• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مسلم دنیا کی موجودہ صورتحال خصوصی تحریر… ڈاکٹر سعد اللہ زارعی طباطبائی

گزشتہ کم از کم دو سو سال کے دوران مسلمانوں پر جو کچھ بیت چکے ہیں وہ دین ابراہیمی کے سب سے مکمل مذہب کی رفعت و شوکت کو روکنے کیلئے شناسا دشمنوں، خاص کر مغرب کے چیرہ دست ممالک کی طرف سے پے در پے سازشوں کی موجودگی کا پتہ دیتے ہیں۔ جبکہ علاقائی سطح پر پیش کئے جانے والے اسلامی افکار و تصورات اور معاشرتی مسائل کے حل کے سامنے رکاوٹ ڈالنے کیلئے انتہا پسندی اور قومیت پر مبنی نظریات کی وسیع پیمانے پر مسلح جدوجہد سے صاف واضح ہو جاتا ہے کہ ان تنازعات اور ٹکرائو کے نتیجے میں خونی جنگیں پھوٹتی ہیں جسے مغربی ممالک اور انتہا پسند دہشت گرد گروہوں کی ملی بھگت سے اس علاقے پر مسلط کیا گیا ہے۔نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے گزشتہ 15 سالوں کے دوران ہم نے علاقے میں کئی جنگیں دیکھی ہیں۔ افغانستان میں امریکہ برطانیہ کی جنگ، عراق پر امریکہ برطانیہ کی یلغار، غاصب اسرائیل کی لبنان پر چڑھائی، غاصب اسرائیل کا نہتے غزہ کے عوام پر ظلم دہشت گردوں کی شام پر چڑھائی،یعنی مسلمانوں کی زندگی کیلئے اہمیت کے حامل اس علاقے نے ہر 20 ماہ بعد تباہ کن جنگ کا سامنا کرنا پڑا۔ اس لئے ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ گزشتہ دو سو سالوں کے دوران دنیا کے کسی اور علاقے سے اس علاقے کا تقابل و قیاس ممکن نہیں۔ نہ براعظم امریکہ، نہ براعظم یورپ، نہ ایشیا کے غیر اسلامی علاقے اور نہ ہی براعظم افریقہ نے اتنی مختصر مدت میں اتنی زیادہ جنگیں دیکھی ہیں۔ کیوں؟ وجہ کیا ہے؟ جی وجہ اسلام ہی ہے!! مگر اس سے مراد یہ نہیں کہ یہ جنگیں بھڑکانے اور اسے طول دینے کا عامل و محرک ہے بلکہ اس سے مراد اسلام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور انسانی معاشروں میں اس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور عمل دخل کوروکنے کے لئے پے درپے جنگیں چھیڑی جا رہی ہیں۔ جھڑپوں کی آگ ان طاقتوں کی طرف سے سلگائی جاتی ہے جو فعال اور پھیلتے ہوئے اسلام کو اپنے مفادات کی راہ میں رکاوٹ اور حیثیت کو دائو میں لگانے والاعنصر تصور کرتی ہیں۔ علاقے میں رونما ہونے والے واقعات کو بھی ان ہی طاقتوں کے ساتھ نتھی کر دینا چاہئے۔ سیاہ کردار اور کارناموں کی بنا اور بہت سے ٹھوس شواہد اور ثبوتوں کی بنیاد پر امریکہ، غاصب اسرائیل اور برطانیہ علاقے میں بھڑکنے والی جنگوں کے اصل ذمہ دار ہیں جو کبھی فوج اورکبھی تربیت یافتہ مسلح گروہوں کے ذریعے علاقے میں چھیڑی جاتی ہیں۔ ساتھ ہی اس آگ کی لو کو علاقے میں موجود جھاڑیوں میں بھڑکا دیتے ہیں تاکہ حسب ضرورت سلگتی رہیں۔ علاقے میں کشیدہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ علاقے کی بعض ریاستیں علاقے میں بحران اور خلفشار جاری رکھنے میں کارفرما ہیں۔ دین و عقل جو کچھ بتا تے ہیں اور حکم جاری کرتے ہیں یہ ہے کہ قوم و ملت کا شانہ بشانہ ساتھ دیتے ہوئے دشمن کے مقابل صف آراء ہونا چاہئے مگر جو اس پیغام کو بھلا بیٹھے ہیں اسی کے نتیجے میں غاصب اسرائیل منہ زور اور بے لگام بنا ہے۔علاقائی مشکلات کا علاج واضح اور روشن ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ اسلامی اتحاد اور بھائی چارے کو فروغ دیا جائے اور ساتھ ہی باہمی قومی، مذہبی یا مسلکی جھگڑوں سے پرہیز کیا جائے اور ساتھ ہی شعلے بھڑکانے ، علاقے میں تباہی پھیلانے والے دشمنوں کو قابو میں کیا جائے اور ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے مسلمانوں کو بھرپور تیار اور ہر طرح کے اسلحوں اور دفاعی ساز و سامان سے لیس ہونا چاہئے۔فلسطین اور میانمار جیسے مسائل، مسلمانوں کے لئے دو عمدہ مثالیں ہیں، جن کے ابتر حالات کی وجوہات میں سے ایک علاقے اور علاقے کی صورتحال کو دشمنوں کے حوالے کرنا اور دوسری مسلمان دشمنوں سے نبردآزما ہونے کے بجائے باہمی چپقلش اور خونریز فسادات میں مبتلا ہونا ہے۔ ایک جگہ مقامی اکثریتی آبادی کی زمینوں کو اقلیت مہاجرین ہتھیا رہے ہیں تو دوسری طرف حکومتی مشینری اور کارندے اقلیتوں کی آبادیوں کو کچلنے اور قتل عام کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ فلسطین اور میانمار مسلمانوں کے موجودہ ابتر حالات اس بات کی علامت ہیں کہ عالم اسلام کے وسیع حصے میں لوگ اسلام اور اس کی حیات بخش تعلیمات سے دور اور ناآشنا ہیں۔آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے حالیہ حج کے پیغام میں مسلمانوں سے خاص کر اسلامی ممالک کی حکومتوں سے باہمی چپقلش اور تصادم کے رویوں پر نظرثانی کرنے اور اپنے حالات کا ازسرنو جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ جن ممالک کے امن و امان مخدوش اور بحران کی زد میں ہیں اس میں استعماری طاقتوں کی پالیسیوں سے زیادہ خود مسلمانوں کی سستی اور کاہلی کا عمل دخل بھی ہے۔ استعمار کے خلاف نبرد آزمائی سے انحراف اور اپنوں سے لڑنے کی پالیسی ایک عنوان ہے جو استعمارانہ سیاست سے مطابقت رکھتی ہے۔ استعمار اس علاقے میں اپنی حاکمیت کے تسلسل کو دوام بخشنے کے لئے کوشاں ہے جسے حقیقت کے روپ میں دھارنے کے لئے مسلمانوں کی باہمی طاقت کو آپس میں ٹکرا کر گھٹانے کے در پے ہے۔ فتنے سے بعض نام نہاد مسلمان استعمار کی اس آگ کو تقویت پہنچانے کے لئے ایندھن فراہم کرنے میں مصروف ہیں لہٰذا مسلمانوں کے لئے اشد ضروری ہے کہ ان پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لے جنہیں مغرب نے تیار کر کے بعض علاقائی ممالک کے ذریعے نافذ کروا دیا ہے۔ مغربی اور جنوبی ایشیا کے لوگوں کو جس اہم نکتے پر توجہ دینی چاہئے وہ یہ ہے کہ وہ ایسے حالات سے دوچار ہیں کہ دشمنان اسلام اپنے مذموم عزائم اور پوری تیاری کے ساتھ ان کے علاقے میںخیمہ زن ہیں۔ ماضی میں شکست کھانے کے بعد اب نرم و ملائم جنگوں کی جانب قدم بڑھ رہے ہیں۔ پس تمام علاقائی ممالک کو چاہئے کہ دشمن کی نئی مکارانہ پالیسیوں کو ناکام بنانے کے لئےباہمی تعاون اپنائیں۔

تازہ ترین