آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ کی خدمت میں دو فکر انگیز واقعات پیش کرنا چاہتا ہوں۔ پہلا واقعہ چین کے آنجہانی صدر مائوزے تنگ کا ہے اور دوسرا ملک شام سے متعلق ہے۔
(1) ایک طویل جدّوجہد اور لاکھوں لوگوں کی جان کی قربانی دے کر مائوزے تنگ اور ان کے ساتھیوں نے چین کی آزادی حاصل کی۔ چین کی ترقی، ایک ہی نسل میں، ناقابل یقین ہے۔ میں نے صرف بیس برس میں ایک پسماندہ، غریب ملک کو ایک اعلیٰ ترقی یافتہ ملک بنتے دیکھا ہے یہ سب کچھ اس قوم کی ایمانداری اور اَنتھک محنت کا نتیجہ ہے جس کی بدولت انھوں نے یہ منزل حاصل کی ہے۔ آزادی کے بعد صدر مائوزے تنگ نے ڈاکٹروں کو بلا کر کہا کہ طویل عرصے کی غفلت اور نظراندازی کی وجہ سے عوام کی صحت بہت خراب ہوگئی ہے کوئی پلان بنائو، ڈاکٹروں کی طرف سے کئی ارب ڈالر کی تجویز پیش کی گئی۔ غریب ملک کے پاس اتنی رقم کہاں سے آتی، مغربی ممالک ان کے دشمن تھے اور ہر قسم کی پابندیاں عائد کر رکھی تھیں۔ انھوںنے ڈاکٹروں سے دریافت کیا کہ بیماریوں کی خاص وجہ کیا ہے۔ انھوں نے بتلایا کہ زیادہ تر بیماریاں پانی کی خرابی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ آپ نے فوراً عوام کو ہدایت کی کہ آج سے تمام شہری اُبلا ہوا پانی پینا شروع کردیں اور لذّت و صحت کے لئے اس میں سبز چائے کے چند پتے ڈال لیا کریں۔ جب میں 1976 میں بھٹو صاحب کی ہدایت پر وہاں گیا تو ہر دفتر،

فیکٹری، کانفرنس روم، اسپتال ، درسگاہ میں بڑے بڑے تھرماس گرم پانی سے بھرے رکھے ہوتے تھے، چائے کا ڈبہ اور مگ ساتھ رکھے ہوتے تھے۔نتیجہ آپ کے سامنے ہے یہ قوم اب نہایت صحتمند ہے اور اس نے شکر اور دودھ سے بھی چھٹکارا حاصل کرلیا ہےاور اب امریکہ کے بعد دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے، اس نے جاپان اور جرمنی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ان کے صدر مائوزے تنگ کا یہ واقعہ کس قدر فکرانگیز ہے۔
یہ 1970 کا واقعہ ہے جب چین کے صدر کو کینسر کا مرض لاحق ہوگیا توانہوںنے ڈاکٹر سےکہا کہ میں علاج بعد میں کروائوں گا پہلے مجھے یہ بتائو کینسر ہوتا کیوں ہے؟ صدر ڈاکٹر کے جواب سے مطمئن نہ ہوا تو صدر صاحب نے چین کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ ، آکسفورڈ یونیورسٹی اور امریکہ کی کارنیل یونیورسٹی کو بیماریوں کی وجوہات معلوم کرنے اور ان کے قدرتی طریقہ علاج ڈھونڈھنے پر لگا دیا۔ انھوں نے 25 سال بعد اس تحقیق کو 2005 میں کتابی شکل میں امریکہ سے شائع کیا اور یہ کتاب نیشنل بیسٹ سیلر رہی اس کتاب کا نام ’’دی چائنااسٹڈی‘‘ رکھا گیا ۔ چائنا اسٹڈی کے سائنسدانوں نے سب سے پہلے دنیا میںایسے علاقے معلوم کئے جہاں کے لوگ سو سال سے زیادہ زندہ رہتے ہیں اور کبھی بیمار نہیں ہوتے آزاد کشمیر کی وادی ہنزہ بھی ان علاقوں میں شامل ہے جہاں کے لوگ بیمار ہوئے بغیر سو سال سے زیادہ زندہ رہتے ہیں۔ چائنا اسٹڈی کے لوگوں نے ہنزہ کے لوگوں کے کھانے کے انداز معلوم کرنے کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ بیمار رہنے والے لوگوں کے علاقے معلوم کئے جہاں کے سب لوگ کسی نہ کسی بڑی بیماری کا شکار رہتے ہیں ان میں ایک جگہ امریکہ میں ہے جہاں پیماانڈین لوگ رہتے ہیں جہاں ہر ایک کینسر، ہارٹ، شوگر، بی پی، گردوں اور جوڑوں کے درد کا مریض ہے۔ چائنا اسٹڈی کے لوگ وہاں پہنچ گئے اور ان لوگوں کو اس خوراک پر لگا دیا جو ہنزہ کے لوگ کھاتے ہیں اور ان کی پرانی خوراک بند کردی۔ چھ ماہ ہی اس خوراک کو کھانے سے ان کی تمام بیماریاں ختم ہوگئیں اور وہ بالکل صحت مند ہوگئے اور ان کی دوائیوں سے جان چھوٹ گئی۔ ہنزہ کے لوگ ایسا کیا کھاتے ہیں جس کی وجہ سے بیمار نہیں ہوتے وہ صرف خدا کی بنائی ہوئی قدرتی خوراک فروٹ کچی سبزیاں اور میوے کھاتے ہیں اور جو خوراک فیکٹریوں سے گزر کر آتی ہے یعنی پراسیس شدہ ہوتی ہے بالکل نہیں کھاتے ۔ یہ ہے صحت مند زندگی کا وہ راز جس کو معلوم کرنے اور دنیا کے ہزاروں کینسر ،شوگر ،ہارٹ، بی پی فالج گردوں جوڑوں ہپاٹائیٹس معدے ہاضمے، قبض آنکھوں اور جلد کے مریضوں کو ایسی خوراک 6 ماہ تک کھلا کر مکمل صحتیاب کرنے اور ان کی دوائیوں سے جان چھڑا کر اس خوراک کے فوائد کو ثابت کرنے پر چائنا، برطانیہ اور امریکہ کی تین یونیورسٹیوںکو 25 سال لگے۔ یہ کتاب ’’دی چائنا اسٹڈی‘‘ گوگل سے ڈائون لوڈ کرسکتے ہیں۔
امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن کے 2004 میں ہارٹ کے 4 بار بائی پاس آپریشن ہوئے 2005 میں پھیپھڑوں کا آپریشن 2010 میں دوبار ہارٹ میں اسٹنٹ رکھے گئے تو بل کلنٹن مرنے کے قریب لاعلاج مریض بن گئے تو وائٹ ہائوس کے ڈاکٹروں نے آخری حربے کے طور پر صدر صاحب کو چائنا اسٹڈی والی خوراک پر لگا دیا 5 ماہ میں ہی صدر صاحب بالکل ٹھیک ہوگئے۔ اس بات کا ثبوت بل کلنٹن کے سی این این چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں دیکھ سکتے ہیں۔ اس خوراک کے کرشماتی اثرات کو دیکھ کر صدر صاحب نے بل کلنٹن فائونڈیشن کے تحت یہ پروجیکٹ بنایا کہ میں جب تک زندہ ہوں امریکہ کے ہر اسکول میں جاکر بچوں کو صحت مند زندگی کا راز ضرور بتائوں گا کہ فروٹ، کچی سبزیاں اور میوے کھائو اور فیکٹریوں سے گزری ہوئی یعنی پراسیس شدہ خوراک بالکل نہ کھائو جس کو بھی اپنی صحت عزیز ہے وہ اس خوراک کو ضرور اپنالے ۔ میں نے سوچا کہ اگر یہ اتنی سچی حقیقت ہے تو قرآن میں ضرور ہوگی دیکھیں سورت عبس آیت 24 تا 32 ’’پس انسان کو چاہئے کہ اپنی خوراک کی طرف دیکھے بیشک ہم نے خوب زور سے پانی برسایا پھر ہم نے زمین کو پھاڑ کر چیر ڈالا پھر ہم نے اس میں اناج اگایا اور انگور اور سبزیاں اور زیتون اور کھجور اور گھنے گھنے باغات اور (طرح طرح کے) پھل میوے اور چارہ خود تمھارے اور تمھارے مویشیوں کے فائدے کے لئے۔‘‘ قرآن پاک کی ان آیات مبارکہ میں انسان کی خوراک کے سلسلے میں اناج کے بعد تین چیزوں پر زور دیا گیاہے فروٹ، کچی سبزیاں اور میوے۔
یہ صرف مرکزی خیال ہے مزید تفصیل کے لئے کتاب پڑھیں یا ڈاکٹر بسواروپ کے لیکچر سن لیں۔ آجکل انڈیا کے جس ڈاکٹر بسواروپ کو 20000 شوگر کے مریضوں کو انسولین سے نجات دلوانے کے سلسلے میں ہیلتھ کا آسکرایوارڈ دیا گیا ہے انہوں نے چائنا اسٹڈی والی کتاب کو لیکچرز کی شکل میں ساری دنیا میں پھیلانے کا ذمہ لیا ہوا ہے آپ یو ٹیوب پر لیکچرز دیکھ سکتے ہیں۔
(2) دوسرا واقعہ، نہایت فکرانگیز اور پریشان کن ملک شام کا ہے۔ آپ کو علم ہے کہ ہماری تاریخ میں شام کی کتنی اہمیت ہے۔ حضرت خدیجہؓ سے نکاح کے بعد ہمارے رسول اللہؐ اُن کی تجارت کے واسطے شام تشریف لے جاتے تھے۔ ہم لوگ کئی بار سرکاری دورہ پر شام گئے تھے، بے حد خوبصورت ملک ہے، عوام بہت خوبصورت و بہادر ہیں۔ انھوں نے صلاح الدین ایوبیؓ کی سربراہی میں عیسائیوں کو عبرتناک شکستیں دی تھیں۔ یہاں پر حضرت بلالؓ، حضرت خالد بن ولیدؓ، سلطان نورالدین زنگیؒ، حضرت زینبؓ، مسجد بنواُمیہ، سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کے مزار اور یادگاریں ہیں۔ یہیں سے ملک ظہیر بے برس نے اردن میں عین جالوت کے میدان میں منگولوں کو عبرتناک شکست دی اور یہی سےمنگولوں کے زوال کی ابتدا ہوئی تھی۔ یہاں کے پھل اور کھانے بے حد لذیذ ہوتے ہیں۔
جب ایک بار ہم سرکاری دورے پر گئے (صالحہ سنکر وزیر ہائر ایجوکیشن کی دعوت پر) تو اس وقت ہمارے نہایت پیارے دوست ڈاکٹر افضل اکبر خان وہاں سفیر تھے ۔ ہم ان کو بحرین میں سفیر کی حیثیت سے اچھی طرح جانتے تھے وہ عربی زبان روانی سے بولتے ہیں۔ ان کی موجودگی سے ہمیں بہت سہولت رہی تھی۔ سرکاری پذیرائی کے علاوہ مسجد بنو اُمیہ کے خطیب نے بھی ہمیں دعوت طعام دی تھی۔
شام کے بارے میں آپ ؐکی پیش گوئیاں: اللہ کے رسول ؐ نے قیامت کے نشانات بتلاتے ہوئے فرمایا کہ ’’اُونٹوں اور بکریوں کے چرواہے جو برہنہ بدن اور ننگے پائوں ہونگے وہ ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہوئے لمبی لمبی عمارتیں بنوائیں گے اور فخر کریں گے۔۔۔‘‘ (صحیح مسلم 8 )۔ عرب ممالک میں اس سلسلہ میں مقابلہ بازی جاری ہے۔ اللہ کے رَسُولؐ کی ایک اور حدیث ہے کہ ’’قیامت سے پہلے سر زمین عرب دوبارہ سر سبز ہوجائیگی‘‘ (صحیح مسلم)۔ سعودی عرب اور امارات میں بارشیں شروع ہوچکی ہیں، مکّہ اور جدّہ میں سیلاب آچکے ہیں۔ جو حضور ؐنے فرمایا اسے ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے جارہے ہیں۔میرے محترم و مکرم قارئین یاد رکھیں احادیث مبارکہ کی رُو سے شام و اہل شام سے امت مسلمہ کا مستقبل وابستہ ہے اگر مُلک شام ایسے ہی برباد ہوتے رہا تو پوری اُمّت مُسلمہ کی بھی خیر نہیں۔ ویسے تو 90 فیصد برباد ہوچکا۔ اس حدیث کے حساب سے عرب ممالک کے سنہرے دور کے خاتمہ کی اہم وجہ ملک شام کے موجودہ حالات ہیں۔ گویا نبیؐ کی ایک اور پیشگوئی کی علامت ظاہر ہورہی ہے یا ہو چکی ہے۔ یاد رکھیں کہ ملک شام سے متعلق اسرائیل، یورپ اور امریکہ جو بھی جھوٹے بہانے بنائیں لیکن ان سب کا اصل ہدف جزیرۃ العرب ہے کیونکہ کُفّار کا عقیدہ ہے کہ دَجّال مَسیحا ہے اس وجہ سے یہ لوگ دَجّال کے انتظامات مکمل کررہے ہیں جس کے لئے عرب ممالک میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے کیونکہ ملک شام پر یہود و نصاریٰ قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور یہ ہوکر رہے گا، حضرت مہدی علیہ السلام کے ظہور سے قبل۔ چنانچہ کتاب فِتَن میں ہے کہ ’’آخری زمانے میں جب مسلمان ہر طرف سے مغلوب ہوجائیں گے، مسلسل جنگیں ہوں گی، شام میں بھی عیسائیوں کی حکومت قائم ہوجائے گی۔ عرب (خلیجی ممالک سعودی عرب وغیرہ) میں بھی مسلمانوں کی باقاعدہ پُرشوکت حکومت نہیں رہے گی، خیبرْالخبر (سعودی عرب کا چھوٹا شہر مدینہ المنورہ سے 170 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے) کے قریب تک یہود و نصاریٰ پہنچ جائیں گے اور اس جگہ تک ان کی حکومت قائم ہوجائے گی، بچے کھچے مسلمان مدینہ منورہ پہنچ جائیں گے اس وقت حضرت امام مہدی علیہ السلام مدینہ منورہ میں ہوں گے‘‘۔ دوسری طرف دریائے طبریہ بھی تیزی سے خشک ہورہا ہے جو کہ مہدی علیہ السلام کے ظہور سے قبل خُشک ہوگا اسلئے جب مشرق وسطیٰ کے حالات کو خصوصاً مسلمانوں اور ساری دنیا کے حالات کو دیکھتے ہیں تو صاف نظر آتا ہے کہ دنیا ہولناکیوں کی جانب بڑھ رہی ہے۔ فرانس میں حملوں کے بعد فرانس اور یورپ بھی عالمی جنگ کی بات کرچکے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس عالمی جنگ کا مرکز کون سا خطہ ہوگا۔؟ واضح نظر آرہا ہے، مشرق وسطیٰ ہی متوقع ہے۔ یہاں ہندو پاک کی رنجشیں اور کشمکش کے بڑھتے حالات سے بھی لگتا ہے کہ غزوہ ہند کی طرف رُخ کررہے ہیں کیونکہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ عَلیہِ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا ’’میری قوم کا ایک لشکر وقت آخِر کے نزدیک ہند پر چڑھائی کریگا، اور اللہ اس لشکر کو فتح نصیب کریگا ۔ اللہ اس لشکر کے تمام گناہ معاف کرد یگا۔ پھر وہ لشکر واپس رُخ کرے گا اور شام میں موجود عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کیساتھ جاکر مِل جائے گا۔‘‘ ۔ آنے والے اَدوار بڑے پُرفِتن نظر آتے ہیں اور اس سے متعلق بھی سرکار صَلَّی اللہ عَلیہِ وَسَلَّم نے فرمایا تھا کہ میری اُمّت پر ایک دور ایسا آئیگا جس میں فتنے ایسے تیزی سے آئیں گے جیسے تسبیح ٹوٹ جانے سے تسبیح کے دانے تیزی سے زمین کی طرف آتے ہیں‘‘۔
آپ غور کیجئے کہ ہزاروں میل دور بیٹھ کر مغربی ممالک شام کو کیوں تباہ کررہے ہیں۔ عراق، افغانستان کو تباہ کردیا، پاکستان کا برا حال ہے، لبنان کا برا حال ہے، ایران کا برا حال ہے۔ یہ صلیبی جنگ جاری ہے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں