• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا کی ایران کے آبنائے ہرمز کے قریب امریکی لڑاکا طیارہ مار گرانے کے دعوے کی تردید

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

ایرانی اسلامی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی جانب سے قشم جزیرے کے قریب امریکی لڑاکا طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جسے امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے مسترد کر دیا۔

سینٹکام کے مطابق کسی بھی امریکی لڑاکا طیارے کے نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سینٹکام نے الزام عائد کیا ہے کہ آئی آر جی سی جاری کشیدگی کے دوران اس نوعیت کے جھوٹے دعوے متعدد بار کر چکی ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں سینٹکام نے ایرانی دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام امریکی لڑاکا طیارے محفوظ ہیں، ایران کی آئی آر جی سی کم از کم نصف درجن مرتبہ یہی جھوٹا دعویٰ کر چکی ہے۔

ایران کا دعویٰ کیا تھا؟

یہ ردعمل اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے قشم جزیرے کے جنوبی حصے میں امریکی لڑاکا طیارے کو نشانہ بنا کر مار گرایا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی سرکاری میڈیا کے حوالے سے جاری رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ کارروائی خلیج فارس کے حساس سمندری علاقے آبنائے ہرمز کے قریب انجام دی گئی۔

ایرانی حکام کا کہنا تھا کہ طیارہ نشانہ بننے کے بعد جزیرہ ہنگام اور قشم کے درمیان سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا۔

امریکا کا ایران پر گمراہ کن مہم کا الزام

گزشتہ ہفتے بھی سینٹکام نے ایران کے اس دعوے کو مسترد کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ چابہار کے قریب جدید فضائی دفاعی نظام کے ذریعے ایک امریکی ایف اے-18 طیارے کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی بیان میں واضح کیا گیا تھا کہ ایران کی جانب سے امریکی طیاروں کو مار گرانے کے حوالے سے جھوٹے اور گمراہ کن دعوے بارہا مختلف پلیٹ فارمز پر پھیلائے گئے ہیں، جن میں جعلی یا گمراہ کن تصاویر کا استعمال بھی شامل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران نے کسی بھی امریکی لڑاکا طیارے کو نہیں گرایا۔

اسی طرح سینٹکام نے ایران کے ایک اور دعوے، جس میں امریکی ایف-15 طیارہ مار گرانے کی بات کی گئی تھی، کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپریشن ایپک فیوری کے دوران امریکی افواج 8 ہزار سے زائد جنگی پروازیں کر چکی ہیں اور اس عرصے میں ایران کسی بھی امریکی لڑاکا طیارے کو نقصان پہنچانے میں کامیاب نہیں ہوا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید