آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ، مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار نے کراچی میں مختلف کیس سننے کے دوران کہا کہ ’’مجھے ایک ہفتے کے اندر کراچی میں صاف پانی چاہئے۔ واٹر کمیشن کی رپورٹ آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔انہوں نے چیف سیکریٹری سے کہا کہ سندھ میں کیا ہو ر ہا ہے ہمارے سامنے بڑی بھیانک تصویر آ رہی ہے۔‘‘
دوسری طرف سندھ کے چیف سیکریٹری نے اعتراف کیا ہے ’’کہ شہر میں روزانہ 5ہزار ٹن کچرانہیں اٹھایا جا رہا اور بعض سڑکوں پر چھ ماہ سے جھاڑو نہیں دی گئی‘‘ ذرا دیر کو سوچیں جس شہر میں روزانہ 5ہزار ٹن کچرا نہیں اٹھایا جاتا، تووہاں ایک ماہ میں ایک سو پچاس ہزار ٹن کچرا اکٹھا ہو جاتا ہوگا توکیا صورتحال ہوتی ہو گی؟ پاکستان کا معاشی حب آج اپنی تباہی وبربادی کی کھلے عام داستان سنا رہا ہے۔
کیا بلاول بھٹو زرداری نے ان علاقوں کا دورہ کیا ہے؟ جہاں انسان جانوروں سے بھی بدتر زندگی بسر کر رہے ہیں۔ یہ روز بروز کچرے کا گھر بنتا جا رہا ہے، صحت اور صفائی کے حوالے سے کراچی کا ہر دن ، گزشتہ دن سے برا اور بدترین ہوتا ہے۔ یہ روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا آج گندگی اور کچرے کا شہر کہلاتا ہے۔
اس شہر قائد کا انفراسٹرکچر بالکل تباہ ہو چکا ہے۔ اس کو کسی ایک نے دو چار سال میں تباہ نہیں کیا بلکہ پورے 70برس کی شبانہ روز محنت اور

منصوبہ بندی سے تباہ و برباد کیا گیا ہے ۔ بستیاں بغیر کسی نقشے اور منصوبہ بندی کے بسائی جاتی رہی ہیں ۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کراچی کو ایک ہفتے میں کچرے سے پاک کرنے کا حکم دیا اور شہریوں کو پینےکےصاف پانی فراہم کرنے کا کہا ہے۔وہ خود کہتے ہیں کہ میں رات بھر مچھر مارتا رہا۔
ہمارے حکمراں اور تمام سیاسی رہنما اس حقیقت سے بالکل بے خبر ہیں ان کو اندازہ نہیں کہ آنے والے چند برسوں میں پاکستان میں پانی کا بحران سنگین ترین صورت اختیار کرلے گا۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ آئندہ جنگیں پانی پر ہوا کریں گی۔ ویسے اپنے ملک میں آج بھی خصوصاًکراچی میں محلوں میں لڑائیاں تو پانی پر ہی ہوتی رہتی ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال پانچ برس سے کم عمر کے ڈھائی لاکھ بچے صرف آلودہ پانی کے استعمال کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جبکہ دنیا ایسا کہیں نہیں ہوتا ۔ وفاقی وزیر برائے سائنس ٹیکنالوجی رانا تنویر یہ تسلیم کر چکے ہیں کہ پاکستان کی 80فیصد سے زائد آبادی آلودہ اور مضر صحت پانی پینے پر مجبور ہے۔ دوسری جانب چالیس سے ساٹھ فیصدبیماریاں آلودہ پانی سے ہو رہی ہیں۔ بہرحال چیف جسٹس کےپانی اور کچرے کے حوالے سے ریمارکس اور اقدامات کروانے پر لوگ خوش ہیں ۔ جو کام حکومت کے کرنے کا تھا اس پر اعلیٰ عدلیہ نے قدم اٹھایا ہے۔
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اپنے کراچی کے قیام کے دوران ایس آئی یو ٹی گئے اور ڈاکٹر ادیب رضوی سے ملاقات کی ۔ انہوں نے ڈاکٹر ادیب رضوی کے کام اور منصوبہ بندی کی تعریف بھی کی اور اپنے جسمانی اعضاء بعد از مرگ عطیہ کرنے کا اعلان کیا جوانہوں نے ایس آئی یو ٹی کو دینے کا اعلان کیا ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ چیف جسٹس نے اپنے جسمانی اعضاءبعد از مرگ عطیہ کرنے کا جو اعلان کیا ہے وہ قابل تقلید ہے پاکستان کے صحت مند شہریوں اور جو لوگ حادثات میں مر جاتے ہیں یا جن کی برین ڈیتھ ہو جاتی ہے ان کے اعضاء حاصل کر لینے چاہئیں۔ اگر پاکستان میں لوگ اپنے اعضاء عطیہ کرنا شروع کر دیں تو یقین کریں کہ ہر سال لاکھوں افراد کو آنکھوں کی روشنی ، اور نئی زندگی مل سکتی ہے۔ امریکہ میں ڈرائیونگ لائسنس میںدرج ہوتا ہے کہ آپ ڈونیر ہیں یا نہیں ۔ پاکستان میں بھی ڈرائیونگ لائسنس پر اس خانے کا اضافہ کیا جانا چاہئے کہ آپ اپنے اعضاء عطیہ کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔
چیف جسٹس نے گردوں کی غیر قانونی پیوند کاری سے متعلق از خود نوٹس کیس میں ریمارکس دئیے کہ ہمیں گردوں کی غیر قانونی پیوند کاری کو روکنا ہو گا اس کاروبار میں ملوث ڈاکٹروں کو پکڑا کیوں نہیں جاتا۔ حکومت کیوں مانیٹر نہیں کرتی ، وکلاء ریٹائرڈ اور سول سوسائٹی آگے آئیں ، ٹیم بنائیں عدالت معاونت کرے گی۔
جناب چیف جسٹس صاحب دو برس قبل لاہور میں گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری کرنے والے ڈاکٹروں کو ایف آئی اے نے رنگے ہاتھوں پکڑا تھا۔ تاحال پتہ نہیں چل سکا کہ اب ان ڈاکٹروں کا کیا ہوا؟ اور کیس کہاں پر ہے ۔ ڈاکٹر ادیب رضوی کی یہ بات بالکل درست ہے کہ موثر قانون سازی نہ ہونے کے باعث گردوں کی غیر قانونی پیوند کاری جاری ہے ۔ بعد از مرگ انسانی اعضاء کے عطیات حاصل کرنے کی اجازت ہونی چاہئے ورنہ یہ غیر قانونی کمرشل کام جاری رہے گا۔
چیف جسٹس نے ڈاکٹر ادیب رضوی کی سربراہی میں چار رکنی کمیٹی بھی بنا دی۔جس طرح پنجاب میں پروفیسر ڈاکٹر فیصل مسعود جیسے ایماندار فرد کی نگرانی میں پنجاب آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی قائم کی گئی ہے۔ اسی طرح کی اتھارٹی باقی صوبوں میں بھی قائم کرنی چاہئے اور ان اداروں کو بااختیار کر کے فوری طور پر کام شروع کر دینا چاہئے۔ہم پھر کہتے ہیں کہ پی کے ایل آئی گردوں اور جگر کی پیوند کاری سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ البتہ سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورالوجی اینڈ ٹرانسپلانٹ بہت احسن انداز میں کام کر رہا ہے۔
دنیا بھر میں لوگ اعضاء عطیہ کرتے ہیں۔ لیڈی ڈیانا نے مرتے وقت اپنے تمام اعضاء عطیہ کر دئیے تھے ۔ چنانچہ ضرورت اس امر کی ہے کہ علماء کرام اس نیک کام میں آگے آئیں۔ اپنے جمعہ کے خطبات میں لوگوں کو اس طرف مائل کریں اور حکومت نصاب میں اس حوالے سے کوئی باب شامل کرے،ا سکولوں اور کالجوں میں اس حوالے سے خصوصی لیکچرز بھی دئیے جائیں۔
لیں جناب سندھ حکومت نے بھی سندھ فوڈ اتھارٹی قائم کر دی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ اتھارٹی ، پنجاب فوڈ اتھارٹی کی طرح کام کر سکے گی؟ کیونکہ سندھ کا ایک اپنا کلچرل اور سیاسی ماحول ہے۔ جہاں ہر ادارے پر مافیا اوربااثرلوگوں کاقبضہ ہے ۔ کراچی کے تقریباً سبھی ادارے مافیا اور با اثر لوگوں کے سامنے بے بس ہیں ۔ دوسری جانب پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ڈی جی نورالامین مینگل کی خدمات بلوچستان کے حوالے کر دی گئیں۔ حالانکہ وہ بڑا اچھا کا م کر رہے تھے۔ پنجاب حکومت نے نور الامین مینگل کوریبو کرنے سے انکار کر دیاہے دیکھتے ہیں کہ و ہ جاتے ہیں ، یاپھر اپنا کام جاری رکھتے ہیں یہ بڑی حیران کن بات ہے کہ اس سے قبل جب عائشہ ممتاز نے بھی تابڑ توڑ چھاپے مارے تو ان کو بھی کچھ خفیہ قوتوں نے او ایس ڈی بنوا دیا تھا۔کچھ عرصہ سے نو رالامین مینگل نےبھی ناقص اشیاء، گندے ہوٹلوں، بیکریوں پر چھاپےمارنے زیادہ شروع کر دیئے تھے۔ اب ان کا تبادلہ ہو گیا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مافیا اور خفیہ ہاتھ ان سرکاری اداروں سے زیادہ مضبوط ہیں، پھر ایسے سرکاری ادارے جو عوام کے مفاد عامہ میں کام کرتے ہیں وہ کس طرح عوام کی صحت اور صفائی کے لئے اقدامات کر سکیںگے؟
حالات یہ ہیں کہ سپریم کورٹ نے تمام رکاوٹیں ہٹانے کا حکم دیا تھا مگر لاہور میں ایمپریس روڈ پر پولیس نے پھر ایک جگہ جہاں پر سڑک کا کٹ ہے وہاں رکاوٹیں لگا دی ہیں جس سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
سپریم کورٹ نے اسحاق ڈار کے گھر کے آگے سڑک بنانے اور پارک کو ختم کر نے کے حوالے سے جو قدم اٹھایا ہے وہ لائق تحسین ہے ذرا دیر کو سوچیں کہ یہ کیسے عوامی لیڈر ہیں۔ جو حکمراں بنتے ہی عوام پر پہرے لگا دیتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے سرکاری پینافلیکس کا اتارنے کا جو حکم دیا ہے وہ بھی بالکل درست ہے پورے ملک میں جتنا پیسہ پینا فلیکس پر برباد کیا جا رہا ہے ۔ اس کا نصف ہی اگر عوامی منصوبوں میں لگا دیا جائے تو پینے کے صاف پانی اور دیگر مسائل حل ہو جائیں گے ۔ دلوں میں انسان زندہ پینا فلیکس کی وجہ سے نہیں رہتا۔ اپنے کام سے زندہ رہتا ہے ۔ سرگنگا رام نے بے شمار عوامی مفاد کے کام کئے تھے مگرپوسٹر یا بینر نہیں لگوائے تھے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں