کراچی ....عاشق چوہدری....برصغیرِ میں فلم سازی کے آغاز ترقی و ترویخ اور فروغ میں جن خطوں کے فن کاروں، ہنرمندوں اور شخصیات کا رول تاریخی نوعیت کا ہے، ان میں پشاور سرفہرست ہے۔ فلم سازی کے ارتقائی مراحل کا جائزہ لیا جائے تو دیگر شعبوں کے علاوہ اداکاری میں اہل پشاور کا کردار مرکزی حیثیت کانظر آئے گا۔
پشاور کے فن اور فن کار خیز خطہ کی تاریخ فن اور آرٹ کی ترقی اور فروغ کے کارناموں سے لبریز ہے۔ پرفارمنگ آرٹ کے شعبوں میں تھیٹر، فلم اور گلوکاری کے شعبوں کو مرکزیت حاصل ہے ۔تھیٹر ،فلم، ریڈیو اور پرفارمنگ آرٹس کے دیگر شعبوں کے تجزیہ سے پشاور کے فن اور فن کار خیز خطہ میں پرفارمنگ آرٹ کے شعبوں کی نمایاں حیثیت نظر آئے گی۔
فلم سازی کے ارتقائی مراحل کا جائزہ لیا جائے تو دیگر شعبوں کے علاوہ اداکاری کے شعبہ میں پشاور کے فن کاروں کا کردار نمایاں نظر آئے گا۔ قیام پاکستان سے پہلے جن فن کاروں نے نام پیدا کیا۔ ان میں اکثریت مسلمان فن کاروں کی تھی اور ان کا تعلق پشاور سے تھا۔
برصغیر کی پہلی بولتی فلم عالم آراء 1931ء میں ریلیز ہوئی، اس دن جمعہ تھا۔ پہلی فلم کی ریلیز کی مناسبت سے برصغیر میں نئی فلم جمعہ کے روز ریلیز کرنے کی روایت کا آغاز ہوا جو آج تک قائم ہے۔ عالم آراء کی کاسٹ میں زیادہ تعداد مسلمان فن کاروں کی تھی۔
عالم آرا کی کاسٹ میں شامل فن کاروں میں زبیدہ، ڈبلیو ایم خاں ، علی زر، محبوب خاں ،پرتھوی راج شامل تھے۔ اس ضمن میں خاص پہلو یہ ہے کہ ان اداکاروں کا تعلق پشاور کی سرزمین سے تھا ۔عالم آرا میں پہلا گیت ڈبلیو ایم خاں نے گایا تھا، یوں فلم کے لیے پہلا گیت ریکارڈ کرانے کا سہرا بھی پشاوری فن کار کےسر ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ فلم انڈسٹری فروغ پاتی گئی اور اس وقت سے سینکڑوں فن کار وابستہ ہوتے رہے۔ ان میں مسلمان فن کاروں کی تعداد اکثریت میں رہی، اگر آج کے دور کی بالی وڈ انڈسٹری کا تجزیہ کریں تو وہاں آج بھی خانز چھائے ہوئے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کے آبائو اجداد کا تعلق پشاور ہی سے ہے۔ ان دنوں مسلمان ہونے کے ناطے وہ ایک مخصوص طبقہ کے متعصبانہ رویوں سے نبردآزما ہیں ۔
پشاور کا پہلا سینما قصہ خوانی بازار میں پہلی جنگ عظیم کے اختتام پر تعمیر ہوا تھا۔اسی طرح پشاور کا تصویر محل سینما ایک عرصہ تک آغا جی اے گل کی تحویل میں بھی رہا۔ آغا جی اے گل پاکستان کی فلمی انڈسٹری کے معماروں اور سرپرستوں میں سے ہیں۔ پاکستان میں فلم سازی کی صنعت کی ترقی و ترویج کے حوالوں سے ان کی گراں قدر خدمات ہیں۔
پشاور سے لاہور منتقل ہونے کے بعد انہوں نے ایورنیو اسٹوڈیو اور ایور نیو پکچرز کی بنیاد رکھی ایورنیو اسٹوڈیو بولی وڈ کا جدید ترین فلم اسٹوڈیو ہے۔ پاکستان کی فلم انڈسٹری کی ترقی اور فروغ میں آغا جی اے گل کی گرانقدر خدمات ہیں۔ انہوں نے جدید طرز کے اسٹوڈیو کو جدید سازوسامان اور مشینری سے آراستہ کیا۔
ان دنوں جی اے گل کے صاحبزادے آغا سجاد گل اور آغا شہزاد گل ایورنیو اسٹوڈیوز کی باگ ڈورسنبھالے ہوئے ہیں۔ آغا جی اے گل کی صورت میں پشاور ہی کی شخصیت نے لاہور منتقل ہو کر فلمی صنعت اور فلم سازی کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی غرض سے گراں قدر خدمات انجام دیں۔
اداکاری کے شعبہ میں پشاور کی تاریخی نوعیت کی گرانقدر خدمات ہیں ۔تھیٹر سے خاموش اور ناطق فلموں تک پشاور نے برصغیر کی شوبز دنیا کو ہزاروں کی تعداد میں پرفارمر دیئے یہ پرفارمر بولی وڈ ،لولی وڈ، پشتو فلم انڈسٹری اور تھیٹر پر اپنے خطے کا نام روشن کئے ہوئے ہیں۔ پشاور سے تعلق رکھنے والے ان اداکاروں کو اگر برصغیر کی فلم تھیٹر اور ریڈیو کی دنیا سے خارج کر دیا جائے تو باقی کچھ نہیں رہتا۔
پشاور کے سینئر فن کاروں میں آغا پیر جان نے تھیٹر اور فلموں میں تاریخی کردار پرفام کرکے اداکاری کی نئی جہتیں متعین کیں ان کا فن آج بھی مشعل راہ ہے۔ پشاور کے سینئر فن کاروں میں اشرف خاں کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ اداکاری کے علاوہ انہیں گلوکاری کا بھی شوق تھا ۔شہرہ آفاق فلم روٹی میں انہوں نے ایک دیوانے پروفیسر کا کردار پرفام کرکے عالمی شہرت حاصل کی تھی۔
گل زمان پشاور سے لاہور منتقل ہو کر لولی وڈ کی فلموں میں اداکاری کے علاوہ فلمیں پروڈیوس بھی کیں، وہ سُریلے گلوکار بھی تھے۔ اے آر کابلی والا بھی شہرہ آفاق فن کار تھے۔ اداکار خلیل خاں کا شمار بھی ابتدائی دور کے نامور اداکاروں میں ہوتا ہے۔ اداکار ہدایت کار اور فلم ساز اختر نواز نے لاہور سے شفٹ ہو کر مختلف فلموں میں مرکزی رول پرفام کئے۔ اداکار اکبر پشاوری نے گلوکاری کے فن میں بھی گراں قدر خدمات انجام دیں۔
اداکار ہدایت کار اور فلمساز مظہر خاں نے خاموش سے ناطق فلموں کی خدمات انجام دیں۔ عبداللہ کابلی والا کا تعلق کابل سے تھا۔ انہوں نے خاموش سے ناطق فلموں تک پرفام کیا۔ پرتھوی راج کپور نے تھیٹر اور فلموں میں حقیقت پسندانہ پرفارمنس سے اداکاری کے فن میں نئی تاریخ رقم کی ہے۔ ان کے فن کا احاطہ اس مضمون میں ممکن نہیں۔ پرتھوی راج کپور کے اسلوب میں ان کی آواز اور لب ولہجہ کے زیروبم کا بھی بہت دخل ہے۔ لولی وڈ کی تاریخ میں ان کا نام سنہری حروف میں لکھا جائے گا ۔
پرتھوی راج کپور کا اپنا مکتبہ فن ہے۔ بالی وڈ کی تاریخ میں ان کی ذات اور خاندان کی خدمات لامتناہی ہیں۔ ان کے خاندان بالی وڈ کی اداکاری کی تاریخ میں سے پرتھوی راج کپور فیملی کی خدمات کو حزف کر دیا جائے تو باقی کچھ نہیں رہتا، لہٰذا پرتھوی راج کپور کی خدمات پر علیحدہ تحریر رقم کرنے کی جلد ہی کاوش کی جائے گی۔
اداکار حسن خیام فلموں کے علاوہ ریڈیو کے بھی صدا کار تھے۔ رفیق غزنوی نے فن کے مختلف شعبوں میں طبع آزمائی کرکے شہرت و مقبولیت حاصل کی۔ وہ موسیقار، گلوکار اداکار نغمہ نگار اور ہدایت کار تھے۔ ان کےفن کا احاطہ مختلف مضامین میں شاید ممکن ہو۔
اداکار ہدایت کار محبوب خاں کے فن اور شخصیت کا احاطہ بھی ایک تحریر میں ممکن نہیں ۔ اداکار، فلم ساز، ہدایت کار جی آر درانی نے اپنے فن اور شخصیت کے ذریعے پشاور کا نام روشن کیا۔ ترلوک کپور بھی برصغیر کی فلمی صنعت کا اہم کردار ہیں۔ اسی طرح ماسٹر بچہ ایس انور شاہ کو بھی پشاور کی فلم انڈسٹری کے حوالوں سے اہم مقام حاصل ہے۔
ہدایت کار حیدر شاہ نے قیام پاکستان کے بعد پاکستان کی فلمی صنعت کے قیام فروغ اور ترقی کے لیے گرانقدر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے لاہور میں فلمیں بھی پروڈیوس کیں ۔ان دنوں صاحبزادے نسیم حیدر شاہ ہدایت کار کی حیثیت سے گرانقدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
پشاور کے دیگر نامور اداکاروں کا ذکر ابھی باقی ہے۔ ان کا احاطہ کسی دوسری تحریر میں کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ یوسف خاں (دلیپ کمار) کے حوالے سے ایک جامع تحریر جس میں راقم کے لاہور ،بمبئی اورپشاور میں دلیپ کے ساتھ گزارے وقت کی یادوں کو رقم کیا جائے گا ۔