آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل4؍ربیع الاوّل 1440ھ13؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اکثریت کی حکمرانی کو جمہوریت کا بنیادی اصول بتایا جاتا ہے۔عملا شاید ہی کوئی جمہوری پارلیمانی ملک ہو جہاں واقعی اکثریت کی حکمرانی ہو۔ پاکستان میں بھی آج تک کوئی بھی جمہوری حکومت ایسی نہیں تھی جو پاکستانی عوام (یا کم از کم ووٹرز)کی اکثریت سے قائم ہوئی ہو۔ وفاق میں قائم ہونے والی پیپلز پارٹی کی چاروں حکومتیں اقلیتی تھیں۔ مسلم لیگ نے تین مرتبہ انتخابات جیتے اور مرکز میں حکومت قائم کی۔ 1997 میں تو اسے دو تہائی کے قریب اکثریت ملی ، لیکن اسکی تینوں حکومتیں اقلیت ہی کی ترجمانی کرتی رہیں۔ تازہ ترین انتخابات میں (دھاندلی کی بحث سے قطع نظر) تحریک انصاف نے کل پول ہونے والے 5,31,23,733 (پانچ کروڑ اکتیس لاکھ تئیس ہزار سات سوتینتیس) ووٹوں میں سے صرف 1,68,51,240 (ایک کروڑ اڑسٹھ لاکھ اکاون ہزار دو سو چالیس) ووٹ لئے جو پول شدہ ووٹوں کا 31.82 فی صد ہے۔ گویا کہا جا سکتا ہے کہ 68 فی صد سے زائد ووٹ اسکے خلاف پڑے۔ یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ یہ 31.82 فی صد پول شدہ ووٹوں کا ہے جنکی شرح 51.6 فی صد رہی۔ اگر کل رجسٹرڈ ووٹوں کے حوالے سے دیکھا جائے تو پی ٹی آئی کے حاصل کردہ ووٹوں کی شرح بہ مشکل 17 فیصد بنے گی۔ جیسا کہ عرض کیا گیا ہے ، یہ معاملہ صرف پی ٹی آئی سے مخصوص نہیں، اب تک بر سر اقتدار رہنے والی تمام جماعتوں کا احوال یہی ہے۔

اگر ہم جمہوریت کے دعویدار ہیں تو جمہوریت کی روح کے مطابق اکثریت کی حکمرانی کا مسئلہ سب سے اہم ہو نا چاہئے۔ لیکن نہ صرف یہ کہ یہ کبھی ہماری ترجیح نہیں رہا بلکہ اس پر آج بھی کوئی بحث نہیں ہو رہی۔ غالبا بیشتر پارلیمانی جمہوریتوں کا یہی احوال ہے۔ اسی طرح ہمارے ہاں بہت بڑا مسئلہ شفاف ، غیر جانبدار اور منصفانہ انتخابات کا ہے۔ لیکن ہم آج تک ایسا نظام وضع نہیں کر پائے جو سو فیصد قابل اعتماد ہو اور جس پر کبھی کوئی انگلی نہ اٹھائی جا سکے۔ ان حالات میں ہم ایک نئی مہم پر نکل رہے ہیں جسکا نام ہے" سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق" ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ پاکستانی ہونے کے ناطے سمندر پار بسنے والے ہمارے بھائی اور بہنیں، وطن عزیز کے لئے بہت اہم خدمات بجا لا رہی ہیں۔ انکے حقوق کی نگہداشت اور ہر قسم کی سہولتیں فراہم کرنے کیلئے حکومت کو اپنے وافر وسائل فراہم کرنے چاہئیں۔

جہاں تک سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کے حق کا تعلق ہے، وہ انہیں ہمیشہ سے حاصل رہا ہے۔ شناختی کارڈ رکھنے والا ہر پاکستانی چاہے وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں رہتا ہو، ووٹ ڈالنے کا حق رکھتا ہے اور اسے یہ حق ہر پاکستانی کی طرح گزشتہ ستر سالوں میں بھی حاصل رہا ہے۔اصل میں مطالبہ یہ رہا ہے کہ سمندر پار پاکستانیوں کوایسی سہولت دی جائے کہ وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں رہتے ہوئے اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔گزشتہ دور حکومت میں انتخابی اصلاحات کمیٹی میں یہ معاملہ زیر غورآیا۔ اسی تناطر میںتقریبا تین برس قبل سمندر پار پاکستانیوں کے نمائندوں نے سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کی تھیں۔ چند ماہ قبل عمران خان نے بھی ایک درخواست دی تھی۔ اب سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی ہے کہ اس ضمن میں عملی اقدامات کئے جائیں۔ الیکشن کمیشن نے عدالت عالیہ کو آگاہ کیا ہے کہ اس نے نادرا کی مدد سے انٹرنیٹ ووٹنگ کا نظام وضع کر لیا ہے۔ لہٰذا آئندہ ضمنی انتخابات میں سمندر پار پاکستانی انٹرنیٹ کے ذریعے ووٹ ڈال سکیں گے۔

اصل مسئلہ مگر کسی نظام کو متعارف کروانا نہیں ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ وہ نظام کس قدر قابل اعتماد اور قابل انحصار ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نادرا کی انٹرنیٹ ووٹنگ سے متعلق تجویز اور نظام کی تکنیکی چھان بین (technical audit) کی غرض سے تمام اسٹیک ہولڈرز اور ماہرین پر مشتمل ایک خصوصی کمیٹی قائم کی تھی۔ جسے انٹر نیٹ ووٹنگ ٹاسک فورس کا نام دیا گیا تھا۔ تمام پہلوئوں کا بغور جائزہ لینے کے بعد اس ٹاسک فورس نے مجوزہ نظام میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی تھی ۔ کہنا اسکا یہ تھا کہ یہ طریقہ کار انتہائی غیر محفوظ ہے اور انٹرنیٹ ووٹنگ کے نتائج پر اثر انداز ہونے کے واضع امکانات موجود ہیں۔ ٹاسک فورس نے پوسٹل بیلٹ اور ایمبیسی ووٹنگ کی تجویز دی تھی، جو مثالی تو نہیں، مگر انٹرنیٹ ووٹنگ کے مقابلے میں کہیں زیادہ محفوظ ہے۔ کم از کم اسے کلی طور پر ہیک نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان میں سائبر کرائم کے معاملات ہمارے سامنے ہیں۔ کوئی باقاعدہ قانون بھی موجود نہیں۔ گزشتہ حکومت نے ایک سائبر کرائم ایکٹ منظور کیا تھا۔ مگر وہ تنازعات کا شکار رہا۔ اس قانون کے نفاذ کے حوالے سے بھی کافی سوالات موجود ہیں۔

ایسے میں ہم انتخابات جیسے انتہائی اہم اور حساس معاملے کو انٹرنیٹ کے حوالے کرنے پر تلے بیٹھے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی قائم کردہ ٹاسک فورس کے ا عتراضات کے باوجود آئندہ ضمنی انتخابات میں ہم یہ تجربہ کرنے جا رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی کا استعمال اہم سہی مگر حساس معاملات میں یہ استعمال تب ہونا چاہئے جب ہم اسکے محفوظ استعمال کے قابل ہوں۔ ابھی ابھی ہم نے انتخابات 2018 میں RTS کی صورت جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ہے۔کروڑوں روپے کی لاگت سے تیار ہونے والا یہ سسٹم کام کے وقت بیٹھ گیا تھا۔ ان حالات میں جب اس نظام کی خرابی سے متعلق انکوائری ہونا باقی ہے، کسی نئے تجربے کا جوازسمجھ سے بالا تر ہے۔

ابھی تو الیکشن کمیشن کے بنیادی نظام اور استعداد کار پر شدید ترین تحفظات موجود ہیں۔ کیا اندرون ملک درپیش تمام انتخابی مسائل ہم حل کر چکے ہیں جو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی فکر میں غلطاں ہیں؟ اگر انٹرنیٹ ووٹنگ قابل اعتماد نظام ہے تو پاکستان میں رہنے والے شہری اس سہولت سے محروم کیوں ہیں؟پاکستان میں کوئی بھی شہری کسی دوسرے شہر یا علاقے میںرہتے ہوئے ووٹ ڈالنے کا اہل نہیں ہوتا۔ اس مجبور پاکستانی کو بھی یہ سہولت دیجئے۔ معذور افراد جو پولنگ اسٹیشنوں پر جانے سے عملی طور پر قاصر ہوتے ہیں، کیا انہیں یہ سہولت درکار نہیں ہے؟ ہمارے ہاںکروڑوں خواتین بھی ووٹ ڈالنے سے محروم رہتی ہیں۔ کبھی نام نہاد غیرت آڑے آتی ہے، کبھی سماجی روایت، سفری یا گھریلو مجبوریاں۔ان خواتین کو پولنگ اسٹیشنوں تک لانے کا انتظام ہو نا چاہئے یا گھر بیٹھے انہیں بھی یہ سہولت دستیاب ہونی چاہئے۔ حج ، عمرے پر گئے پاکستانی، جیلوں میں قیداور دیگر مجبور پاکستانیوں کو بھی یہ میسر آنی چاہئے۔ پھر ان شہریوں کو کیونکر فراموش کیا جا سکتا ہے جو لمبی لمبی قطاروں میں پولنگ اسٹیشنوں کے باہر کھڑے رہتے ہیں مگر تنگی وقت کے باعث انکو انکے حق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ ووٹ ڈالنے کے حق کا تحفظ کرنا ہے تو سب کا کریں۔ خواہ وہ پاکستان میں رہتے ہوں یا کسی دوسرے ملک میں۔ اس بار ہمارا ٹرن آوٹ 2013 کے مقابلے میں 3 فیصد کم ہوا ہے۔ ہماری اولین توجہ تو اس جانب مبذول ہونی چاہئے۔ یوں بھی ایسے حالات میں جہاں چار دن گزر جانے کے بعد انتخابی نتائج سامنے آئیں۔ایسے میں تمام معاملات سے صرف نظر کرتے ہوئے، سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کی سہولت دینے کے تجربے پر کمر کس لینا کچھ اچھا معلوم نہیں ہوتا ۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں