آپ آف لائن ہیں
اتوار 12؍محرم الحرام 1440ھ 23؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

14اگست، یومِ آزادی کے حوالے سے، مَیں نئی نسل کو ان قربانیوں اور مشکلات کی داستان سنانا چاہتا ہوں، جو آزادی کے حصول میں لاکھوں مسلمانوں نے اس کی راہ میں دیں، تاکہ وہ اس عظیم تحفے کی قدر کرسکیں۔ میرے والد صاحب مشرقی پنجاب کے شہر فیروزپور کے ایک اسکول میں مدرس کے فرائض سرانجام دیتے تھے۔ ہمارے گھرانے کا شمار متوسّط اور پڑھے لکھے لوگوں میں ہوتا تھا۔ گھر میں گائے، بھینسیں پال رکھی تھیں۔ خالص دودھ دہی کے علاوہ اچھا کھانا پینا میسّر تھا۔ تقسیمِ ہند سے پہلے ہمیں یقین دلایا گیا تھا کہ ہمارا علاقہ بھی پاکستان کا حصّہ بنے گا، مگر یک سر حالات تبدیل ہوگئے اور اچانک اس کے بھارت میں مدغم ہونے کے اعلان کے ساتھ ہنگامے پھوٹ پڑے، تو گھر بار، مال اسباب سب کچھ چھوڑ کر صرف تَن کے کپڑوں میں ہجرت کرنا پڑی اور جیسے تیسے لٹے پٹے قافلوں کے ساتھ لاہور پہنچ گئے۔ والد اور والدہ کے ساتھ ہم چار بھائی اور سب سے چھوٹی شِیرخوار بہن بھی تھی۔ بڑے بھائی اس وقت ساتویں میں، مَیں چھٹی اور مجھ سے دو چھوٹے بھائی تیسری اور دوسری جماعت میں تھے۔ لاہور کیمپ میں چند ماہ انتہائی کَس مپرسی میں زمین پر سو کر گزارے۔ اگرچہ کھانا تو مل جاتا تھا، مگر دیگر ضروریاتِ زندگی کے لیے کوئی ذریعۂ آمدن نہیں تھا۔ والد صاحب تھوڑا بہت روپیا لے کرآئے تھے، اسی سے گزر بسر ہورہی تھی، مگر تابکے۔ چند ماہ بعد وہ بھی ختم ہوگیا۔ والد صاحب کو کوشش کے باوجودکوئی ملازمت نہ مل سکی، اسی دوران محکمہ آبادکاری نے ضلع جھنگ کے ایک دور دراز گائوں میں دو کمروں کا ایک کچّا مکان ہمیں الاٹ کردیا۔ 

تاہم، روزگار کا مسئلہ ہنوز درپیش تھا۔ گھر کے مالی حالات دگرگوں تھے۔ حکومت کی طرف سے مہاجروں کو زرعی زمین الاٹ کی جاتی تھی۔ تاہم، زراعت کا کوئی تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے ہم اس سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکے۔ والد صاحب کو حکمت سے تھوڑی شُد ُبد تھی، تو اس کی دکان کھول لی، لیکن وہ بھی چل نہ سکی۔ بالآخرمیں نے ہمّت پکڑی اور آبادی کے وسط میں سبزی اور پھلوں کی دکان کھول لی۔ صبح، منہ اندھیرے اٹھ کر کھیتوں سے سبزیاں اور پھل لے کر آتا اور رات گئے تک انہیں فروخت کرتا، جس سے دو تین روپوں کی آمدنی ہونے لگی۔ سستا زمانہ تھا، دال روٹی ملنے لگی تھی۔ میرے بڑے بھائی پر تعلیم حاصل کرنے کی دھن سوار تھی۔ ایک روز اس نے بتایا کہ ’’ہمارے گائوں کا ایک لڑکا چنیوٹ کے ہائی اسکول میں داخلہ لےکر بورڈنگ ہائوس میں رہنے لگا ہے، جس کا ماہانہ کرایہ پندرہ روپے ہے۔‘‘ اس خبر نے میرے اندر بھی پھر سے تعلیم کی جوت جگا دی۔ والدہ سے ذکر کیا، تو انہوں نے جواب دیا۔ ’’یہاں کھانے کے لالے پڑے ہیں اور تم تعلیمی اخراجات کی بات کررہے ہو۔ یہاں ایک مستری کی دکان ہے، تم دونوں وہاں جاکر سائیکلوں کی مرمّت کا کام سیکھ لو۔ گھر کا دال دلیہ چل جائے گا، اسی کی پہلے فکر کرو۔‘‘

والدہ کے اس جواب نے ہم دونوں بھائیوں کو رُلادیا، لیکن بھائی نے ہمّت نہیں ہاری، مجھ سے کہا ’’فکر مت کرو، مجھے اللہ کی ذات پر پورا بھروسا ہے، کوئی ایسا بندوبست ہوجائے گا، جس سے ہم اپنے تعلیمی اخراجات اٹھاسکیں گے۔‘‘ برسات کا موسم تھا۔ چند روز گزرے تھے کہ شدید بارشوں کے سبب دریائے چناب میں سیلاب آجانے سے وسیع تر علاقہ زیرِ آب آگیا۔ فیصل آباد (پرانا لائل پور) اور سرگودھا روڈ تین چار فٹ پانی میں ڈوب گیا۔ سرگودھا سے ٹرکوں میں انگوروں کے کریٹ آتے تھے، جو لاہور اور فیصل آباد جاتے تھے۔ کسی نے خبر دی کہ ٹرک والوں نے نوجوان لڑکوں کو پیش کش کی ہے کہ اگر وہ انگور کا کریٹ اٹھا کر ایک میل دور کھڑے ٹرک تک پہنچادیں، تو اجرت کے طور پر چار آنے فی کریٹ دیا جائے گا۔ سڑک کا یہ حصّہ تقریباً چارفٹ پانی میں ڈوبا ہوا تھا۔ ہم دونوں بھائیوں نے اسے غیبی مدد سمجھ کر کمر کَس لی۔ دس روز تک سخت محنت اور مزدوری کرکے کچھ رقم جمع کرلی۔ اس دوران ہمارے سر اور کندھے زخمی ہوئے، مگر اس بات کی خوشی تھی کہ ماہانہ فیس اور داخلے کے لیے رقم جمع ہوگئی، جس سے کتابوں کا خرچہ بھی نکالا جاسکتا تھا۔

سیلاب کا پانی اترتے ہی ہم دونوں بھائی پیدل ہی چنیوٹ روانہ ہوگئے۔ جب آٹھ میل کا پیدل سفر کرکے چینوٹ کے ہائی اسکول پہنچے اور ہیڈ ماسٹر سے ملاقات کی تو، خوش قسمتی سے وہ فروغِ علم کے حامی نکلے۔ انہوں نے نہایت ہم دردی سے ہمارے حالات سُنے اور کہا کہ ’’میں تم دونوں میں سے ایک کی فیس آدھی کردوں گا، مگر مسئلہ یہ ہے کہ تم دونوں رہوگے کہاں، بورڈنگ ہائوس کی فیس تو تم لوگ دے نہیں سکوگے؟‘‘ہم نے کہا کہ ’’ رہایش کا بندوبست ہم خود کرلیں گے۔‘‘ ہیڈ ماسٹر رضامند ہوگئے اور ہم خوشی خوشی واپس گھر روانہ ہوگئے۔ گھر پہنچ کر ہم نے انہیں سارا قصّہ سنایا۔ والد صاحب فکرمند ہوگئے کہ تین چار سال تک ہم رہایش اور خوراک کے انتظام کے بغیر وہاں کیسے رہ سکیں گے۔ ہم نے انہیں تسلّی دی کہ وہ صرف ہمیں اجازت دے دیں، باقی معاملات اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہم دونوں بھائی مل جل کر سنبھال لیں گے۔ ہمارے بے حد اصرار پر انہوں نے اس شرط پر اجازت دی کہ ’’حالات چاہے کیسے بھی ہوں، کسی کے آگے دستِ سوال دراز نہیں کرنا۔‘‘

اگلے روزہم دونوں بھائی، علی الصباح فجر کی نماز کے بعد گھرسے ایک پرانی دری اور مکئی سےبھرا تھیلا لے کر چنیوٹ روانہ ہوگئے اور چھٹی سے کچھ دیر قبل اسکول پہنچ گئے۔ ہیڈماسٹر صاحب نے زبانی ٹیسٹ لے کر ہمیں کلاس روم میں بھیج دیااورچھٹی کے بعد ہمیں بلاکر یہ خوش خبری سنائی کہ ’’تم لوگوں کی علم سے محبت دیکھ کر مجھے بے حدخوشی ہوئی ہے، میں تمہاری رہایش کے لیے اور تو کچھ نہیں کرسکتا، لیکن اگر چاہو، تو اسکول کی چھت پر رہ سکتے ہو۔‘‘ اس غیبی امداد کو غنیمت سمجھ کر ہم نے چھت پراپنا بوریا بستر جمادیا اور مکئی کا تھیلا گلے میں ڈال کر بازار کا رخ کیا تاکہ اسے بیچ کر کورس کی پرانی کتابیں خرید سکیں۔ مغرب تک ہمیں نصف قیمت پر کورس کی مطلوبہ کتابیں مل گئیں۔ چند کتابیں رہ گئیں، جو بعد میں اپنے کلاس فیلوز سے شیئر کرلیں۔ کاپیوں کا مسئلہ اس طرح حل کیا کہ اسکول بند ہونے پر خاکروب کے آنے سے پہلے ہم کلاس رومز میں جاکر ایسے کاغذ جمع کرلیتے، جو ایک طرف سے خالی ہوتے اور پھر ان ردّی کاغذوں کو جوڑکر موٹی سوئی سے سی کر کاپی بنالیا کرتے۔ مہینے میں ایک بار پیدل اپنے گھر جاتے اور وہاں سے مکئی اور چنے کے تھیلے لے آتے۔ انہیں بھٹی سے بھنوا کر اسی پر صبح و شام گزارا کرتے۔ عصر کے وقت کھیتوں کی طرف روانہ ہوجاتے، وہاں سے گوبھی، شلجم، گاجر، مولی وغیرہ جو بھی مل جاتا، کچّا ہی کھالیتے۔ ادھر گھر کے مالی حالات کچھ زیادہ ہی بگڑ گئے، تو والد صاحب نے سرگودھا جانے کا فیصلہ کرلیا۔ وہاں وہ دن بھر مکئی کے بُھّٹے کوئلے کی انگیٹھی میں بھون کر فروخت کرتے اور رات کو قریبی مسجد میں سوجاتے۔ ایک روز مسجد میں ایک صاحبِ حیثیت شخص سے ان کی ملاقات ہوگئی، جنہوں نے 25روپے ماہانہ مشاہرہ کے ساتھ دو وقت کے کھانے کی آفر کی، جو والد صاحب نے قبول کرلی۔ اس طرح ایک مستقل آمدنی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ والد صاحب مہینے میں ایک دفعہ گھر آکر مہینے بھر کا راشن ڈلواجاتے تھے۔گھر میں باقاعدگی سے کھاناپکنے لگا، تو ماں نے امین نامی ایک لڑکے کے ہاتھوں ہمارا کھانا بھی بھجوانا شروع کردیا، جو روز سائیکل پر چنیوٹ کے اسکول پڑھنے آتا تھا۔ اس طرح ہمیں ماں کے ہاتھ کی پکی تازہ رووٹیاں کھانے کو ملنے لگیں۔ بہرحال، اس غربت اور نامساعد حالات میں ہم نے میٹرک کرلیا۔ بھائی نے تین سال اور میں نے چارسال اس اسکول کی چھت پر گرمی اور سردی جھیل کر اپنی تعلیم جاری رکھی۔اور اپنے والدین کی اس نصیحت پر ہمیشہ ثابت قدمی سے عمل کیا کہ اللہ کے سوا کسی کے آگے ہاتھ مت پھیلانا۔ اللہ نے ہمارے اس توکّل اور صبر و برداشت کا امتحان لے کرہم پر اپنے لطف و کرم کا سایا کردیا، جس کے بعد مفلسی کے اندھیرے چَھٹنے لگے۔ 

بھائی کو سوشل سیکیوریٹی پنجاب میں ملازمت مل گئی۔ بعدازاں، بھٹو دَور میں تین سالہ میڈیکل کورس کا اجراء ہوا، تو محکمے کی جانب سے انہوں نے اس کورس میں داخلہ لے لیا۔ محکمے سے تن خواہ بھی ملتی رہی۔ کورس مکمل ہوا، تو انہیں اسسٹنٹ میڈیکل آفیسر کی حیثیت سے ترقی دے دی گئی۔ میں میٹرک کے بعد سی بی آر (موجودہ ایف بی آر) میں کراچی میں ساٹھ روپے ماہ وار پر بہ طور کلرک بھرتی ہوگیا۔ پڑھائی جاری رکھی۔ ایف اے کے بعد میرا تبادلہ لاہور ہوگیا، جہاں پنجاب یونی ورسٹی سے گریجویشن کے بعد سرکاری ملازمین کے کوٹے سے ایل ایل بی کرلیا۔ اس کے ساتھ دیگر محکمانہ کورسز بھی کرتا رہا اور کسی سفارش کے بغیر، اللہ تعالیٰ کے کرم سے اسپیشل انکم ٹیکس آفیسر کے عہدے تک جاپہنچا۔

ہم دونوں بھائیوں کی محنت کا ثمر اللہ تعالیٰ نے اس طرح دیا کہ بڑے بھائی کا ایک بیٹا، لندن میں اچھی فرم میں ملازم ہے، جب کہ بیٹی، ایم ایڈ کے بعد ملازمت کررہی ہے اور داماد بھی فارماسسٹ ہے۔ میری ایک بیٹی، جس نے فاطمہ جناح میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا، آج کل امریکا میں ہے، جب کہ اس کا شوہر کارڈیالوجسٹ ہے۔ دوسری بیٹی، جس کی گریجویشن کے بعد شادی کردی تھی، وہ اپنے شوہر اور بچّوں کے ساتھ انگلینڈ میں خوش و خرّم زندگی گزار رہی ہے۔ بیٹے نے بی ڈی ایس لاہور سے کیاا ور کینیڈا میں ڈینٹل سرجن ہے۔ اس سے چھوٹا ہائی کورٹ کا وکیل اور سب سے چھوٹا ایل ایل بی کے آخری سال میں ہے۔مجھ سے چھوٹا بھائی، ائرفورس سے ریٹائر ہوا، سب سے چھوٹے بھائی کا کینیڈا میں وسیع کاروبار تھا، چند ماہ پہلے اس کا انتقال ہوگیا۔ میری اور میرے بڑے بھائی کی سب بہن بھائی دل و جان سے عزّت کرتے ہیں کہ ہم نے علم کی شمع کو اپنی شدید ترین جدوجہد سے جلائے رکھا۔ ہمارے والد صاحب نے کئی نسلوں کو پڑھایا تھا، تو خود ان کے بچّے کس طرح جاہل رہ سکتے تھے،مگر چھوٹی سی عمر میں دورانِ تعلیم ہم نے جو تکالیف برداشت کیں، مَیں آج کے بچّوں کو بتاکر ان کے اندر یہ احساس جگانا چاہتا ہوں کہ یہ ملک ہم نے نامساعد حالات میں انتہائی مشکلات جھیل کر بنایا اور اس کے لیے خوشی خوشی ہر قربانی دی۔ خدارا، اس نعمت کی قدرکریں اور جیسے بھی حالات ہوں، اپنی محنت اور لگن سے پاکستان کو ایک پڑھا لکھا پاکستان بنائیں۔

(محمد شفیع خان، لاہور)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں