آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار9؍ربیع الاوّل1440ھ 18؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر:ڈاکٹر محمد یحییٰ…لندن
روزنامہ جنگ مورخہ 8ستمبر میں پروفیسر مسعود اختر ہزاروی صاحب کا ایک مضمون بعنوان’’شناخت کی چوری جرم ہے‘‘ پڑھنے کا موقع ملا- محترم مسعود ہزاروی صاحب ماشاءاللہ ایک پروفیسر ہیں اور ہمیں امید تھی کہ وہ عقائد کے اختلاف کے باوجود اپنے مضمون میں صرف حقائق بیان فرمائیں گے لیکن افسوس کہ ہمیں مایوسی ہی ہوئی- اگرچہ محترم پروفیسر صاحب کے مضمون میں کئی مواقع پرمذہبی تعلیمات اور تاریخی حقائق کو بیان کرنے میں انصاف کا خون کیا گیا ہے جس کا بظاہر مقصد جماعت احمدیہ کے خلاف پہلےسے موجود عوامی نفرت کومزید ہوا دینا ہی ہو سکتا ہے لیکن خاکسار معزز قارئین اور محترم پروفیسر صاحب کی توجہ چند اہم امور کی طرف مبذول کروانی چاہتا ہے- محترم پروفیسر صاحب نے اپنے مضمون کے شروع میں ہی یہ بیان فرمایا کہ:عالمی قوانین کے مطابق کسی مخصوص شناخت کی چوری جرم ہے۔ آج کے دور میں مختلف ممالک کے قوانین کے مطابق ڈیزائن اور ٹریڈ مارک وغیرہ کی چوری کو باضابطہ جرم قرار دیا گیا ہے تاکہ کسی کوجرأت نہ ہو کہ کسی کا مخصوص نام استعمال کرکے فوائد حاصل کرے یا غلط بیانی کی بنیاد پر لوگوں کو گمراہ کرے۔ اسلام ہمارے مذہب کا قرآنی نام ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ نے موسوم، منتخب اور پسند بھی فرمایا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اسلام کے’’

مقدس نام‘‘ کو دن دیہاڑے چوری کرنے کی کوشش کی جائے اور مسلمان سمجھوتہ کر لیں یا سوئے رہیں اس بارے میں ہم محترم پروفیسر صاحب کی خدمت میں یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ یہ آپکا ایک جذباتی اندازِ گفتگو تو ہو سکتا ہے لیکن مذہب اسلام سے اسکا کوئی تعلق نہیں- پہلی بات تو یہ کہ مذہبی دنیا میں مذہبی قوانین کی پاسداری کو اولین ترجیح دی جاتی ہے نہ کی عالمی قوانین کو- کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ تمام عالمی قوانین دنیا میں موجود مذہبی قوانین یعنی شریعت پر پورا اترتے ہوں- مثال کے طور پرعالمی قوانین جتنا مرضی ہم جنس پرستی کو فروغ دیں مسلمان کبھی بھی ہم جنس پرستی کی اپنے مذہب میں اجازت نہیں دینگے- دوسرے یہ کہ دنیاوی کاروباروں میں ٹریڈ مارک کو حاصل کرنے کے لئے مختلف ادارہ جات موجود ہیں جو کہ مختلف کمپنیوں کو ٹریڈ مارک دیتے بھی ہیں لیکن محترم پروفیسر صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ مذہبی دنیا میں تو ایسا کوئی ادارہ سرے سے موجود ہی نہیں- پروفیسر صاحب نے اگرچہ یہ جملہ اپنے مضمون میں لکھا کہ " اسلام ہمارے مذہب کا قرآنی نام ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ نے موسوم ، منتخب اور پسند بھی فرمایا "لیکن وہ یہ بات قارئین کو بتلانا بھول گئے کہ اللہ تعالیٰ نے اُسی قرآن مجید فرقانِ حمید میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو "پہلا مسلمان" قرار دیا ہے- صرف یہی ایک قرآنی حقیقت محترم پروفیسر صاحب کی اس تھیوری کو غلط ثابت کرنے کے لئے کافی ہونی چاہئے کہ لفظ اسلام یا مسلمان کوئی اسلامی ٹریڈ مارک ہے۔ 1974 کی اسمبلی کے سامنے بھی جماعت احمدیہ کے اس وقت کے خلیفہ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب نے برملا اور درست ہی یہ اظہار فرمایا تھا کہ ٹریڈ مارک کی اصطلاح دنیاوی کاروباری اصطلاح ہے مذہبی دُنیا سے اسکا کوئی تعلق نہیں ۔محترم پروفیسر صاحب نے اپنے مضمون میں یہ بھی بیان فرمایا کہ:نبی کریم ﷺ کے وصال مبارک کے کچھ ہی عرصہ بعد مسیلمہ کذاب نے اس شناخت کو چوری کرنے کی کوشش کرتے ہوئے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا۔ سیدنا صدیق اکبرؓ نے اس کے خلاف کارروائی کی- ہم نہایت ہی ادب کے ساتھ محترم پروفیسر صاحب کی خدمت میں یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ تاریخ کا ایک ادنیٰ طالب علم بھی یہ جانتا ہے کہ مسیلمہ کذاب نے نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد نہیں بلکہ آپ ﷺ کی زندگی میں ہی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کردیا تھا اور حضرت ابوبکرؓ نے مسیلمہ کذاب پر لشکرکشی اس کے جھوٹے مدعی نبوت ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کی اسلامی حکومت کے خلاف بغاوت کی وجہ سے کی تھی۔ محترم پروفیسرمسعود صاحب مزید اپنے مضمون میں لکھتےہیں:7 ستمبرہماری تاریخ کا وہ روشن اور تاریخ ساز دن ہے جب ہزاروں مسلمانوں نے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے طویل جدوجہد کے بعد پارلیمنٹ سے مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی ماننے والوں کو آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قراردلوانے میں کامیابی حاصل کی۔ محترم پروفیسر صاحب سے ہم اس ضمن میں اتنا ہی عرض کرتے ہیں کہ نہ جانے کونسی تاریخ آپ نے پڑھی ہے جس نے آپ کو یہ بتلایا کہ "ہزاروں" مسلمانوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا- حقیقت یہ ہے کہ 1953 کی تحریک سمیت چند گنتی کے افراد ہیں جن کی جانیں اینٹی احمدیہ تحریکات میں گئی ہیں- ہم اُن افراد کی جانوں پر بھی دلی افسوس کا اظہار کئے بغیر نہیں رہ سکتے لیکن محترم پروفیسر صاحب سے یہ عرض کرتے ہیں کہ محض عوام کو جذباتی کرنے اور احمدیوں کے خلاف نفرت پھیلانے کی خاطر خدارا حقائق کو مت بگاڑیئے- اور اگر آپ پھر بھی مصر ہیں تو ہماری درخوارست ہے کہ پاکستان کے کسی بھی مستند ادارے کی کوئی ایسی رپورٹ یا گوشوارہ بطور ثبوت قارئین کے سامنے پیش کیجئے تاکہ آپ کے دعویٰ کی تصدیق ہو جائے۔ پروفیسر ہزاروی صاحب مزید رقمطرازہیں کہ:احمدیت کا مسئلہ یہ ہے کہ عقیدہ ختم نبوت کا انکار کرکے مرزا قادیانی کو انہوں نے نبی بنایا ہوا ہے۔ اسلام کے بنیادی عقائد بشمول عقیدہ ختم نبوت کو مان لیں اور تصدیق و اقرار کر لیں کہ جو بھی نبی کریم ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرے وہ جھوٹا اور دجال ہے، تو آج بھی ہم ان کے استقبال کیلئے پلکیں بچھانے کے لئے تیار ہیں۔ اس ضمن میں دو نہایت ہی اہم باتیں ہم محترم پروفیسر صاحب اور قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہتے ہیں- پہلی بات تو یہ کہ احمدی ہرگز ہرگز عقیدہ ختم نبوت کا انکار نہیں کرتے یہ ہم پر بہتانِ عظیم ہے- ہم احمدی آیت خاتم النبیین کے نازل ہونے کے باوجود ایک نبی کی آمد کے قائل ہیں- فرق صرف اتنا ہے کہ آپ اُسی اسرائیلی مسیح ناصری کے دوبارہ جسمانی طور پر آسمان سے نزول کے قائل ہیں جبکہ احمدی یہ مانتے ہیں کہ وہ بابرکت وجود امت محمدیہ میں ہی پیدا ہونا تھا- اسی ضمن میں دوسری بات نہایت ہی اہم ہے لیکن شاید محترم پروفیسر صاحب کا اس طرف دھیان ہی نہیں گیا – خاکسار آپ کو یہ یاد دلوانا چاہتا ہے کہ 1974میں کی گئی آئینی ترمیم کے مطابق ’’جو شخص انحضرت محمد عربی ﷺ کے خاتم النبیین ہونے پر قطعی اور غیر مشروط طور پر ایمان نہیں رکھتا یا جوحضرت محمد ﷺ کے بعد کسی بھی قسم کا نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے یا کسی ایسے مدعی کو نبی یا دینی مصلح تسلیم کرتا ہے وہ آئین یا قانون کے اغراض کے لئے مسلمان نہیں ہے‘‘۔ ہمیں امید ہے کی محترم پروفیسر صاحب ہمارے ساتھ اس حقیقت پر اتفاق کرینگے کہ تقریباً تمام مسلمان فرقے بشمول بریلوی، دیوبندی اہل حدیث اور شیعہ حضرات، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بعثتِ ثانی کے بعد انکو مشروط طور پر یا کسی نہ کسی مفہوم میں سچا نبی یا سچا دینی مصلح ہی تسلیم کرتے ہیں اسلئے یہ تمام فرقے ائینِ پاکستان کی شق 260 کے مطابق مسلمان نہیں ہیں- آخر میں ہم محترم پروفیسر صاحب کی خدمت میں یہ عرض کرتے ہیں کہ آپ آئندہ احتیاط سے کام لیں گے اور تاریخی و مذہبی حقائق کو مسخ کرنے سے گریز فرمائیں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں