• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایرانی افزودہ یورینیئم قبضے میں لینے کا امریکی منصوبہ، ماہرین نے خطرات سے خبردار کر دیا

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے افزودہ یورینیئم کے ذخیرے کو قبضے میں لینے کے لیے خصوصی افواج بھیجنے کی ممکنہ تجویز پر ماہرین نے اسے نہایت پیچیدہ اور خطرناک فوجی آپریشن قرار دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکا طویل عرصے سے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت سے محروم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ ایران مؤقف رکھتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن توانائی کے لیے ہے، تاہم وہ اپنے پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنے سے انکار کرتا رہا ہے۔

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے اندازوں کے مطابق ایران کے پاس تقریباً 440 کلو گرام یورینیئم موجود ہے جو 60 فیصد تک افزودہ ہے، جو کہ 90 فیصد کی سطح تک پہنچ کر جوہری ہتھیار بنانے کے قابل ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس یورینیئم کا بڑا حصہ اصفہان اور نطنز کی زیرِ زمین تنصیبات میں موجود ہے، جنہیں گزشتہ برس امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں جزوی نقصان پہنچا تھا، تاہم مواد مکمل طور پر تباہ نہیں ہوا۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اس یورینیئم کو حاصل کرنے کے لیے زمینی کارروائی کرتا ہے تو اسے شدید لاجسٹک، تکنیکی اور سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہو گا، کیونکہ یہ تنصیبات گہرائی میں واقع ہیں اور جنگی علاقے کے اندر ہیں۔

ماہرین کے مطابق یورینیئم کو نکالنے کے بعد اسے محفوظ طریقے سے منتقل کرنا بھی ایک بڑا خطرہ ہو گا کیونکہ یہ مادہ کیمیائی طور پر نہایت خطرناک ہے اور معمولی نقصان کی صورت میں زہریلے اثرات پیدا کر سکتا ہے۔

دوسری جانب اس ذخیرے کو موقع پر ہی تباہ کرنے کی صورت میں بھی ماحول کو شدید نقصان پہنچنے اور تابکاری خطرات پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ اس بات کی یقین دہانی بھی مشکل ہو گی کہ تمام مواد مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کی فوجی کارروائی ایران کو مزید سخت ردِعمل دینے اور اپنے جوہری پروگرام کو تیز کرنے پر مجبور کر سکتی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس صورتِحال کا کم خطرناک حل سفارتی مذاکرات ہو سکتا ہے، جس کے تحت یورینیئم کو بین الاقوامی نگرانی میں رکھا جائے یا اس کی افزودگی کم کی جائے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید