آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صحرائے تھر میں ایک مرتبہ پھر پڑنے والے قحط نےابتدا میں ہی خطرناک صورت اختیار کر لی بھوک پیاس سےسرحدی علاقوں میں ہرن ، دیہات میں مور اور اسپتالوں میں بچوں کی اموات میں شدت آگئی۔

صحرائے تھر میں ایک مرتبہ پھر پڑنے والے قحط کے بعد تاحال کسی بھی قسم کی امداد تو نہ پہنچ سکی البتہ موت کا عفریت پہنچ گیاجس نے ننگر پارکر کے سرحدی علاقوں میں بھوک پیاس کے مارے نایاب ہرنوں کے بچوں کو نگلنا شروع کر دیا، دوسری جانب ڈیپلو کے دیہات میں صرف بیس روز کے دوران دو سو سے زائد مور مر گئے ہیں ۔

مٹھی کے سول اسپتال میں بھی غذائیت کی کمی و دیگر امراض کے سبب بچوں کی اموات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ محکمہ صحت کے مطابق گزشتہ دو ماہ کے دوران جاں بحق بچوں کی تعداد ایک سو دو بتائی جاتیہے۔

حکومت سندھ کی جانب سے ماسوائے پانچ دیہاتوں کے پورے ضلع کو آفت زدہ قرار دیا جا چکا ہے مگر عملی اقدامات کہیں دکھائینہیں دیتے ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں