پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا پارلیمنٹ میں دھرنا جاری ہے، اپوزیشن قیادت بھی شریک ہے، پی ٹی آئی قیادت اندھیرے کے باعث پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر آکر بیٹھ گئی۔
پارلیمنٹ کے تمام دروازے تا حال نہیں کھولے گئے، دروازے بند ہونے کی وجہ سے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی بھی پارلیمنٹ نہیں پہنچ سکے، پولیس نے اپوزیشن ارکان اسمبلی کو پارلیمنٹ لاجز سے بھی نکلنے سے روک دیا۔
اس سے قبل پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کرنے والے اپوزیشن ارکان سے حکومت نے رابطہ کیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن قیادت نے ون پوائنٹ ایجنڈا حکومتی نمائندے کے سامنے رکھا اور کہا کہ مطالبہ تسلیم کیے جانے تک احتجاج جاری رہے گا۔ بانی پی ٹی آئی کی صحت ون پوائنٹ ایجنڈا ہے۔
حکومتی نمائندے نے وزیراعظم سے مشاورت کے بعد اپوزیشن کو جواب دینے کا کہا۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ اگر تمام دروازے بند کیے تو ہم یہیں پارلیمان کے سامنے احتجاج کریں گے۔
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہمارا دھرنا پرامن ہوگا، بانی پی ٹی آئی سے ان کے ذاتی معالج اور فیملی کی ملاقات کروائی جائے، پہلے مجھے بتایا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت بہتر ہے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ملک میں اچھے ڈاکٹرز موجود ہیں ان کا علاج کروانا چاہتے ہیں، اس معاملے کو الجھائے بغیر حل کی طرف بڑھنا چاہیے۔