آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍ محرم الحرام 1440ھ20؍ ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پیٹ کی چربی گھٹائیں . . . صحت مند زندگی پائیں

ہم میں سے ہر کوئی کھانے پینے کا شوقین ہے اور آج کل شہروں کے مختلف علاقوں میں قائم دیسی کھانوں اور فاسٹ فوڈ ریستوران نے جہاں لوگوں کو لذیذ کھانوں سے لطف اٹھانے کا موقع فراہم کیا ہے وہیںکھانے کی فوری اور آسان فراہمی نے ان کی کافی مشکلوں کو آسان کردیا ہے۔ منہ کا ذائقہ تو اپنی جگہ مگر ہروقت ’جنک فوڈ‘کااستعمال آپ کی صحت کو متاثر کرتا ہے اور آپ کا وزن بڑھانے خصوصاً پیٹ کی چربی میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔

اگر پیٹ بڑھا ہوا ہو تویہ انسان کی ظاہری خوبصورتی کو بھی خاصامتاثر کرتا ہے۔انسان کی خواہش تو ہوتی ہے کہ کسی طرح وہ اپنا پیٹ کم کرے مگر اس کے لیے وقت نکالنا اور اپنے معمولاتِ زندگی میں تبدیلی لانا اس کے لیے انتہائی کٹھن ہوتا ہے۔آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ پیٹ بڑھنے کے کیا نقصانات ہیں اور کس طرح آپ اپنے معمولات میں تبدیلی لاکر پیٹ کی چربی کو گھٹا سکتے ہیں۔

پیٹ کی چربی مختلف بیماریوں کا باعث

پسلیوں کے آس پاس کی جلد ایک انچ سے زیادہ کھنچنے لگے تو ہم اسے بیلی فیٹ یا پیٹ کی چربی کہتے ہیں جو جلد کے نیچے ہوتی ہے۔ یہ ہمارے اندرونی اعضا، جگر اور آنتوں کے آس پاس بھی جمع ہو جاتی ہے۔ پیٹ کے اہم اندرونی اعضاء کے آس پاس جمع ہونے والی چربی صحت پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔جلد کی چربی کے مقابلے میں آنت پر چربی زیادہ تیزی سے بنتی ہے اور اسی رفتار سے کم بھی ہوتی ہے۔دور جدید میں بڑھا ہوا پیٹ ایک المیہ ہے۔یہ کئی مہلک امراض جیسے امراض قلب، بلڈ پریشر، ٹائپ 2ذیابطیس، آنتوں کاکینسر ، سانس کا بار باررکنااورچلناوغیرہ کا پیش خیمہ ہوسکتا ہے۔پیٹ بڑھنے کی وجہ سے بلڈپریشر اور کولیسٹرول کا بڑھ جا نا بہت عام ہے۔

متوازی اور صحت مند غذا کھائیں

آپ اپنی خوراک پر کنٹرول کرکے بھی پیٹ کی چربی کو گھٹاسکتے ہیں۔ایک مکمل غذا جس میں پھل، سبزیاں اور پروٹین شامل ہو، اگر اعتدال سے کھائی جائے تو وہ پیٹ کو بڑھنے سے روکتی ہے۔ان میں موجود وٹامن، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس آپ کو تروتازہ رکھتے ہوئے غذا کی کمی کو پورا کرتے ہیں۔آپ کو راتوں رات تو اس کا پھل نہیں ملے گا لیکن اس کے دور رس نتائج ضرورسامنے آئیں گے۔ کھانے کے وقت کی بڑی اہمیت ہے، پیٹ بھر کرنہ کھائیں بلکہ پچھلا کھانا ہضم ہونے اور بھوک لگنے کے بعد ہی کھانا کھائیں۔ 

ماہرین چار وقت کھانا کھانے کی صلاح دیتے ہیں یعنی صبح اٹھنے کے بعد ناشتہ، دوپہرمیں کھانا، شام کے وقت ہلکا ناشتہ اور پھر رات کا کھانا کھائیں۔صبح کا ناشتہ ترک کرنا ایک غیرصحت مندانہ عمل ہے،یہ دن بھر کے تمام کھانوں میں اہم تصور کیا جاتا ہے۔ غذائیت سے بھرپور ناشتہ کریں جو دن بھر آپ کی توانائی کو برقرار رکھنے میں مدد دے گا۔ اس کے علاوہ اپنے روز مرہ معمولات میں کاپانی زیادہ سے زیادہ استعمال یقینی بنائیں۔

پانی آپ کے نظام ہضم کو بہتر بنانے کے ساتھ جسم سے فاضل مواد اور ٹاکسن کے اخراج میں مدد فراہم کرتا ہے۔غذا میں کسی بھی چیز کی کمی یا زیادتی دونوں ہی نقصان دہ ہوتی ہیں۔ ایک عام آدمی کوہر دن 1500 سے 2000 کلو کیلوریز کی ضرورت ہوتی ہے، اس سے زیادہ کیلوریز اگر ہماری غذا میں ہوںتو وہ جسم میں شکر اور چربی کی صورت میں جمع ہوجاتی ہیں۔کوشش کریں کہ زیادہ کیلوریز والی غذاؤں(سموسہ، برگر،پیزا، اورکولڈ ڈرنک) کواگر ترک نہیں کرسکتے توکم سے کم اس کے استعمال میں کمی لے آئیں۔ ذیل میں چند احتیاطی تدابیر درج ہیں جن پر عمل کرکے پیٹ کی چربی کو بڑھنے سے روکا جاسکتا ہے۔

۱۔ ایک گلاس نیم گرم پانی میں لیموں کا رس شامل کرکے چٹکی بھر نمک ڈالیں اور پی جائیں، اس کا روزانہ استعمال رفتہ رفتہ بڑھے پیٹ کو کم کرتا ہے۔

۲۔سفید چاول کا استعمال کم کردیجئے، اس کی جگہ بھورا چاول زیادہ مفید رہے گا۔ اس کے علاوہ براؤن بریڈ، جو، اور دلیے وغیرہ کو اپنی غذا کا حصہ بنائیے جس سے فائبر کی کمی دور ہوگی اور دوسری جانب جرپی گھلانے میں بھی مدد ملے گی۔

۳۔شکر اور اس سے بنی اشیاکا استعمال بند کرنا اگرچہ مشکل ہے لیکن اس سے پرہیز بہت ضروری ہے۔شکر والے مشروبات میں تیل موجود ہوتا ہے جو پیٹ اورجسم میں کئی جگہ چربی بڑھاتا ہے۔

۴۔ہر صبح دیسی لہسن کے ایک یا دو جوّے کھانا بہت مفید ہوتا ہے۔

ورزش کومعمول بنائیں

اب وہ وقت نہیں رہا جب بیرونی سرگرمیاں عام ہوا کرتی تھیں۔ فطری طور پر ہمارا معاشرہ سست ہوتا جارہا ہے، کھیلوں کی سرگرمیاں بھی معدوم ہوتی جارہی ہیںاور تو اورگھر کے قریب سے سودا سلف لانا ہوتو بھی ہم بائیک یا گاڑی کاسہارا لیتے ہیں،پیدل چلنے کی عادت تو گویا ختم ہی ہوتی جارہی ہے۔ سارا دن آفس یا دُکان پر ایک جگہ بیٹھے رہنے اور دن بھرکی تھکن کے باعث گھر آکر صرف آرام کرنے کو ہی دل کرتا ہے، ایسے میں ورزش کرنے کا سوچنا بھی محال ہوتاہے۔ مگر آپ کو اپنی سستی اور تھکن کو بالائے طاق رکھ کر ورزش کو اپنا معمول بنانا ہوگا تاکہ آپ کا پیٹ نہ بڑھے۔ 

ماہرین صحت مند رہنے کے لیے روزانہ 30 منٹ ورزش یا واک کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔پیٹ کی مختلف ورزشوں کے ذریعے آپ فالتو چربی تیزی سے گھٹا سکتے ہیںاوروزن والی ورزشیں کرکے پٹھوں کوبھی مضبوط کرسکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے آپ کوئی جم بھی جوائن کرسکتے ہیں۔ ایک اور بات جو انتہائی اہم ہے وہ یہ کہ رات کے کھانے کے بعد لیٹنے کے بجائے چہل قدمی کرنے کو زندگی کا لازمی حصہ بنائیں۔

مارکیٹ میں دستیاب پیٹ کی چربی کم کرنے والی دواؤں کو استعمال کرنے کے بجائے مندرجہ بالا باتوں پر عمل کرکے آپ اپنے پیٹ کی چربی کو گھٹاسکتے ہیں اور دواؤں کے مقابلے میں ان کا کوئی سائیڈ اَفیکٹ بھی نہیں ہوگا۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں