آپ آف لائن ہیں
منگل14؍ محرم الحرام 1440 ھ25؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

31۔ مئی 2018ء رات بارہ بجے!
’’ن‘‘ لیگ کی منتخب حکومت کی آئینی مدت مکمل ہوئی، قائد حزب اقتدار اور قائد حزب اختلاف کے اتفاق رائے سے نگران وزیراعظم کا اعلان کیا گیا، ان سطور کی اشاعت تک نگران وفاقی کابینہ اور نگران صوبائی حکومتوں کے قیام کی عمل پذیری شروع ہو چکی ہوگی!
پاکستان پیپلز پارٹی کی گزشتہ منتخب حکومت کے بعد یہ دوسری منتخب حکومت ہے جس کے اقتدار کا آئینی دورانیہ پایہ تکمیل کو پہنچا، اب پیپلز پارٹی ہی کی طرح عام انتخابات کے بعد پاکستان کی نئی اکثریتی پارٹی کو آئینی اقتدار سونپ دیا جائے گا۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں 2008ء سے 2018 کا دس سالہ دورانیہ ہی ہے جس میں دو مسلسل منتخب جمہوری حکومتوں نے اپنی اپنی آئینی حکومت کے پانچ پانچ سال پورے کئے، 2008ء سے پہلے کی داستان دردناک ہے یعنی کوئی بھی عوامی جمہوری حکومت اپنے آئینی اقتدار کا آئینی حق حاصل نہ کر پائی۔
دس برس کے اس دورانیے میں یہ ’’آئین کی بالادستی، ووٹ کی حرمت اور جمہوری تسلسل کی ’’فتح مبین‘‘ ہے۔ سید مودودی نے ایک بار، خاکسار ان کا یہ حوالہ بار بار ریکارڈ پر لارہا ہے، کہا تھا ’’پاکستان کے تمام مسائل کا حل مسلسل تین جمہوری انتخابات کا انعقاد‘‘ ہے، دو منتخب جمہوری حکومتوں کی آئینی مدتوں کی تکمیل اور اقتدار کی آئینی منتقلی

کے ان د و تاریخی واقعات کے بعد ہمیں اپنے ذہنی تجزیے کی روشنی میں سید مودودی کے قول میں پوشیدہ وژن کو سامنے لانا ہوگا۔
2008ءکے بعدپاکستانی عوام کے ووٹوں سے معرض وجود میں آنے والی دو مسلسل منتخب جمہوری حکومتوں کے خلاف ملک میں موجود ظاہری، مذہبی اور باطنی، گروہوں اور افراد نے ان جمہوری حکومتوں کو ’’جرائم کی مائیں‘‘ اور ان کی کارکردگیوں کو ’’مجرموں کی آغوشیں‘‘ ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔
جمہوری اور غیر جمہوری کی جدوجہد میں بہرحال گزشتہ دس برسوں میں جمہوریت دشمنوں کی یہ دوسری ہار ہے، سید صاحب کے وژن میں پوشیدہ مضمرات کا تعلق غالباً انتخابی تسلسل کے تیسرےوقوعہ کے بعد اس غیر سیاسی تہذیب و ثقافت کی گنجائش ختم ہونے سے ہے جس کی موجودگی میں جمہوریت بیزار عناصر منتخب حکومتوں کے بجائے، بلا عوامی رائے کے، ملک و قوم کے لئے ’’مسیحائوں‘‘ کی حکومتیں تجویز کرتے رہتے ہیں۔ تیسرے عام انتخابات کا کامیاب انعقاد ان کے ایسے حربوں کا آخری باب ہوگا!
عوام کے ووٹوں سے منتخب شدہ جمہوری حکومتیں! خواہ ان کا دورانیہ چار سال کا ہو یا پانچ سال ہی رہے، عوامی شعور کو اپنے عملی مظاہر سے بے پناہ رفتار کے ساتھ حقائق کا ادراک کرائے گا، وہ ملک و قوم کے تمام شعبوں میں ارتقائی صورت حال کا مشاہدہ کرسکیں گے، انہیں ہر چار یا پانچ برس بعد اپنے عوامی نمائندوں پر دبائو بڑھانے کا موقع میسر آئے گا، یہ مواقع ان کے اعتماد کو ہمالہ کی بلندیوں پر لے جائیں گے، پاکستانی سماج کی تمام جاگیرداریوں، مذہبی اجارہ داریوں، پیر پرستیوں، جنونی گروہوں، دانشوروں کی قومی حوالوں سے پیدا کردہ مبالغہ آرائیوں، جارحیت پسند ٹی وی اینکروں، ان کی سیکنڈ لسٹ اور غیر واقعاتی کہانیوں کے سارے کاروبار، سارے لطف اور ساری سازشی لذتوں کے بازار ویران ہوتے چلے جائیں گے، ووٹر کا ہر چار سال یا پانچ سال بعد ووٹ ڈالنے کا عمل بالآخر ان تمام مزیدار تخریب کاریوں کی وفات حسرت آیات میں تبدیل ہو کے رہے گا۔
تیسرے متوقع عام انتخابات کی منزل تک پہنچنے کی صورت میں الیکٹرانک میڈیا میں موجود بعض لوگوں کے ’’غیر ذمہ دار رویوں‘‘ سے پیدا شدہ سنسنی خیزیاں یتیم ہوتی چلی جائیں گی، عوام ان کی سماعت تو درکنار ان سنسنی خیزیوں کی جانب نگاہ غلط انداز ڈالنا بھی گوارا نہیں کریں گے، ایک وقت ایسا آسکتا ہے جب الیکٹرونک میڈیا ’’سبزیوں کے بھائو‘‘، ’’صحت کی دوائوں‘‘ اور ’’زراعت کے فوائد‘‘ کے علاوہ کسی بھی موضوع پر طبع آزمائی نہیں کرسکے گا، اس لئے کہ تیسرے عام انتخابات تک پہنچتے پہنچتے پاکستانی ووٹر جمہوری تسلسل کے تاریخی فوائد سے پوری طرح فیض یاب ہو چکے ہونگے!
پاکستانی عوام پر بصیرت کا نزول ہوگا، ان کا ووٹ انہیں مستقبل بینی کی صلاحیت دے گیا ہوگا، وہ اپنے سمیت ساری دنیا کو کرپشن، خارجہ تعلقات، بھارت، امریکہ، فلسطین، پولیس مظالم، عدالتی دائرہ کار میں غیر ضروری اضافوں سے لے کر ہر شعبہ حیات کے مسائل پر باقاعدہ اپنے طرز فکر سے آگاہ کررہے ہوں گے اور ’’ایک سیاستدان‘‘ ہی ’’دنیا کا سب سے بڑا گنہگار ہے‘‘ کی تھیوری اور جال سے خود کو آزاد کرا چکے ہوں گے۔
یہ جو انفرادی واقعات میں لاقانونیت، کرپشن، اقربا پروری اور ہوس کاریوں کا تعلق ’’جمہوری نظام‘‘ کے نتائج سے جوڑا جاتا ہے، ووٹر اس ’’فراڈ‘‘ کی تہہ تک پہنچ کر اس غلط اپروچ کا کچا چٹھا کھول دے گا، وہ پاکستان میں ’’سیاستدانوں‘‘ کی کارکردگی کے لئے ’’قیام وطن سے لے کر گوادر‘‘ تک کی داستان دہرائے گا، وہ ان تمام سوالات کا جواب بھی مانگے گا جن کا تشکیل شدہ کمیشنوں اور تحقیقاتی کمیٹیوں سے تعلق تھا، ابھی صرف دس برس میں صرف دو مسلسل جمہوری منتخب حکومتوں کے دو ادوار گزرے ہیں، ان دونوں ادوار میں مقتدر قوتوں کے نمائندوں کو پارلیمنٹ میں بلا کر ان سے سوال و جواب ہوئے، ان دو ادوار میں ہی 70برسوں سے معلق پوزیشن ’’ووٹ‘‘ کی ’’عزت‘‘ کا مطالبہ قومی مشن کا رتبہ پا چکا، ہر پاکستانی ’’ووٹ کی عزت کیوں نہ ہوسکی‘‘ کے کس نے نہیں ہونے دی‘‘ کے بنیادی عوامل سے آگاہی پا چکا، تیسرے عام انتخابات کا انعقاد تو ہمیں ’’آئین کی بالادستی، ووٹ کی حرمت اور جمہوری تسلسل‘‘ کے عظیم ترین عہد میں لے جائے گا جہاں کوئی اور کسی بھی قسم کا ’’طاقتور‘‘ ملکی آئین کے مقابل یا ملکی آئین سے بالا کوئی مقام کسی منتخب حکومت کو نہیں دےسکے گا!
پاکستان او رپاکستانی ریاست میں جمہوری تسلسل ہمارے مصائب و عوارض کے کینسروں کا مستقل علاج ہے، یہ ملک کالم نگاروں اور ٹی وی اینکر پرسنوں کی ذاتی طبائع کی جولانیوں اور نفس پرستانہ شوخیوں پر نہیں چلایا جاسکتا، نہ ہمیں قومی سطح پر ایسے کبیرہ گناہ کے قریب بھی پھٹکنے تک کا خیال آنا چاہئے، ان لوگوں کی اکثریت بین الاقوامی امور سے لے کر کامونکی کی کسی گلی میں پھیلے ملیریے تک ’’رائے‘‘ نہیں ’’فیصلے‘‘ دیتی ہے۔ قومیں اپنے لئے اجتماعی غور و فکر کی پالیسیوں کو ترجیح دیا کرتی ہیں اور یہ ترجیح انہیں مسلسل انتخابات کا انعقاد ہی فراہم کرسکتا ہے، یاوہ گوئی، مفاد پرستی اور طلب شہرت کی غیر راست بازیاں قوم کا اجتماعی ضمیر ہمیشہ مقرر کرتا رہا ہے، دوسری منتخب جمہوری حکومت کی آئینی مدت کا مکمل ہونا ان تینوں اجتماعی گناہوں کی دلدلوں میں گردن گردن پھنسے ہوئے تمام بالواسطہ اور بلاواسطہ کرداروں کی عبرت ناک نظریاتی موت ہے!
الیکشن ملتوی ہوتے ہیں یا نہیں؟ پاکستانی قوم اس تشویش میں وقت کا زیاں کرنے کے بجائے ’’آئین کی بالادستی، ووٹ کی حرمت اور جمہوری تسلسل‘‘ کے نصب العین پر اپنی توجہ مرتکز رکھے، قوم میں جن قوتوں اور موضوعات کا چند برس پہلے سات پردوں میں تذکرہ نہیں ہوسکتا تھا، اب وہ تمام موضوعات پاکستان کے ہر قومی موڑ پر سوال بنے کھڑے ہیں جن کا قوم جواب چاہتی ہے، یہ جواب 1967ء میں پاکستان پیپلز پارٹی نے شروع کیا تھا، افسوس 2018ء میں اسے منزل مقصود تک لے جانے کا تاج مسلم لیگ ’’ن‘‘ کے سر پر سجتا دکھائی دیتا ہے!
تاریخ کے اپنے رنگ ہیں، اس کا برش بھی اپنا ہی ہے!

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں