آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات6؍ ربیع الاوّل 1440ھ 15؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کپاس کی چھدرائی اور جڑی بوٹیوں کی تلفی

نوید عصمت کاہلوں

کپاس دنیا کی ایک اہم ریشہ دار فصل ہے۔ اس سے لباس اور کپڑے کی دوسری مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔ کپاس پاکستان کے کاشتکاروں کی ایک منافع بخش اورنقد آور فصل ہے۔ بدلتے موسمی حالات میں کپاس کی بہتر پیداوار حاصل کرنے کیلئے بہترین حکمت عملی مرتب کرنا وقت کا اہم تقاضا ہے ۔کپاس کی فی ایکڑ زیادہ پیداوار کے حصول کیلئے پودوں کی سفارش کردہ تعداد، چھدرائی ، جڑی بوٹیوں کی تلفی، بیماریوں کا تدارک، ضرررساں کیڑوں کا انسداداور فصل کی بروقت آبپاشی وغیرہ بہت اہم مراحل ہیں۔ کپاس کی کاشت کے بعد چھدرائی کا عمل بہت ضروری ہے۔ اچھی اور معیاری پیداوار کے حصول کیلئے قطاروںاورپودوں کاسفارش کردہ درمیانی فاصلہ برقرار رکھنا بہت ضروری ہے تاکہ پودے جگہ کی مناسبت سے بڑھوتری کر سکیں۔ کپاس کی بہتر پیداوار کیلئے پودوں کی فی ایکڑ تعداد 17 ہزار سے23 ہزار رکھی جائے اور مطلوبہ تعداد حاصل کرنے کیلئے پودوں کا درمیانی فاصلہ9انچ تا12 انچ رکھا جائے۔ اگر پودوں کی تعداد زیادہ ہو تو پودوں کا قد بہت زیادہ ہو جاتا ہے اور پھل دار شاخیں کم بنتی ہیںیا ان کا سائز چھوٹا رہ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ پودوں کے نچلے حصوں تک روشنی نہیں پہنچتی اور سپرے بھی بہتر طور پر نہیں ہوسکتی۔ اگر پودوں کی تعداد کم ہو تو فی ایکڑ پیداوار بھی کم ہوجاتی ہے لہذا پودوںکی مناسب تعداد پوری کرنے کیلئے چھدرائی کا بروقت عمل انتہائی ضروری ہے۔ چھدرائی کا عمل بوائی سے 20 تا 25 دن کے اندر مکمل کر لیا جائے۔پہلی چھدرائی اس وقت کی جائے جب پودوں کا قد6 انچ ہو اور دوسری چھدرائی اس وقت کی جائے جب پودوں کا قد 12 انچ تک ہوجائے۔ چھدرائی کا مقصد ایک تو پودوں کی تعداد پوری کرنا اور ان کا درمیانی فاصلہ یکساں رکھنا ہے اس کے علاوہ دوسرا مقصد کھیت میں صرف صحت مند پودے رکھے جائیں اور کمزور یا بیمار پودے کھیت سے نکال دئیے جائیں۔ چھدرائی کے بعد جڑ ی بو ٹیوں کی تلفی بھی بہت ضروری ہے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ کپاس کی فصل میں جڑی بوٹیوں کی بہتات کی وجہ سے فی ایکڑ پیداوار میں 50 فیصد تک کمی ہوجاتی ہے۔کھیت میں جڑی بوٹیاںاگ آنے کی وجہ سے کپاس کی فصل میںنمی کی کمی ہوتی ہے،پودوں کو خوراکی اجزاء کم ملتے ہیں اور یہ جڑی بوٹیاںنقصان دہ کیڑوںاور بیماریوں کی پناہ گاہ کے علاوہ ان کے پھیلائو کاکام کرتی ہیں۔ خاص طور پر یہ کپاس کی پتہ مروڑ وائرس ، سفید مکھی ، سبز تیلا اور ملی بگ کے پھیلائو کا باعث بنتی ہیں۔ کپاس کی جڑی بوٹیوں میں اٹ سٹ، لمب، مدھانہ گھاس، جنگلی چولائی، لہلی، قلفہ، تاندلہ، ہزار دانی اور ڈیلا وغیرہ اہم ہیں۔ فصل کو نقصان سے بچانے کے لیے جڑی بوٹیوں کی تلفی کا مناسب بندوبست کرنا چاہیے اس کے لیے ضروری ہے کہ زمین کی تیاری کے وقت پچھلی فصل کی باقیات کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔ اس کے لیے روٹاویٹر اور مٹی پلٹنے والا ہل چلایا جائے تو بہت حد تک جڑی بوٹیوں کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ جڑی بوٹیوں کی تلفی کیلئے کپاس کی فصل میں کاشت کے 45 تا 50 دن کے اندر حسب ضرورت ایک یا دو دفعہ خشک گوڈی کی جائے یا ٹریکٹر کی مدد سے لائنوں کے درمیان ہل چلائے جائیںتو جڑی بوٹیوں کو موثر طور پر تلف کیا جاسکتا ہے۔ خشک گوڈی کی گہرائی 2 سے 2½ انچ رکھی جائے۔ اس کے علاوہ ہر آبپاشی اور بارش کے بعد وتر حالت میں بھی گوڈی کا عمل دہرایا جائے۔ گوڈی مناسب وتر میں کی جائے تاکہ کھیت میں ڈھیلے نہ بنیں۔ کپاس کی فصل کیلئے دو قسم کی جڑی بوٹی مار زہریں استعمال کی جاتی ہیں۔ فصل کے اگائو سے پہلے والی جڑی بوٹی مار زہریں اور فصل کے اگائوکے بعدوالی جڑ ی بوٹی مار زہریں۔ فصل کے اگائو سے پہلے استعمال ہونے والی جڑی بوٹی مار زہروں کو تین طریقوں سے سپرے کیا جاسکتا ہے ۔رائونی سے پہلے تیار زمین پر ان زہروں کا یکساں سپرے کیا جائے اوربعد میں کپاس کاشت کی جائے۔ دوسرے طریقے میں رائونی کئے ہوئے کھیت میں وتر آنے پر رمبڑ لگایا جائے اور ان زہروں کا یکساں سپرے کر نے کے بعد کھیت کو اچھی طرح تیار کیا جائے اور کپاس کاشت کی جائے۔ تیسرے طریقہ میں کھیت کی تیاری کے وقت آخری ہل لگانے سے پہلے ہموار کھیت پر ان زہروں کا سپرے کیا جائے اور بعد میں ہلکا ہل یا سہاگہ لگا کر کپاس کاشت کی جائے۔ تیسرا طریقہ جڑی بوٹیوںکی تلفی کیلئے زیادہ مفید ہے۔ پٹڑیوں پر کاشت کی گئی کپاس کے کھیتوں میں 24گھنٹے کے اندر وتر حالت میں جڑی بوٹی مار زہروں پینڈی میتھالین (33 ای سی)بحساب ایک لٹر فی ایکڑ اور ایس میٹاکلور (960 ای سی) بحساب 800 ملی لٹر فی ایکڑکا سپرے کیا جائے۔ جڑی بوٹی مار زہر پینڈی میتھالین ایس میٹاکلور کی نسبت کپاس کی فصل کیلئے زیادہ محفوظ ہے۔ کپاس کی فصل کے اگائوکے بعداستعمال ہونے والی جڑ ی بوٹی مار زہروں میں سلیکٹو اور نان سلیکٹو شامل ہیں۔ نان سلیکٹو زہروں میں پیراکواٹ ڈائی کلورائیڈ (20 ای سی) جڑی بوٹی مار زہر کو شیلڈ لگا کر اگی ہوئی کپاس کے کھیتوں میں سپرے کیا جائے تا کہ ان زہروں کے استعمال کے وقت کپاس کے پودوں کو نقصان نہ پہنچے جبکہ ہیلوکسی فوپ (10.8 ای سی) جڑی بوٹی مار زہر بحساب300ملی لٹر فی ایکڑ اورکیوزیلوفوپ (10 ای سی) جڑی بوٹی مار زہر بحساب 250 ملی لٹر فی ایکڑاستعمال کی جائیں۔ یہ دونوں جڑی بوٹی مار زہریں کپاس کی فصل میں اگنے والی گھاس نما جڑی بوٹیوں کی تلفی میں زیادہ موثر ثابت ہوئی ہیں۔ کپاس کی فصل میں پانی کا صحیح استعمال جڑی بوٹیوں کو حد کے اندر رکھنے میں بہت سود مند ہے۔ وٹوں اور پٹڑیوں پر کاشتہ کپاس کی فصل کو پانی ہمیشہ درست مقدار میں لگایا جائے۔ پانی اگر وٹوں یا پٹڑیوں کے اوپر چڑھ جائے تو اس سے فصل کا اگاؤ متاثر ہوتا ہے اور جڑی بوٹیوں کو پنپنے کا موقع ملتا ہے۔ کپاس کے کھیتوں میں سے گزرنے والے کھالوں اور کھیت سے ملحقہ سڑکوں، وٹوںاور بنوں کی اچھی طرح صفائی کرنے سے جڑی بوٹیوں کے بیج کھیت تک نہیں پہنچ پاتے۔ کپاس کی کاشت اور دوسرے بین الکاشتی امور سر انجام دیتے وقت صاف زرعی مشینری و آلات استعمال کئے جائیں تاکہ جڑی بوٹیوں کا پھیلاؤ ہرممکن طریقہ سے کم سے کم کیا جائے۔کپاس کی فصل میں جڑی بوٹی مار زہر یں استعمال کرتے وقت سپرے مشین کو اچھی طرح دھو لیا جائے اور سپرے سے پہلے مشین کی اچھی طرح کیلی بریشن کی جائے۔ٹی جیٹ یا فوم نوزل استعمال کی جائے اور فی ایکڑ 100 سے120 لٹر پانی استعمال کیا جائے ۔زیادہ تیز ہوا چلنے اور ہوا کے مخالف سمت میں سپرے نہ کی جائے۔ اگر بارش کا امکان ہو تو جڑی بوٹی مار زہروں کے سپرے کا عمل روک دیا جائے۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں