آپ آف لائن ہیں
پیر2؍ذیقعدہ 1439ھ 16؍جولائی2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
دنیا کی چند قدیم و جدید لائبریریوں کا تذکرہ

ڈاکٹر شیر شاہ سید

ہم نے دنیا کی چند قدیم و جدید لائبریریوں کے حوالے سے سلسلہ شروع کیا ہے، پچھلے ہفتے آپ نے پاکستان، چین اور ہندوستان کی قدیم و جدید لائبریریوں کے بارے میں پڑھا اس ہفتے جاپان، انڈونیشیا، ملائشیا، فلپائن، تھائی لینڈ اور میانمارکی لائبریریوں کے بارے میں ملاحظہ کیجیے۔

جاپان

جاپان میں قدیم ترین لائبریری 550قبل مسیح میں بنائی گئی۔ یہ لائبریری ایک چینی ، دی کانگ تھا نے شہنشاہ کمی کے زمانے میں بنائی تھی، یہ بدھ مذہب کا ماننے والا تھا۔ وہ اپنے ساتھ چین سے مذہب ، طب کی کتابیں اور نقشے لے کر آیا، جن میں انسانی جسم کے خاکوں پر ان مختلف مقامات کی نشاندہی کی گئی ھی جو اکیوپنکچر کے طریقہ علاج میں استعمال کئے جاتے ہیں۔وہ گوتم بدھ کے 164فرمان بھی لے کر آیا تھا، مگر یہ لائبریری آگ لگنے سے تباہ ہوگئی تھی۔

جاپان میں باضابطہ لائبریری کا قیام 702عیسوی میں عمل میں آیا، جہاں بدھ مت اور کنفیوشس مذہب سے متعلق کتابیں رکھی گئیں، تاریخی شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ اس لائبریری میں کاغذ بنانے والے ماہر، روشنائی اور برش بنانے والے کارندے ،ملازم تھے ۔آہستہ آہستہ کتابوں کا ذخیرہ بنتا گیا، جس کی باضابطہ فہرست بھی بنائی گئی ۔ 

دنیا کی چند قدیم و جدید لائبریریوں کا تذکرہ

لائبریری سے کتابوں کے حصول کے قوانین بھی بنائے گئی 833 عیسوی میں اس عمارت میں آگ لگ گئی ،جس کی وجہ سے یہ قدیم لائبریری تباہ ہوگئی۔ بعد ازاں جاپان میں جدید لائبریری کا قیام 1872ء میں عمل میں آیا اور 1892ء میں جاپان لائبریری ایسوسی ایشن بنائی گئی۔ آج کے جاپان میں قانون کے مطابق ہر پچاس ہزار کی آبادی پر ایک لائبریری قائم ہے، جہاں عوام کو مفت خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔ 

عوامی لائبریریوں کے علاوہ ملک کی 758یونیورسٹیوں میں مخصوص تعلیمی اور تحقیقی لائبریریاں بھی قائم ہیں۔ اس وقت جاپان کی یونیورسٹیوں کی لائبریریوں میں 291کروڑ 10لاکھ کتابیں رکھی ہوئی ہیں۔ جاپان کے ہر اسکول میں لائبریری کا ہونا لازمی ہے۔ پارلیمینٹ کے ممبران کے لئے خصوصی لائبریری ہے اور موبائل لائبریریاں بھی موجود ہیں، جو ملک کے مختلف حصوں میں عوام کو کتابیں فراہم کرتی ہیں۔

دنیا کی چند قدیم و جدید لائبریریوں کا تذکرہ

انڈونیشیا ،ملائیشیا

انڈونیشیا میں پہلی لائبریری کا قیام 1779ء میں عمل میں آیا، جو رائل بٹاوین سوسائٹی آف آرٹس اینڈ سائنس نے رکھی ۔ یہ سوسائٹی ڈچ حکمران نے انڈونیشیا کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات جمع کرنے کے لیےبنائی تھی۔ جدید لائبریریوں کا قیام بھی ڈچ حکومت کے زیر اہتمام ہوا اور کئی شہروں میں لائبریریاں بنائی گئیں۔ انڈونیشیا کی آزادی تک پورے ملک میں ڈچ حکمران نے 2500سے زائد لائبریریاں قائم کر دی تھیں۔ بد قسمتی سے آزادی کے بعد حکمرانوں نے لائبریریوں کے اوپر خاص توجہ نہ دی ۔

ملائشیا میں بھی باضابطہ لائبریریوں کا سلسلہ یورپی اقوام کی آمد کے بعد شروع ہوا۔ ابتداء میں چند لائبریریاں بنائی گئیں، جو حکومتی اہل کاروں کی دل چسپی کی وجہ سے قائم ہوئیں۔ آزادی کے بعد جب ملائشیا کی حکومت نے تعلیمی بجٹ میں اضافہ کیا ، تو ملک میں لائبریریاں بننی شروع ہوئیں، جن کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔

فلپائن

اسپین کے شاہی حکمرانوں نے 1521ء میں فلپائن میں اپنے نمائندے بھیجے۔ فرڈیننڈ میگلین یہاں پہنچنے والا پہلا جہازی تھا۔ 1572ء تک اسپین فلپائن پر قابض ہوچکا تھا۔ 1565ء سے 1780ء تک فلی باش میں ڈچ حکمرانوں نے تعلیم کا آغاز کیا اور لائبریریوں کا قیام عمل میں لائے تاکہ مقامی آبادی کو کیتھولک بنایا جاسکے ، اس کوشش میں وہ کافی حد تک کام یاب بھی ہوئے۔ اس دوران فلپائن میں اسپینی زبان میں مذہبی کتابیں نہ صرف بڑی تعداد میں درآمد کی گئیں بلکہ مقامی طور پر شائع بھی کی گئیں۔

فلپائن میں باضابطہ عوامی لائبریریوں کا قیام 1780ء کے بعد عمل میں آیا، جب اسپینی حکمرانوں نے یورپ کے طرز پر فلپائن میں لائبریریاں قائم کرنی شروع کیں۔ جب امریکی حکومت نے فلپائن میں دخل اندازی شروع کی، تو انہوں نے امریکی فوجیوں کے لیےلائبریریاں بنائیں ، فلپائن میں آزادی کے بعد ملک میں لائبریاں قائم کرنے کا سلسلہ برقرار رکھا گیا ہے۔

دنیا کی چند قدیم و جدید لائبریریوں کا تذکرہ

تھائی لینڈ اور میانمار

تھائی لینڈ میں ابتدائی لائبریریوں کی نشانیاں ملی ہیں، جو چھٹی صدی میں قائم کی گئی تھیں۔ یہاں پتھروں ، لکڑی کی تختیوں اور مٹی و پتھر کے کتبوں پر لکھی ہوئی تحریروں کا ذخیرہ بھی ملا ہے اور ہاتھ سے لکھی ہوئی بہت سی کتابیں محفوظ ہیں۔ تھائی لینڈ کی حکومتوں نے تعلیمی بجٹ میں اضافہ کیا ، جس کے ساتھ ملک میں لائبریریوں کی تعداد میں کافی حد تک اضافہ ہوا ۔

برما آج کے میانمار کے شاہی محل میں قدیم کتابوں کی ایک لائبریری تھی، جسے برطانوی فوجوں نے برما کی جنگ میں جلا کر خاک کردیا اور کچھ قدیم کتابیں لوٹ کر انگلستان لے گئے۔ میانمار کی کچھ قدیم کتابیں انگلستان کی لائبریریوں میں محفوظ ہیں۔ اس لائبریری کا شمار یہاں کی قدیم ترین لائبریریوں میں ہوتا تھا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں