آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 14؍رمضان المبارک 1440ھ20مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ کہنا کہ پاکستان کی معیشت سخت دباؤ میں ہے، کوئی نئی بات نہیں ہے۔ کئی دہائیاں گزر گئیں معیشت کی خرابی کے اصل اسباب کا ادراک یا اعتراف کرنے کے بجائے زیادہ تر فوری اور عارضی اقدامات کا سہارا لیا گیا ہے۔ معیشت کے استحکام میں لوگوں کی شمولیت کے لیے قابل قدر اقدامات نہیں کیے گئے۔ ملک میں صنعتیں قائم کرکے لاکھوں ہنر مندوں اور مزدوروں کو روزگار کی فراہمی کا ذریعہ بننے والے افراد کو مناسب مراعات نہیں دی گئیں۔ ایکسپورٹ کے ذریعے پاکستان کے لیے اربوں ڈالر سالانہ حاصل کرنے والی صنعتوں کی پیداواری لاگت کو کم رکھنے کے لیے کوئی واضح حکمت عملی نہیں بنائی گئی۔ صنعتوں کے لیے بجلی اور گیس کی ترجیحی اور کم قیمت فراہمی کے لیے پیشگی اقدامات نہیں کیے گئے۔ زرعی شعبے کو بیسویں اور اکیسویں صدی کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے زمین داروں اور کسانوں کو ترغیبات اور سہولتیں نہیں دی گئیں۔ پاکستان میں کمانے والے ہر شخص کی ملکی معیشت میں شمولیت کے لیے ترغیبی اقدامات کے بجائے ٹیکس دینے والوں کے لیے خوف کی فضا بنتی گئی۔ پرائز بانڈز اور فارن ایکسچینج بیریئر سرٹیفکیٹ (FEBC) جیسی اسکیمیں غیر قانونی آمدنی کو قانونی بنانے کے لیے بآسانی استعمال ہونے لگیں۔ ملک کی عام ضروریات، ملک کے محصولات سے پوری نہ ہوپائیں تو دوسرے ملکوں اور مالیاتی اداروں سے بلا روک ٹوک قرضے لے لیے گئے۔

پاکستان کی معاشی حالت خراب ہے، یہ جملہ میں صدر ایوب خان کے دور یعنی 60ء کے عشرے سے ہی سنتا اور پڑھتا آرہا ہوں۔ سرکاری سطح پر معیشت کی خرابی کے باوجود پاکستان میں جائیداد کی قیمتیں بھی انتہائی تیز رفتاری سے بڑھتی رہی ہیں۔ سونے کی قیمت 70ء کے عشرے میں تقریباً چھ سو روپے فی تولہ تھی۔ اس وقت کراچی، لاہور، راولپنڈی، حیدرآباد، فیصل آباد، ملتان، سیالکوٹ، پشاور اور کوئٹہ جیسے بڑے صنعتی یا تجارتی شہروں میں صرافے کی محض چند دکانیں ہوا کرتی تھیں۔ آج ہر شہر میں کئی کئی صرافہ بازار ہیں۔ بیس تا تیس ہزار روپے میں نئے ماڈل کی کار مل جاتی تھی۔ اس وقت پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پرائیویٹ کاروں کی تعداد چند ہزار سے زیادہ نہ تھی۔ بڑے بڑے کاروباری اداروں میں افسر اور اسٹاف کے افراد کھلے کمروں میں پنکھوں کے نیچے بیٹھا کرتے تھے۔ ایئر کنڈیشنر چند ایک دفاتر میں کاروبار کے مالک یا بڑے افسروں کے کمروں میں ہوتے تھے۔ شادیوں کی تقاریب زیادہ تر گھروں کے باہر سڑک پر ٹینٹ لگا کر منعقد ہوتی تھیں۔ شادی ہال اور کیٹرنگ سروسز کا تصور ہمارے معاشرے میں عام نہ ہوا تھا۔ عروسی ملبوسات چند ہزار میں تیار ہوجاتے تھے۔ شادی اور ولیمے کے لیے دلہن کے جوڑے کئی کئی لاکھ میں خریدنے کا کوئی سوچتا بھی نہ تھا۔ 60ء کے عشرے میں یہ وہ دن تھے جب پاکستان کی معیشت آج کی نسبت کہیں اچھی حالت میں تھی۔ حکومت اس وقت بھی غیر ملکی امدادا ور قرضوں کے انجیکشنز کو ہی معیشت کی مضبوطی کا ذریعہ سمجھتی تھی۔ آج پچاس سال بعد بھی قرضوں میں جکڑی پاکستانی معیشت کو سانس لینے کے لیے غیر ملکی مدد کی ضرورت ہے۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پاکستان میں حکومت کی مالی حالت خراب اور افراد کی مالی حالت بہت اچھی ہوتی جارہی ہے۔ پاکستان میں امیر طبقے کی خوش حالی اور حکومت پر قرض کے بوجھ میں اضافہ ایک ساتھ ہورہا ہے۔ صنعت، زراعت اور تجارت سے وابستہ امیر طبقے کے پاس پاکستان سے حاصل کردہ دولت کی کتنی مقدار سے پاکستان میں سرمایہ کاری کی گئی ہے اور کتنی زیادہ دولت ملک سے باہر بھیج دی گئی اس کے بارے میں کسی حکومتی ادارے کے پاس کوئی تسلی بخش معلومات نہیں ہیں۔ یہ معلومات نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ پاکستان میں معیشت کو دستاویزی بنانے میں حکومت کی لاپروائی، چشم پوشی یا ناکامی ہے۔

امیر طبقات کے علاوہ پاکستان میں بعض شعبوں کے ذریعے درمیانے درجے میں بھی دولت کی پیدائش بڑھی ہے۔ اس طرح چند فی صد پاکستانیوں پر مشتمل مڈل کلاس کو مالی خوش حالی ملی ہے۔ رشوت کمیشن، کک بیکس سرکاری ٹھیکوں میں بد عنوانی، ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی اور دیگر غیر قانونی ذرائع سے دولت بنانے والوں میں امیر، مڈل کلاس اور غریب تقریباً سب ہی طبقات کے لاکھوں افراد شامل ہیں۔ پاکستان کے اکنامک منیجرز، خواہ وہ سرکاری افسران ہوں یا وزیر مشیر بننے والے سیاسی عہدے دار، ان سب ذمہ داروں نے پاکستان کی معیشت کو استحکام دینے کے لیے انفرا اسٹرکچر کی فراہمی، صنعتی و زرعی پیداوار میں مسلسل اضافے، خدمات کے شعبوں کو مضبوط سے مضبوط تر کرنے کی نتیجہ خیز کوشش نہیں کیں۔ معیشت کے فیصلے زیادہ تر سیاسی مصلحتوں کو سامنے رکھ کر کیے گئے۔ معیشت کو مضبوط کرنے کے عمل میں عوام کی بھرپور شمولیت کا اہتمام نہیں کیا گیا۔

پاکستان میں انکم ٹیکس میں رجسٹرڈ افراد کی تعداد ستر برسوں میں تقریباً پندرہ لاکھ ہو پائی ہے۔ پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ غربت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ ان غریبوں کے لیے روزگار، علاج معالجے اور ان کے بچوں کے لیے تعلیم کا اہتمام کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان کے وسائل سے اچھا روزگار کمانے والے دو کروڑ سے زائد افراد کو مالیانی ذمہ داریوں میں شریک کرنا بھی حکومت کا کام ہے۔ 2017-18 کا بجٹ پیش کرتے وقت وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی حکومت نے شاہانہ فیاضیوں کے مظاہرے کیے۔ پندرہ لاکھ ٹیکس دہندگان جن میں اکثریت تنخواہ دار افراد کی ہے، کو خوش کرنے کے لیے ٹیکس کی شرحوں میں غیر مناسب ردوبدل کیے گئے۔ جب یہ بجٹ پیش کیا گیا اس وقت بھی میں نے اپنے کالم بعنوان ’’ٹیکس میں اتنی رعایت کیوں....؟‘‘ میں ٹیکسز کی شرحوں میں غیرحقیقت پسندانہ چھوٹ پر نظر ثانی کی تجویز پیش کی تھی۔

تحریک انصاف کی حکومت سے گزارش ہے کہ باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرنے والے تنخواہ دار اور ذاتی کاروبار کرنے والے، چھوٹے، درمیانے اور بڑے ٹیکس دہندگان کی قدر کی جائے۔ نان فائلرز کو مختلف رعایات دینے کے بجائے انکم ٹیکس دہندگان کو یہ یقین دلایا جائے کہ ان کا ادا کردہ ٹیکس کل ان کے بھی کام آئے گا۔ بارہ لاکھ سالانہ آمدنی والے فرد سے محض دو ہزار روپے ٹیکس وصول کرنے کے بجائے ان سے آمدنی کا کم از کم تین فی صد ٹیکس وصول کیا جائے۔ پچیس ہزار روپے سے زائد انکم ٹیکس ادا کرنے والے ہر فرد کے ادا کردہ ٹیکس میں سے پانچ فی صد رقم ہیلتھ اور لائف انشورنس کے پریمیم کی مد میں جمع کروادی جائے۔ باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرنے والوں کے بچوں کو یونیورسٹی سطح کی اعلیٰ تعلیم کے لیے خاص رعایات، وظائف کا انتظام حکومت کی ذمہ داری ہو۔ بیس سال سے زیادہ مدت تک باقاعدگی سے انکم ٹیکس ادا کرنے والے ہر فرد کو 65 سال سے زائد عمر ہوجانے پر کام سے ریٹائرمنٹ لینے کی صورت میں اس کے ادا کردہ سالانہ انکم ٹیکس کی مناسبت سے تاحیات پنشن ادا کرتے رہنے کے لیے قانون سازی کی جائے۔

پیداواری لاگت کم کرنے کے لیے صنعتوں کو بجلی اور گیس کی کم قیمتوں پر فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ پاکستان میں چند طبقات کے لیے رعایات یا نوازشات کا اہتمام قومی معیشت کے لیے سخت نقصان دہ ہوگا۔ کراچی سے تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی نجیب ہارون نے سرکاری خزانے سے تنخواہ اور مراعات نہ لینے کااعلان کرکے ایک بہت اچھی مثال قائم کی ہے۔ سال 2018-19 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے گزشتہ حکومت نے ارکان قومی اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں بہت زیادہ اضافے کا اعلان بھی کیا تھا۔ میری گزارش ہے کہ حکومتی اور اپوزیشن بینچوں سے تعلق رکھنے والے چند ارکان ان مراعات کی واپسی کے لیے ایوان میں قرارداد پیش کریں۔ عوام سے چندوں اور قربانیوں کا مطالبہ کرنے سے پہلے خود عوامی نمائندوں کو ایثار اور قربانیوں کا عملی مظاہرہ کرنا چاہئے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں