آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انسانی آنکھ کے مقابلے میں تاریخ کی آنکھ زیادہ معتبر اور دور تک دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور انسانوں کی قسمت کے فیصلے غیر جانبداری سے سناتی چلی جاتی ہے۔ ایک فیصلہ اُس نے 16دسمبر 1971ء کو سنایا اَور پاکستان دولخت ہو گیا تھا۔ دکھ یہ کہ ہم جہانِ حوادث سے بیگانہ وار گزرتے گئے اور یہ سراغ لگانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی کہ بیسویں صدی کے آخری عشروں میں ہم ذلت آمیز شکست و ریخت سے دوچار کیوں ہوئے اور اس انہونی کے ہمارے مستقبل پر کیا کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ بعض نادان یہ کہتے بھی سنے گئے کہ مشرقی پاکستان ہم پر ایک ناقابلِ برداشت بوجھ تھا اور اس کے اُتر جانے سے پاکستان پہلے کے مقابلے میں ہر اعتبار سے طاقت ور اور ناقابلِ تسخیر ہو گیا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ ایک بیمار ذہن کی سوچ ہے۔ ایک صحت مند قوم اپنے ایک ایک عضو کی حفاظت کرتی اور ایک ایک چپے کو جان سے عزیز رکھتی ہے۔ میں نے تاریخ اور سیاست کے طالب علم کی حیثیت سے اس جانکاہ تجربے سے کچھ سبق سیکھے ہیں، اُنہیں بیان کرنا اس لیے ضروری ہے کہ آج کے گھمبیر حالات میں وہ ہماری رہنمائی کر سکتے ہیں۔
پہلا سبق یہ ہے کہ قومی زندگی کی شیرازہ بندی میں آئین سب سے اہم کردار ادا کرتا ہے۔ سانحۂ مشرقی پاکستان کا آغاز آئین کے ٹوٹنے اور اس کا انجام آئین سازی میں ناکامی پر

منتج ہوا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب اکتوبر 1958ء میں صدر اسکندر مرزا نے مارشل لا نافذ کیا اور جنرل ایوب خاں کو چیف مارشل لا کے منصب پر بٹھایا، تو ملک میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔ میں ان دنوں رحمٰن پورہ، لاہور کی بستی میں رہتا تھا اور ایم اے علم السیاست کا طالب علم تھا۔ مارشل لا کے نفاذ کے دوسرے روز چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل ایوب خاں کو ریڈیو پر قوم سے خطاب کرنا تھا۔ میں نے اہلِ محلہ کے ساتھ اُن کی تقریر ایک بڑے مکان کے ہال میں سنی تھی۔ انہوں نے پہلے سیاست دانوں کو بہت برا بھلا کہا کہ ان کی وجہ سے ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے، شدید ابتری اور بدنظمی کا شکار ہے اور خرانہ خالی پڑا ہے۔ وہ اہلِ وطن کو یقین دلا رہے تھے کہ مارشل لا کے دور میں معاشرے کو ہر برائی سے پاک صاف کر دیا جائے گا، اس کے لیے ہم نے 1956ء کا دستور منسوخ کر دیا ہے۔ سیاسی جماعتوں پر پابندی لگا دی ہے اور جلد ہی ماہرین کی ایک ایسی کابینہ وجود میں آئے گی جو وقت ضائع کیے بغیر تمام بنیادی مسائل حل کرے گی جبکہ اقتصادی ترقی قابلِ رشک ہو گی۔ حاضرین کے چہرے تقریر سننے کے بعد کھل اُٹھے، کیونکہ اُنہیں پختہ یقین ہو چلا تھا کہ ملک سے کرپشن کا خاتمہ ہو جائے گا، سارے کام استحقاق اور میرٹ پر ہوں گے اور زندگی پہلے کے مقابلے میں بڑی آسان ہو جائے گی۔ اہلِ محلہ کے شاندار جذبات کے برعکس میرا دل بیٹھا جا رہا تھا کہ پاکستان کے دونوں بازوؤں کے عوامی نمائندوں نے بڑی کاوشوں کے بعد ایک ساتھ رہنے کے لیے جس دستاویز پر دستخط کیے تھے اور مشترکہ مفادات کی عمارت کھڑی کی تھی، اس کی بنیاد منہدم ہو جانے کے بعد وہ اکٹھے کیوں کر رہ سکیں گے۔ اس کے علاوہ سیاسی جماعتیں ایک پروگرام پر عوام کو جمع کرتی، ان کے سیاسی شعور کو فروغ دیتی اور انہیں ایک وحدت میں پروئے رکھتی ہیں، ان پر پابندی لگ جانے کے بعد یہ کام کون سا ادارہ سرانجام دے سکے گا۔ میں نے اپنے اہلِ محلہ سے کہا تھا کہ میں مارشل لا لگنے پر حددرجہ سوگوار ہوں کہ مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ 1956ء کے دستور کی تنسیخ سے مشرقی پاکستان میں علیحدگی کی اساس رکھ دی گئی ہے۔ اہلِ محلہ نے میری اُداسی کا مذاق اُڑایا اور اسے ایک واہمہ قرار دیا تھا، مگر چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل ایوب خاں کے مختلف اقدامات میرے خدشات میں اضافہ کرتے جا رہے تھے۔
جنرل ایوب نے سرکاری پروپیگنڈے کے زور پر شروع ہی سے یہ فلسفہ بگھارنا شروع کر دیا تھا کہ پارلیمانی نظام ملک میں انتشار پھیلاتا ہے، فیصلوں میں حددرجہ تاخیر کرتا ہے اور باصلاحیت اور قابل افراد کو آگے لانے میں ناکام رہتا ہے۔ ایسے میں تمام تر مسائل کا حل صدارتی نظام کے اندر مضمر ہے۔ مجھے ان کے اس نظریے سے ایک طالب علم کی حیثیت سے شدید اختلاف تھا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ جنرل ایوب خاں جو صدارت کا منصب سنبھال چکے تھے، اُن کا تعلق مغربی پاکستان سے تھا۔ وہ آنے والے برسوں میں سیاہ و سفید کے مالک ہوں گے۔ اُن کے اقتدار میں رہنے سے مشرقی پاکستان کو سیاسی اختیارات سے محرومی کا احساس شدید تر ہوتا جائے گا جو مرکز گریز عناصر کی حوصلہ افزائی کرے گا۔ چار سال تک مارشل لا نافذ رہا جس میں اقتدار و اختیار کے مالک چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر تھے اور مشرقی پاکستان کا حکومت کے معاملات میں کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ سیاسی جماعتیں جو کالعدم قرار پائی تھیں، ان کی درپردہ کوششوں سے جنرل ایوب قوم کو دستور دینے پر بادِل نخواستہ آمادہ ہوئے اور اُنہوں نے اِس کام کے لیے آئینی کمیشن قائم کیا جس کے سربراہ چیف جسٹس آف پاکستان شہاب الدین مقرر ہوئے۔ اُن کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا۔ اُنہوں نے مہینوں پر محیط دماغ سوزی کے بعد سفارشات مرتب کیں جن میں سب سے اہم سفارش یہ تھی کہ آئین میں نائب صدر کا منصب رکھا جائے جو مشرقی پاکستان کے لیے مخصوص ہو، مگر صدر ایوب نے اُن کی یہ سفارش قبول نہیں کی اور مشرقی پاکستان کا اقتدار سے منسلک رہنے کا نمائشی راستہ بھی بند کر دیا۔ 1962ء کا جو دستور قوم پر مسلط کیا گیا، اس میں عملی طور پر مشرقی پاکستان، مغربی پاکستان کی کالونی میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ اس کی اسمبلی کو صدر کی اجازت کے بغیر بجٹ منظور کرنے کا بھی اختیار نہیں تھا۔ گورنر اور وزرا بھی صدرِ پاکستان ہی نامزد کرتے اور زیادہ تر انتظامی فیصلے بھی انہی کے حکم سے کیے جاتے۔ وہاں منعم خاں طویل عرصے تک گورنر تعینات رہے جن کا سیاست دانوں کے ساتھ رویہ بالعموم ہتک آمیز ہوتا، چنانچہ علیحدگی پسندی کے رجحانات زور پکڑتے گئے اور جوں جوں مغربی پاکستان میں ترقیاتی منصوبے تکمیل کے مراحل طے کرتے گئے، اسی تناسب سے مشرقی پاکستان کے عوام شدید احساسِ محرومی کا شکار ہوتے گئے۔ اس فضا میں بھارت کو مشرقی پاکستان کی مسلح افواج اور سیاست دانوں میں راستے بنانے کا موقع ملتا گیا اور اگرتلہ سازش کیس منظر عام پر آیا جو قومی سیاست کو بری طرح گھائل کر گیا۔
مشرقی پاکستان میں سیاسی بغاوت کے نتیجے میں ایوب خاں کو اقتدار سے دستبردار ہونا پڑا۔ جنرل یحییٰ خاں نے حالات پر قابو پانے کے بجائے اپنے طور پر مارشل لا نافذ کر دیا اور 1962ء کا دستور منسوخ کر کے نئی دستور ساز اسمبلی کے انتخابات کا اعلان کیا، ان کے عہد میں ریاست کس طرح شیخ مجیب الرحمٰن کے سامنے سرنگوں ہوئی، انتخابات میں جس عریاں طور پر طاقت استعمال ہوئی اور دستور ساز اسمبلی کا اجلاس نہیں ہو سکا، اس کا ہمارے آج کے حالات سے نہایت گہرا تعلق ہے۔ ان کا تجزیہ اگلی نشست میں پیش کیا جائے گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں