آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پانی زندگی ہے یا موت؟

اگر یہ کہا جائے کہ پانی انسانی زندگی کا ایک اہم جُز ہے تو یہ غلط نہیں ہوگا ،کیوں کہ اس کی بدولت ہی انسانی زندگیاں بھر پور طریقے سے رواں دواں ہے ۔اگر یہ نہ ہوتو جینامحال ہوجاتا ہے،یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم ایسے سیارے پر رہتے ہیں جہاں زندگی پوری آب وتاب سے گزر رہی ہے اور اس کی اہم وجہ یہاں پر پانی کا ہونا ہے ۔ہماری زمین کا 70 فی صد حصہ پانی اور 30 فی صد خشکی پر مشتمل ہے لیکن اس کے باوجود ہمیں ہر دوسرے دن پانی کے مسائل کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے ۔نہ پینے کے لیے صاف پانی میسر ہےنہ استعمال کے لیے ۔گزرتے وقت کے ساتھ یہ مسئلہ دن بہ دن سنگین صورت ِحال اختیار کرتا جارہا ہے ۔

پاکستان کونسل برائے تحقیقات آبی وسائل(پی سی آرڈبلیو آر ) کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 80 فی صد آبادی آلودہ اور مضر صحت پانی پینے پر مجبور ہے۔ماہرین ماحولیات کے مطابق ملک کے اضلاع سے جمع کیے جانے والی پانی کے نمونوں میں 69 سے 82 فی صد نمونے آلودہ اور مضر صحت پائے گئے ۔پانی کی آلودگی کی سب سے اہم وجہ فضلے میں پیدا ہونے والے جراثیم ،زہریلی دھاتیں ،گدلاپن ،پانی میں حل شدہ مضر صحت عناصر،نائٹریٹ اور فلورائیڈ ہے۔بعض علاقوں سے حاصل کیے گئےنمونوں میں مضر صحت جر اثیموں کی تعداد 69 فی صد سے بھی زیادہ پائی گئی،جب کہ کچھ علاقوں سے نقصان دہ دھاتوں کی مقدار 24 فی صد اورگدلے پن کی شرح 14 فی صد تھی ۔ایک سروے کے مطابق پاکستان میں پینے کا پانی صرف 22 فی صدہی صاف ہے۔علاوہ ازیں 24 شہروںکا پانی 80 فی صد آلودہ ہے ،جس میں جر اثیم کا تناسب 69 فی صد ہے ،جب کہ جنوبی پنجاب اور سندھ کے پانی میں سنکھیا کی مقدار 15 فی صد زیرزمین پانی میں نائٹریٹ کی مقدار93 فی صد اور بلوچستان کے پانی میںفلورائیڈ کی مقدار 8 فی صد ہے ۔پاکستان کونسل برائے تحقیقات آبی وسائل (پی سی آر ڈبلیو آر )پانی کی مانیٹرنگ کا مجاز ادارہ ہے ،جو واٹر سمپل جمع کرکے پانی کے ٹیسٹ کرتا ہے اور ہر ماہ کی رپورٹس حکومت کو پیش کرتا ہے ۔ کونسل کے چیئر مین ڈاکٹر محمد اشرف کے مطابق واٹر فلٹریشن پلانٹس کا پانی بھی بے انتہا آلودہ ہوتاہے۔اس کی اہم وجہ زیر زمین پانی کی پائپ لائنز اور سیوریج کی لائنز کاایک ساتھ ملنا ہے ۔ماہرین ماحولیات کے مطابق منرل واٹر کے نام پر بوتلوں میں پیک پانی بھی پینے کے قابل نہیں ہوتا ،کیوں کہ یہ پانی گر ائونڈواٹر سے بھرا جاتا ہے ،منرل واٹر اگر اپنی مقررہ مقدار سے کم یا زیادہ ہوجائے تو پانی مضر صحت بن جاتا ہے ۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق آلودہ پانی 80 فی صد بیماریوں کا باعث بنتا ہے ،جن میں ہیپاٹائٹس ،آنتوں ،معدہ،جگر ،گردے کی بیماریاں ،کینسر اور دیگر جان لیوا بیماریاں شامل ہیں ۔

پانی زندگی ہے یا موت؟

پہلے پانی برف کی صورت میں پہاڑوں پر گرتا ہے،پھر ندی اور دریائوںکے ذریعے بہتا ہوا ہم تک پہنچتا ہے اس دوران اس میں معدنیات شامل ہوتی ہیںجن میں کیلشیم ،میگنیشم ،کلورائیڈ ،فلورائیڈ ،آرسینک ،نائیٹریٹ ،آئرن اورسلفیٹ شامل ہیں ۔ان قدرتی معدنیات کو منرلز (minerals) کہا جاتا ہے ۔اگر یہ تمام معدنیات ایک خاص مقدار میںشامل ہوں تو یہ پانی پینے کے لیے مناسب ہوتا ہےاور اگر زیادہ ہوں تو صحت کے لیے مضر ہوگا ،اس حد تک کہ موت کا باعث بھی بن سکتا ہے ۔اس کے علاوہ پہاڑوں ،دریائوں ،جھیلوں اور ڈیموں سےگزرتے ہوئے گھروں تک پہنچنے کے دوران اس میں بہت سے پارٹیکلز (Particles) شامل ہوجاتے ہیں جوانسانی زندگی کے لیے انتہائی مہلک ہوتے ہیں ۔ پانی میں دو طرح کے پارٹیکلز شامل ہوتے ہیں ،ایک وہ جو پانی میں حل ہوچکے ہوتے ہیں ۔مثال کے طور پر بیکیٹریا ،وائرس،کلورین ،نائٹریٹ اور کوپر سمیت سیکڑوں اقسام کے پارٹیکلز ،جنہیں صرف ریورس اوسموس ( reverse osmosis) پلانٹ کے ذریعے ہی نکالا جاسکتا ہے ۔علاوہ ازیں ان پارٹیکلز کو بھی نکالا جاسکتاہے جو پانی میں حل نہیں ہو تے ۔ دوسرے پارٹیکلز وہ ہوتے ہیں جو پانی میں شامل تو ہوجاتے ہیں لیکن حل نہیں ہو پاتے، انہیں صرف ایک اچھے فلٹریشن پلانٹ کے ذریعے ہی نکالاجاسکتاہے ۔ان میں مٹی ،ریت ،فضلہ ،آئرن ،زنگ سمیت بہت سے پارٹیکلز شامل ہیں ،مگر تمام طریقے معلوم ہونے کے باوجود ان پر عمل نہیں کیا جاتا ۔اگر ہم اپنے اردگرد نگاہ ڈالیں تو ہر گھر میں ایک نہ ایک فرد لازمی بیمارنظر آئے گا ،اس کے ساتھ ہمارے معاشرے میں ایک چیز بہت عام ہے کہ لوگ پینے کےقابل پانی کا فیصلہ اس کے میٹھے یا کھارے ہونے کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ اسی طرح جب گھر وں میں کنواں کھودا یا بورنگ کروائی جاتے ہیں توپانی کو چکھ کریہ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ یہ پینے کے قابل ہے یا نہیں ۔یہی غلطی ہوتی ہے ۔پانی پینے کے قابل ہے یا نہیں اس کا فیصلہ موجود پارٹیکلز کی نمکیات یا(Total dissolved solids) TDS کی بنیاد پر ہوتا ہے ۔مارکیٹ میں دستیاب منرل واٹر کاTDS 300 سےکم ہوتا ہے، اس کی یہ مقدار عالمی ادارہ صحت کی طر ف سے مقرر کردہ ہے ۔جس پانی کی TDS کی مقدار 300 ہوگی اس میں کیلشیم ،میگنیشم ،کلورائیڈ ،فلورائیڈ ،آرسینک ،نائیٹریٹ ،آئرن اور سلفیٹ لازمی شامل ہوں گے ۔ماہرین ماحولیات کے مطابق یہ پانی انسانی صحت کے لیے انتہائی مفید ہوتا ہے ۔اگر اس کا لیول 300 سے بہت زیادہ بڑھ جائے یا کم ہو جائے تودونوں صورتوں میں صحت کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے ۔تحقیق کے مطابق اگر پانی میں آرسینک زیادہ ہو توسینے کا کینسر،جلد اور ہائی بلڈ پریشر جیسی بیماریاں جنم لیتی ہیں ۔فلورائیڈ کی مقدار زیادہ ہونے کی وجہ سے دانتوں اور ہڈیوں کی بیماریاںہوتی ہیں،علاوہ ازیںپانی میں موجود جر ثو موںسے ہیضہ ،ڈائریا اور ٹائیفائیڈ جیسی بیماریاں بھی عام ہورہی ہیں ۔ حیرت ناک صورت حال یہ ہے کہ دوردرازاور پسماندہ علاقوں میں بسنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کنوئوں ،جوہڑوں اور تالابوں کا مضر صحت پانی پینے پر مجبور ہے ۔

ایک اندازے کے مطابق 40 فی صد اموات پیٹ کی بیماریوں کے باعث ہوتی ہے ،جن کی بنیادی وجہ آلودہ پانی کا استعمال ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ شہری علاقوں میں پینے کے پانی کی صورت حال دیہی علاقوں سے بھی ابتر ہے ،کچھ عر صے قبل(پی سی آر ڈبلیو آر)کی جانب سے کیے گئے ایک سروے کے مطابق ملک کے 23 بڑےشہروں میں پینے کے پانی میں مضر صحت بیکٹیریا ،مٹی اور فضلے کی آمیزش کے علاوہ آرسینک کی کثیر مقدار پائی گئی ۔ جب کہ شہری علاقوں میں صرف 15 فی صد آبادی کو پینے کے لیے صاف پانی میسر ہے ۔ہمارا المیہ یہ ہے کہ سمندر کے کنارے آباد باسیوں کی بڑی تعداد بھی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے ۔سمندری پانی کو ڈی سیلینیشن اور ریورس اوسموس کے طریقوں سے میٹھا بنا کر کراچی کی دوکروڑسے زائدآبادی کے لیے پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جاسکتی ہے لیکن ارباب اختیار ان طر یقوں پر غور کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں ۔پاکستان میں یہ مسئلہ دن بہ دن گھمبیر ہوتا جارہا ہے ۔اس کی ایک اہم وجہ زیر زمین پانی کی سطح کا کم ہونا بھی ہے ۔دیہی علاقوں میں بڑی تعداد میں لگائے جانے والے زرعی ٹیوب ویل کی وجہ سے زیرزمین پانی کے ذخائرکم ہورہے ہیں ۔علاوہ ازیں عالمی درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ اور بارشوں میں کمی سے بھی زیر زمین پانی کی سطح کم ہو رہی ہے ۔ گزشتہ ایک سال میں کراچی سمیت متعدد شہروں میں واٹر فلٹر پلانٹس لگائے جارہے ہیں ،جس کی وجہ سے عام شہریوں کو پینے کے صاف پانی تک رسائی قدرے بہتر تو ضرور ہوئی ہے لیکن کئی مقامات پر لگائے جانے والے فلٹر پلانٹس سے حاصل کیے گئے پانی میں کیمیائی اور حیاتیاتی طور پر مضر صحت پائے گئے ۔اگر یہ کہا جائے کہ ہر شخص انفرادی سطح پر اپنے اپنے گھروں میں فلٹر پلانٹ لگا لےتو یہ قطعاً ممکن نہیں ،کیوں کہ ایسا کرنا ایک عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے ۔

ہماری آدھی سے زیادہ آبادی صاف پانی کے حصول کے لیے مارکیٹ میں دستیاب مختلف برانڈز کے منرلزواٹر پر انحصار کرتی ہے لیکن پی سی آر ڈبلیو آر کی ایک رپورٹ کے مطابق مارکیٹ میں منرلز واٹر کے کئی برانڈز کیمیائی اور حیاتیاتی طور پر آلودہ ہیں ۔ حکومت نے ملک بھر میں1.2 ارب روپے کی لاگت سے 24 واٹر ٹیسٹنگ لیبارٹریز قائم کی ہیں جن کا مقصدپینے کے پانی میںآلودہ مادوں کی جانچ پڑ تال کرکے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنا نا ہے لیکن فنڈز کی کمی کے سبب یہ لیبارٹریز بہتر کارکردگی دکھانے میں کام یاب نہ ہوسکیں ۔ صحت عامہ کی صورت ِحال بہتر کیے بغیر معاشی ترقی کا حصول ناممکن ہے اور صحت بہتر کرنے کے لیے دیہی اور شہری علاقوں کی آبادی کے لیے صاف پانی کا حصول ممکن بنانا ضروری ہے۔ اس لیے آبادی کو مد نظر رکھتے ہوئے تھوڑے تھوڑے فاصلوں پر معیاری فلٹر پلانٹس لگائے جائیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں