• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران جنگ میں امریکا کون سے ہتھیار استعمال کر رہا ہے؟

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو 

دفاع کے لیے سالانہ تقریباً 1 ٹریلین ڈالرز خرچ کرنے والے امریکا کے پاس زبردست فوجی اور تکنیکی صلاحیتیں ہیں۔

امریکا کے پاس دنیا میں طیاروں کا سب سے بڑا بیڑہ موجود ہے، جس میں تقریباََ 13 ہزار 23 ہوائی جہازوں کے ساتھ ساتھ 5 ہزار 200 نیوکلیئر وار ہیڈز شامل ہیں۔

اسی لیے گزشتہ روز ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکی عوام سے خطاب کے دوران ایران کو سخت حملے کر کے پتھروں کے دور میں بھیجنے کی دھمکی دینا کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے۔

ایران جنگ میں امریکا کون سے ہتھیار استعمال کر رہا ہے؟

امریکا نے ایران پر اپنے حملوں میں 20 سے زائد قسم کے طیارے، بحری جہاز اور میزائل استعمال کیے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے ’آپریشن ایپک فیوری‘ کو 2003ء میں عراق کے خلاف ہونے والی جنگ کے بعد سب سے بڑا آپریشن قرار دیا ہے۔

کانگریس کو پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے ایران پر حملوں کے پہلے 2 دنوں میں تقریباً 5.6 بلین ڈالرز خرچ کیے۔

ایران کے خلاف امریکی آپریشن میں فضائی، زمینی اور بحری تینوں طاقتیں شامل ہیں۔

فضا میں B-52 ،B-1 اور B-2 بمبار طیارے استعمال ہو رہے ہیں، جن میں B-2 سب سے جدید ہے اور ریڈار سے چھپ کر حملہ کرتا ہے، F-15 ،F-16 اور F-18 لڑاکا طیارے بھی فضائی آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

علاوہ ازیں F-22 اور F-35 جدید اسٹیلتھ طیاروں سے بھی ایران پر حملے کیے جا رہے ہیں جو بغیر نظر آئے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

جدید لڑاکا طیاروں کے ساتھ ساتھ ’ای تھری سینٹری‘ جیسے اہم جاسوس طیاروں کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔

آپریشن میں جدید ڈرونز بھی استعمال کیے جا رہے ہیں، جن میں لوکس ڈرونز، MQ-9 ریپر ڈرونز شامل ہیں، جو 27 گھنٹے تک ہوا میں رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

امریکا نے اپنا جدید اور مہنگا ترین بحری جہاز جیرالڈ فورڈ بھی استعمال کیا ہے جس کی قیمت تقریباً 13 بلین ڈالرز ہے۔

1980ء کی دہائی میں تیار کیا گیا امریکی بحری جہاز ابراہم لنکن بھی مشرقِ وسطیٰ میں موجود ہے، اس کی قیمت 4.5 بلین ڈالرز ہے۔

خاص رپورٹ سے مزید