امریکا نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باوجود واشنگٹن سفارتی مذاکرات کے لیے تیار ہے جبکہ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی شہری تنصیبات کو تباہ کرنے کی نئی دھمکیاں دی ہیں۔
امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے ’الجزیرہ‘ کو انٹرویو میں بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ جنگ سے قبل ایران سے مذاکرات چاہتے تھے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں مگر امریکا اپنے اہداف کے حصول تک کارروائیاں جاری رکھے گا، واشنگٹن نے ایران پر خطے میں شہری مقامات اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق اسٹمسن سینٹر کی ماہر باربرا سلاون نے حالیہ صورتحال پر اپنی رائے کا اظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ممکنہ طور پر جنگ کو ختم کرنے کے لیے ایران پر دباؤ بڑھا رہے ہیں تاکہ اسے ناکامی کے تاثر کے بغیر سمیٹا جا سکے۔
واضح رہے کہ امریکا کا مؤقف ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ ایران اس الزام کی تردید کرتا ہے۔
حال ہی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قوم سے خطاب میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکا جنگ میں برتری حاصل کر رہا ہے تاہم اُنہوں نے جنگ کے خاتمے یا آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق کوئی واضح منصوبہ پیش نہیں کیا۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔