آپ آف لائن ہیں
اتوار 12؍محرم الحرام 1440ھ 23؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاک چین دوستی ہمالیہ سے بلند اور سمندر کی گہرائیوں سے زیادہ گہری ہے۔ سی پیک منصوبہ ملکی ترقی کا ضامن ہے اور جنوبی ایشیا میں بھی خوشحالی لے کرآئے گا۔پاک چین اقتصادی راہداری کئی عالمی طاقتوں کو ہضم نہیں ہورہی یہی وجہ ہے کہ وہ مختلف حیلوں اور بہانوں سے اس عظیم منصوبے کو ناکام بنانے کی سازشوں میں مصروف ہیں، ان کا مقابلہ کرنے کیلئے سی پیک کو سماجی ومعاشی ترقی، غربت کے خاتمے، انسداد بدعنوانی اور حکومت پاکستان کے ترجیحی منصوبوں تک توسیع دینی چاہئے اوراس سلسلے میں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جانے چاہئیں۔ وطن عزیز کو اس وقت عالمی تنازعات اور اندرونی خلفشار کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔ سیاسی استحکام کیلئے حکومت اور اپوزیشن کو مل کر کام کرنا چاہئے۔ پاکستانی عوام امن پسندہیں اور ہم نے ہمیشہ دہشتگردی خواہ وہ کسی بھی صورت میں ہو اس کی نفی کی ہے۔ عالمی برادری پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرے۔ پاک چین اسٹریٹجک تعلقات کو بڑھانے اور پہلے سے زیادہ مضبوط کرنے کے چینی وزیر خارجہ وانگ ژی کا بیان خوش آئند اور حوصلہ افزا ہے۔ چین ہمیشہ مصیبت کے وقت میں پاکستان کے عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا نظر آیا۔ اقتصادی رہداری منصوبے سے خطے کے تمام ممالک کو ثمرات حاصل ہوسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ روس، ایران، چین اور پاکستان سی پیک کو کامیاب بنانے کیلئے مشترکہ کوششیں کررہے ہیں۔ اقتصادی راہداری کے تمام منصوبوں سے پاکستان کے عوام کو یکساں فائدہ پہنچے گا۔ دوست ممالک کے درمیان تعلقات کاسیاسی جماعتوں اور حکومتوں کی تبدیلی سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہئے۔ سیاسی وعسکری قیادت سی پیک کے عظیم منصوبے کو جلد ازجلد پایہ تکمیل تک پہنچائے۔ یہ گیم چینجر منصوبہ ہے جس سے پاکستان کا مستقبل وابستہ ہے۔ حکومت پاکستان سی پیک پر ہونے والی دشمنوں کی چالوں کو ناکام بنانے کے حوالے سے سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔ ہماری خارجہ پالیسی حقیقی معنوں میں دباؤ کا شکار ہے اسکو عالمی دباؤ سے نکالنا تحریک انصاف کی نئی حکومت کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور ان کی ٹیم پاکستان کی آزاد خارجہ پالیسی بنانے میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہے؟ کیونکہ ماضی میں یہ دیکھنے میں آیاہے کہ امریکہ ہمیشہ پاکستان کی خارجہ پالیسی پر غالب رہا ہے۔ اب چونکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا رخ چین اور روس کی جانب زیادہ ہے اسلئے پاکستان کو اس وقت کئی دشواریوں کا سامنا ہے۔ دوسری جانب امریکہ بھی پاکستان سے دور ہوتا جارہا ہے۔ وہ بھارت پر نوازشات کررہا ہے۔ ان حالات میں سی پیک کی تکمیل بہت ضروری ہے۔ پاکستان معاشی لحاظ سے ایک کمزور ملک ہے۔ ہمیں ملک وقوم کی فلاح وبہبود کو نظر میں رکھتے ہوئے داخلہ وخارجہ پالیسیوں کو ازسر نو تشکیل دینا چاہئے۔

ملک وقوم کے مسائل اور ان کا حل قومی ترجیحات میں شامل کئے بغیر ترقی کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ ملک نازک دور سے گزررہا ہے۔ مسائل کے انبار ہیں۔ عوام کی زندگی عملاً اجیرن ہوچکی ہے۔ ریلیف نام کی کوئی چیز نہیں۔ کرپشن کی انتہا ہوچکی ہے۔ ماضی میں بے انتہا کرپشن کرکے مفاد عامہ کے منصوبوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ کرپشن نے ملکی جڑوں کو کھوکھلا کردیا ہے۔ کرپٹ عناصر کے خاتمے کے بغیر ملک سے بدعنوانی کبھی ختم نہیں ہوگی۔ ملکی دولت لوٹنے والوں کا بلاتفریق محاسبہ ہونا چاہئے۔ 70سال سے ملک پر مٹھی بھر اشرافیہ کا قبضہ رہاہے جس نے پورے نظام کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے۔غریب عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کیلئے تحریک انصاف کی نئی حکومت کو دکھاوے کی بجائے سنجیدگی سے اقدامات کرنے ہوں گے۔ چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے بلاشبہ یہ درست کہا ہے کہ کرپٹ عناصر دنیا کے کسی گوشے میں چلے جائیں ان کا پیچھا کریں گے۔ کرپٹ عناصر کا بلاامتیاز احتساب ہونا چاہئے۔ قومی دولت کو لوٹنے والے کسی بھی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔منی لانڈرنگ کرکے ہر سال اربوں روپے بیرون ملک منتقل کرلئے جاتے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ کرپشن کی روک تھام اور منی لانڈرنگ کے خاتمے کیلئے سخت ترین میکانزم بنانے کی ضرورت ہے۔ پی ٹی آئی کے سربراہ وزیراعظم عمران خان نے کرپٹ عناصر کے قلع قمع کی قوم کو یقین دہانی کروائی تھی۔ اب وقت آگیا ہے کہ چوروں، لٹیروں اور ٹیکس میں خوردبرد کرنے والوں کامحاسبہ کیا جائے۔ جب تک ملک سے کرپشن کا مکمل خاتمہ نہیں ہوجاتا ملک ترقی کے راستے پر گامزن نہیں ہوسکتا۔ ملک میں ہر سال ساڑھے چار ہزار ارب روپے کی کرپشن جبکہ ایک ہزار ارب روپے کی منی لانڈرنگ ہورہی ہے جوکہ تشویش ناک امر ہے۔ ماضی کے حکمرانوں کی جانب سے اگر کرپشن کی روک تھام کیلئے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جاتا تو آج صورتحال مختلف ہوتی۔ ملکی معیشت کی بحالی کیلئے کرپشن کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنا ہوگا۔ کرپٹ افراد دیمک کی طرح ملک کو چاٹ رہے ہیں۔ حکومتی منصوبوں کی شفافیت پر کسی قسم کاکوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے۔ کمیشن مافیا پوری طرح سرگرم ہے۔ پاناما اسکینڈل میں مزید436پاکستانیوں کا بھی کڑا احتساب ہونا چاہئے اور لوٹی گئی قومی دولت کو واپس ملک میں لانا چاہئے۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بھی مسلسل بڑھتا جارہا ہے۔ کئی کئی گھنٹوں پر محیط لوڈشیڈنگ نے لوگوں کا براحال کردیا ہے۔ ترقیاتی کاموں اور کھمبوں کی تبدیلی کے نام پر لوڈشیڈنگ کے علاوہ بریک ڈاؤن، ٹرپنگ اور بغیر کسی شیڈول کے بجلی کی بندش سے عوام کا جینا دوبھر ہوگیا ہے۔ لوگوں میں شدید اضطراب پایا جاتاہے۔ لوڈشیڈنگ فری فیڈرز سے بھی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔ بجلی کا شارٹ فال پانچ ہزار 782میگاواٹ تک پہنچ گیا ہے۔ نئی حکومت مسائل پر توجہ دینے کی بجائے نمائشی اقدامات کررہی ہے۔ ملک میں اس وقت توانائی کا بحران شدت اختیار کرچکا ہے جس کی وجہ سے صنعتیں بند اور مزدور بے روزگار ہورہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ہر سال معاشی حالات سے دلبرداشتہ 10ہزار افراد اوسطاً خودکشی کی کوشش کرتے ہیں جو ہمارے ارباب اقتدار کیلئے لمحہ فکریہ ہے پنجاب میں خودکشی کے پانچ ہزار واقعات درج کئے گئے ہیں۔ اسی طرح سپریم کورٹ اور حکومت کی جانب سے نئے ڈیمز بنانے کے حوالے سے فنڈ ریزنگ اور عوام میں شعور بیدار کرنا اگرچہ قابل تحسین ہے مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈیم بنانے کے حوالے سے عملاً اقدامات بھی کئے جائیں۔ کالاباغ ڈیم سمیت تمام چھوٹے بڑے ڈیم فوری تعمیر کئے جانے چاہئیں، نئے ڈیمز پاکستان کی بقاکی ضمانت ہیں۔ ہندوستان سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں شاہ پور کنڈی ڈیم تعمیر کرنے جارہاہے جو کہ2020ءتک مکمل ہو جائیگا۔ بھارت تیزی کیساتھ پاکستان کے حصے میں آنے والے دریاؤں پر ڈیم بنا کر پانی چوری کر رہا ہے اور پاکستان کو بنجر کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں۔ بھارتی آبی جارحیت کا مقابلہ کرنے کیلئے ہماری حکومت کو اس اہم معاملے میں سنجیدگی دکھانا ہوگی۔ ملک کو درپیش آبی مسائل کاحل صرف ایک دو ڈیمز کی تعمیر سے ممکن نہیں۔ ہمیں کالاباغ ڈیم کے ایشو پر پوری قوم کو متحد کرنا ہوگا۔ کالا باغ ڈیم سے سستی بجلی وافر مقدار دستیاب ہوگی جبکہ روزگار کے نئے مواقع بھی ملیں گے۔ المیہ یہ ہے کہ نئے ڈیم نہ بننے کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ہر سال پانی سمندر برد ہو جاتا ہے۔ ہم پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھا کر نہ صرف بجلی کے بحران کو حل کرسکتے ہیں بلکہ پاکستان کو بھی سرسبز بناسکتے ہیں۔ زراعت کی ترقی سے پاکستان خوشحالی کی جانب بڑھے گا۔ تحریک انصاف کی نئی حکومت اگر واقعی ملک میں حقیقی تبدیلی لانا چاہتی ہے تو اسے کرپشن کے خاتمے اورنئے ڈیم بنانے کیلئے عملی طور پر پیش رفت کرنا ہوگی۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں