آپ آف لائن ہیں
پیر 13؍محرم الحرام 1440ھ 24؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں نے کبھی کہیں ان تین بڑے گناہوں کا ذکر پڑھا تھا جن کا حوالہ شاید بدھ مت تھا اور جس طرح تمام چھوٹے بڑے گناہوں کی عملداری اس دنیا میں قائم ہے، کہیں کم اور کہیں زیادہ، اسی طرح یہ تین گناہ بھی کثرت استعمال سے کمزور نہیں بلکہ توانا ہوئے ہیں۔ خاص طور پر ہمارے معاشرے میں۔ تو پھر وہ تین بڑے گناہ ہیں کونسے؟ سنئے۔ وہ ہیں لالچ، غصہ اور جہالت۔ یہ بات میرے ذہن میں اس لئے رہ گئی کہ غصے کو ایک بڑا گناہ سمجھنا مجھے دلچسپ اور معنی خیز لگا۔ میں نے سوچا کہ ہم لوگ اپنی نیکیوں اور اپنے گناہوں کے میزانیے میں غصے کا تو کوئی حساب ہی نہیں رکھتے۔ غصہ تو بے شمار لوگوں کی ناک پر رکھا ہوتاہے۔ ذرا ذرا سی بات پر لوگ بپھر جاتےہیں۔ آپے سے باہر ہونے لگتے ہیں۔ کئی رشتوں میں اس کی ملاوٹ لازمی بھی سمجھی جاسکتی ہے۔ جیسے افسر اور ماتحت کے درمیان یا مالک اور نوکر کے درمیان۔ استاد اور طالب علم کے رشتے میں بھی ایک زمانے میں غصے کا اظہار ہاتھ یازبان سے کئے جانے والے تشدد کی شکل میں عام تھا اور تعلیم کے نئے نظریات پر زور دیئے جانے کے باوجود اب بھی کہیں کہیں یہ طرز عمل موجود ہے۔ کئی گھروں میں بھی بچوں کو شیر کی نظر سے دیکھنے کی ہدایت پر عمل کیا جاتا ہے۔ ان تمام باتوں سے قطع نظر، سوچنے کی بات یہ ہے کہ غصے کو اتنا بڑا گناہ کیوں سمجھا جائے۔ اس کا

مطلب کیاہے۔ ظاہر ہے کہ اس نکتے کی گہرائی میں معاشرتی زندگی اور انفرادی کردار کے کئی وصف پنہاں ہیںاور یہ تو عام مشاہدے کی بات ہے کہ وہ لوگ کیسے ہوتے ہیں جنہیں آسانی سے غصہ آجاتا ہے۔ جو چیخنے لگتے ہیں۔ طیش میں آجاتے ہیں۔ اور وہ لوگ کیسے ہوتے ہیں جو نرمی سے بات کرتے ہیں۔ اپنے جذبات پرقابو رکھ سکتے ہیں۔ کسی سے بدتمیزی نہیں کرتے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب میں یہ کالم لکھنے بیٹھا تو مجھے یہ مقولہ کیوں یاد آیا اور میں نے غصے کی برائی کو اپنا موضوع کیوں بنایا۔ آخر اس ہفتے کی بڑی خبر تو بدھ کے دن لاہور کا وہ احتجاجی جلسہ تھا جس میں غالب کے پرزے اڑنے کی خبر گرم تھی۔ پاکستان کی سیاست میں ان دنوں جو ہلچل ہے اور جو بے یقینی ہے اس کےتناظر میں طاہرالقادری کی رہنمائی میں منعقد کئے جانے والے اس جلسے کی گھن گرج کئی دنوں سے سنائی دے رہی تھی۔ سیاسی معنوں میں یہ کتنے کمال کی بات تھی کہ دو ایکٹ کی اس ڈرامائی پیشکش میں عمران خان اور آصف علی زرداری الگ الگ مرکزی کردار ادا کررہے تھے۔ اب یہ چھوڑیئے کہ کیا ہوا۔ مجھے تو یہ بتانا ہے کہ میری نظر میں غصے کے عذاب کا اس جلسے سے کیا تعلق ہے۔ اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ آپ دوسرے لیڈروں کےساتھ ساتھ شیخ رشید کی تقریر کو ذہن میں رکھیں۔ آپ کہیں گے کہ اس میں نئی بات کیا ہے۔ ان کا تو انداز یہی ہے۔ ان کی شعلہ بیانی میں شعلے تو بہت ہوتے ہیں۔ بیان اکثر نہیں ہوتا۔ اور یہاں انہیں محض ایک مثال کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ اور ایک طرح سے یہ ہماری سیاست اور اس کے ساتھ ساتھ ہمارے میڈیا کا مزاج بن گیا ہے کہ چیخ کر غصے سے بات کی جائے۔ یوں، بدھ کا لاہور کا احتجاجی جلسہ ایک اچھا حوالہ ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ ہماری سیاست کس زبان اور کس لہجے میں گفتگو کرتی ہے اور اس کا ہمارے معاشرے کے عمومی مزاج اور سوچ سے کیا تعلق ہے۔ میڈیا کا تو خاص طور پر یہ فریضہ ہے کہ وہ غیر جانبداری کے ساتھ حالات و واقعات کا تجزیہ کرے۔ لیکن ایسا نہیں ہورہا اور ہماری سیاست اور ہمارا میڈیا مل کر اس معاشرے میں اس انتہا پسندی اور عدم برداشت کو فروغ دے رے ہیں جس کی مزاحمت ان کی اولین ذمہ داری ہے، جمہوری انداز فکر اور طرز عمل کو ایک طرف، ہم تو یہ دیکھ رہے ہیں کہ کوئی جمہوریت اور پارلیمنٹ پر لعنت بھی بھیج سکتا ہے۔
ایک طرح سے دیکھیں تو یہ ہمارے معاشرے کا مسئلہ ہے کہ ہم سنجیدہ گفتگو کے آداب فراموش کرتے جارہے ہیں۔ لوگ اپنی بات پر اڑے رہتے ہیں اور دوسرے کی نہیں سنتے۔ یوں لگتا ہے کہ جو زندگی ہم جی رہے ہیں اور جن تعلقات کی ڈوریوں سے ہم بندھے ہیں ان کے پردےمیں غصے، نفرت، عداوت اور شک کے عفریت چھپے ہیں۔ ان کی پھنکار آپ کے ذہن میں سرسراتی ہے۔ گھر سے باہر کی دنیا سے جب آپ کا سابقہ پڑتا ہے، جب آپ کی گاڑی ٹریفک کی دلدل میں پھنس جاتی ہے۔ جب آپ بازار میں پیدل چلتےہیں تو اکثر یہ محسوس ہوتا ہے کہ سطح کے نیچے وحشتیں رینگ رہی ہیں۔ یہ بہت ممکن ہے کہ اصل صورت حال اتنی تشویشناک نہ ہو۔ یہ ہمارے حکمرانوں اور رہنمائوں کا کام ہے کہ وہ قوم کو اس ہیجانی کیفیت سے نکالنے کی کوشش کریں جس میں وہ مبتلا ہے۔ کوئی ایسا ماحول تو بنے کہ جس میں ٹھنڈے دل سے سوچنا اور بات کرنا ممکن ہو۔ یہ بات سب مانتے ہیں اور بار بار کہتے ہیں کہ ملک ایک خوفناک سیاسی بحران سے دوچار ہے۔ البتہ یہ پوری طرح واضح نہیں کہ جوکچھ ہورہا ہے وہ کیوں ہورہا ہے۔ اس سال کو ہم انتخابات کا سال کہتے ہیں۔ اس سے پہلے سینیٹ کا چنائو ہونا ہے۔ جو فیصلے عوام کو کرنا ہیں وہ سر پر ہیں۔ تو پھر یہ شور، یہ افراتفری کیوں ہے؟ میں نے لاہور کے جلسے کا ذکر کیا جس میں اس غم و غصے کا زیاد پرجوش اظہار کیا گیا کہ جو ہماری سیاست میں سرایت کرچکا ہے۔ اگر یہ جلسہ زیادہ کامیاب نہیں ہوا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ سیاسی تنائو میں کوئی کمی واقع ہوجائے گی۔ پھر معاشرے میں بے چینی پھیلنے کی دوسری وجوہات بھی ہیں جن میں قصور میں کی جانے والی درندگی اوردوسرے ایسے واقعات شامل ہیں۔ ان حالات میں وہ افراد جو ایک روشن مستقبل کا خواب دیکھتے ہیں کہ جو جمہوریت اور سماجی انصاف سے عبارت ہو خود کو بے بس محسوس کررہےہیں۔ ان کے لئے میرے پاس فیض کی ایک نظم کا یہ آخری بند ہے۔
ہم کہ ہیں کب سے در امید کے دریوزہ گر
یہ گھڑی گزری تو پھر دست طلب پھیلائیں گے
کو چہ وبازار سےپھر چن کے ریزہ ریزہ خواب
ہم یونہی پہلے کی صورت جوڑنے لگ جائیں گے.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں