بھارت کے شہر حیدرآباد کے علاقے میاپور میں 26 سالہ سافٹ ویئر انجینئر دلہن نے مبینہ طور پر جہیز کے لیے ہراسانی سے تنگ آ کر خودکشی کر لی۔
پولیس کے مطابق متوفیہ ایشیتا یادو کی شادی رواں سال 20 فروری کو پٹنہ میں نیرج بھنسل کے ساتھ ہوئی تھی اور یہ دونوں کی پسند کی شادی تھی، جو سوشل میڈیا کے ذریعے ایک دوسرے سے ملے تھے اور 5 سال سے تعلق میں تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ایشیتا یادو یکم اپریل کو اپنے فلیٹ میں پنکھے سے لٹکی ہوئی پائی گئیں، جنہیں سب سے پہلے ان کے شوہر نے دیکھا اور فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔
ایشیتا کے اہلِ خانہ کے مطابق شادی کے بعد جوڑے کے درمیان اختلافات بڑھ گئے تھے اور شوہر کی جانب سے مبینہ طور پر جہیز کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا تھا، جبکہ ایشیتا کو اپنے خاندان سے شوہر کے نئے کاروبار میں سرمایہ کاری کروانے کے لیے بھی مجبور کیا جا رہا تھا۔
پولیس نے متوفیہ کے والدین کی مدعیت میں میاپور تھانے میں مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق شوہر کو حراست میں لے کر تفتیش کی جا رہی ہے اور واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
واقعے پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بھی مختلف ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں بعض افراد نے غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جبکہ دیگر نے جہیز کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔