکثر بلقان کی نوسٹراڈیمس کہا جاتا ہے، کی سالانہ پیش گوئیوں کے حوالے سے ہر کوئی واقف ہے، تاہم ماہرین کے مطابق وائرل ہونے والی یہ کہانیاں عموماً مبہم پیشگوئیوں پر مبنی ہوتی ہیں۔
حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی پوسٹس میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بابا وانگا نے 2026ء میں تیسری عالمی جنگ کے آغاز کی پیش گوئی کی تھی، جس کے باعث عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ان پوسٹس میں اکثر ان کے نام کو عالمی جنگ، خلائی مخلوق سے رابطے اور بڑے پیمانے پر قدرتی آفات جیسے سنسنی خیز دعوؤں سے جوڑا جاتا ہے، تاہم محققین اور مؤرخین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ان دعوؤں کی تائید میں کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں۔
اس معاملے کا بنیادی مسئلہ مستند اور اصل ریکارڈ کی مکمل عدم موجودگی ہے۔
بابا وانگا کی وفات 1996ء میں ہوئی تھی، انہوں نے اپنی پیش گوئیوں کو کبھی تحریری شکل نہیں دی، ان سے منسوب زیادہ تر معلومات زبانی روایات اور بعد ازاں کی گئی تشریحات پر مبنی ہیں، جنہیں اکثر موجودہ حالات کے مطابق ڈھال لیا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ وائرل بیانیے عموماً مبہم پیشگوئیوں پر انحصار کرتے ہیں، جنہیں جدید دور کے خدشات کے مطابق دوبارہ تعبیر کیا جاتا ہے۔
اگرچہ ان کے حامی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے 2020ء کی دہائی کے وسط میں جنگ اور تباہی سے خبردار کیا تھا، لیکن اسکالرز ان کہانیوں کو تاریخی حقائق کے بجائے ایک ثقافتی رجحان کے طور پر دیکھتے ہیں، چونکہ بابا وانگا نے کوئی باضابطہ دستاویزات نہیں چھوڑیں اس لیے ان سے منسوب کوئی مستند اور واضح اقتباس بھی دستیاب نہیں۔
درحقیقت موجودہ بحث و مباحثہ زیادہ تر سوشل میڈیا پر بار بار دہرائے جانے والے دعوؤں کا نتیجہ ہے نہ کہ کسی مستند ثبوت کا۔
تجزیہ کاروں کے نزدیک ایسی پیشگوئیاں دراصل غیر یقینی عالمی حالات کے دوران اجتماعی خوف کی عکاسی کرتی ہیں، نہ کہ مستقبل کی درست اور پہلے سے درج شدہ پیش بینی کی۔