آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
سندھ کی مٹی ’’سونا‘‘ اُگلتی ہے

شازیہ کامران

کہا جاتا ہے کہ سندھ قدرت کی جانب سے ایک تحفہ ہے، ایک ایسی زمین ہے، جو قابلِ کاشت، زرخیز ہے۔ اس دھرتی نے نہ صرف خشک سالی کے دنوں میں نو آباد کاروں اور مہاجروں کو بلکہ حملہ آوروں کو بھی اپنی جانب متوجہ کیا۔دریائے سندھ کا رُخ کبھی بھی ایک جیسا نہیں رہا،ہزاروں برسوں کے دوران یہ آہستہ آہستہ تبدیل ہوتا رہا ہے۔ مزید برآں، انڈس ڈیلٹا مسلسل بڑھ رہا ہے،اس طرح قابلِ کاشت زمین میں اضافہ ہو رہا ہے۔فی الحال، سندھ کی تقریباً 40 فی صدزمین قابلِ کاشت ہے اور 5 فیصد زمین چراگاہوں پر مشتمل ہے۔یہاں کاشت کے دو موسم ہیں۔ 

خریف یا موسمِ گرما کی فصلیں، جون میں بوئی جاتی ہیں اور اکتوبر میں کاٹی جاتی ہیں۔ ربیع یا موسمِ سرما کی فصلیں، اکتوبر میں بوئی جاتی ہیں اور مارچ میں کاٹی جاتی ہیں۔سندھ میدانی اور باغبانی فصلوں کی بہت سی اقسام پیدا کر رہا ہے۔ اہم میدانی فصلوں میں گندم، چاول، گنااور کپاس ہیں؛ کُل فصل پیدا کرنے والے رقبے کا تقریباً 68 فی صد ان کی پیداوار کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان کی کُل پیداوار میں ، سندھ35 فیصد چاول، 28 فیصد گنا، 12 فیصد گندم، اور 20 فیصد کپاس پیدا کر رہا ہے۔ اہم باغبانی فصلوں میں آم، کیلا اور مرچیں شامل ہیں۔ 

کُل پیداوار میں سے، سندھ88 فیصد مرچیں، 73 فیصد کیلا، اور 34 فیصد آم پیدا کر رہا ہے۔ یہاںکی قابلِ کاشت زمین میںچارہ، دالیں،مسالہ جات،روغنی بیج، پھلوں اور سبزیوں وغیرہ بھی کاشت کی جاتی ہیں۔چاول موسم گرماکی نمایاں فصل ہے۔ اس کی پیداوار دیہی علاقوں میں آمدنی اور روزگار کا ایک اہم ذریعہ مہیا کرتی ہے۔ سندھ کےگرم علاقےمیں گرمی برداشت کرنے والا لمبے دانے والا چاول پیدا کیا جاتا ہے۔ چاول زیادہ تر دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر اُگائے جاتے ہیں۔گرمی کا شدید موسم اس قسم کے چاول کی پیداوار کے لیے بالکل مناسب ہے۔یہاں کی دوسری اہم فصل کپاس ہے،یہ سندھ کی نمایاں نقد آور فصل ہے۔ در حقیقت، سندھ میں کپاس کی کاشت پانچ ہزارسال پہلے وادئ سندھ کی تہذیب کے وقت سے کی جارہی ہے۔ موہن جو دڑو میں دنیا کا سب سے پُرانا سوتی کپڑا دریافت کیا گیا ، جو اس بات کا ثبوت فراہم کرتا ہے کہ کپاس سب سے پہلے سندھ میں کاشت کی گئی۔ اس کے علاوہ، بابُل باشندوں نے کپاس کے لیے سندھو اور ابتدائی یونانیوں نے سندون کا لفظ استعمال کیا۔

آج پاکستان کپاس پیدا کرنے والا چوتھا بڑا ملک ہے۔وادیٔ سندھ ہمیشہ ہی سے ملک کی شان رہی ہے، کبھی اپنی مہمان نوازی کی وجہ سے دنیا بھر میں ملک کی پہچان بنی،یہاں کی زرخیز زمین سے اُگنے والا سونا، زر مبادلہ میں اضافے کا بھی سبب بنتا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں