آپ آف لائن ہیں
منگل14؍ محرم الحرام 1440 ھ25؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ہیٹ ویو سے محفوظ رہنے کے طریقے

موسم گرما کا ابھی آغاز ہواہی ہےکہ کراچی کے کئی علاقے گرمی سے اُبلنے لگے ہیں۔ صر ف یہی نہیں، محکمہ موسمیات نے مئی اور جون میں رمضان المبارک کے دوران شہر میں شدید گرمی اور ممکنہ ہیٹ ویو کی بھی پیش گوئی کردی ہے۔ 

رمضان المبارک میں ہیٹ ویو کے باعث پریشان کن صورت حال پیدا ہوسکتی ہے۔ محکمہ موسمیات کو صورت حال کی سنگینی کااندازہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میٹ آفس نے شہری اور صوبائی حکومتوں کو ابھی سے خبردار کردیا ہے۔

ہیٹ ویو سے محفوظ رہنے کے طریقے

ہیٹ ویو کیا ہے؟

جب کسی علاقے، شہر یا ملک میں، موسمیاتی تبدیلی کے باعث، اوسط (Average)یا عمومی درجہ حرارت کے مقابلے میں کہیں زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیا جائے تو موسم کی اس کیفیت کو گرمی کی شدید لہر(Heat Wave)کا نام دیا جاتا ہے۔ اسے اردو میں ہم لو بھی کہہ سکتے ہیں۔ شدید گرمی کی یہ لہرایک دن سے لے کر کئی روز اور ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔

محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق، اس سال گرمی، اوسط درجہ حرارت سے کئی درجے زیادہ پڑنےکا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل غلام رسول کا کہنا ہے کہ، عالمی موسمیاتی حدت (Global Warming) میں اضافے کے باعث، ہیٹ ویوز کی کیفیت مستقل، پہلے سے زیادہ شدید اور طویل ہوتی جائے گی۔

ہیٹ ویو کے صحت پر اثرات

ہیٹ ویو کے باعث ہیٹ اسٹروک اور انسانی جسم میں پانی کی کمی کی شکایت پیدا ہوسکتی ہے۔

2015کی ہیٹ ویو

سال 2015میں کراچی کو شدید ترین ہیٹ ویو نے لپیٹ میں لے لیا تھا۔ 19جون سے شروع ہوکر پانچ سے زائد روز جاری رہنے والی اس ہیٹ ویو میں 12سو قیمتیں جانیں ضایع اور 40ہزار سے زائد شہری ہیٹ اسٹروک کا شکار ہوگئے تھے۔

ہیٹ اسٹروک کی علامات

متاثرہ فرد اور ریسکیو سروسز پر مامور افراد کے لیے جانی نقصان سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہیٹ اسٹروک کی علامات سے باخبر ہوں۔ ہیٹ اسٹروک کی علامات کچھ اس طرح کی ہوتی ہیں:

سانس لینے میں دقت محسوس کرنا،دل کی دھڑکن اور سانس کا بڑھ جانا،پسینہ آنا رُک جانا،متلی محسوس ہونا /قے کرنا،بے ہوشی کے دورے پڑنا،سر میں شدید درد محسوس کرنا،جسم میں پانی کی کمی ہوجانا،جلدکا گرم اور لال ہوجانا

احتیاطی تدابیر

پانی کا استعمال بڑھادیں: جسم میں نمکیات کی کمی کو پورا کرنے کے لیے او آر ایس اور لیموں کا پانی پئیں۔ پانی آپ کے جسم کے درجہ حرارت کو معمول پر رکھتا ہے، چنانچہ گرمی کے دنوں میں زیادہ سے زیادہ پانی پئیں۔ دن میں6 سے 7 لیٹر پانی پئیں، جب کہ صبح 11 بجے سے سہ پہر 4 بجے تک دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں۔ اگر روزے کی حالت میں ہیں تو فوراً روزہ توڑ دیں۔

فوراً نہائیں۔ پنکھے کا رخ اپنی طرف کرلیں تاکہ آپ کے جسم کا درجہ حرارت کم ہوسکے۔

انتہائی شدید درجہ حرارت 106-108C کی صورت میں اپنی گردن، بغلوں، گھٹنوں اور پیٹھ پر برف کے ٹکڑے رکھیں۔

ہیٹ اسٹروک سے اُٹھنے والا بخار، دوائی سے ٹھیک نہیں ہوتا۔ اس لئے خود سے کوئی علاج نہ کریں۔

علامات دور نہ ہونے کی صورت میں فوری طور پر ہسپتال کا رُخ کریں۔

پیشگی احتیاط

بچوں کو بند کار میں نہ چھوڑیں: دن کے اوقات میں اگر باہر جانا ہو تو بند گاڑی میں کبھی بھی بچوں یا جانوروں کو نہ چھوڑیں۔ یہ عمل ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔

اپنا شیڈول بنائیں: شدید گرمی کے دنوں میں باہر نکلنے سے ہر ممکن پرہیز کریں۔ کوشش کریں کہ باہر نکلنے والے کام صبح سورج نکلنے سے پہلے یا شام کے وقت نمٹالیں۔ گھر سے باہر نکلتے ہوئے سن اسکرین، دھوپ کے چشمے اور کیپ کا استعمال کریں۔ سورج کی براہ راست تپش سے جتنا زیادہ محفوظ رہیں، اتنا بہتر ہے۔باہر نکلتے وقت سر اور منہ کو گیلے کپڑے سے ڈھانپنا اور بھی بہتر ہوگا۔

کیا کراچی ایک اور ہیٹ ویو برداشت کرسکتا ہے؟

درختوں کی کٹائی، بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر، دن بدن فیکٹریوں اور صنعتوں میں اضافے اور ان سے نکلنے والے دھویں نے ساحلی شہر ہونے کے باوجودکراچی کو گرم ترین شہر میں تبدیل کردیا ہے۔یہ تبدیلی بہ مشکل 2 عشروں میں وقوع پذیر ہوئی ہے۔ وہ دن زیادہ پرانے نہیں، جب شہر میں ہر وقت سمندر کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں چلتی تھیں، موسم معتدل رہتا تھا اور ہر موسم کی بارشیں وافر مقدار میں پڑا کرتی تھیں۔

سال 2015کے افسوسناک واقعات سے سیکھتے ہوئے، مقامی اور صوبائی حکومتوں اور دیگر اداروں نے ہیٹ ویو سے بچنے کے لیے حکمت عملی ضرورت بنائی ہے، جس کے بعد گزشتہ تین برسوں میں شہر میں شدید گرمی سے اموات واقع نہیں ہوئیں۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ اگر 2015جیسی صورت حال لوٹ آئے تو کیا اس حکمت عملی کے تحت اس کا مقابلہ کیا جاسکے گا؟

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں