آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 11؍صفر المظفّر 1440ھ 21؍اکتوبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارتی ریاست گجرات کے 2002 کے بدترین فسادات کے حوالے سے16 برس بعد سابق بھارتی جنرل کا ضمیر جاگ گیا ۔

ایک انٹرویو میں بھارتی جنرل ضمیر الدین شاہ نے نئے انکشافات کئے ہیں ،انہوں نے کہا کہ فسادات روکنے کی ذمہ داری ہماری تھی لیکن احمد آباد جل رہا تھا اور ہم بے بسی سے دیکھ رہے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ 34 گھنٹوں تک فوج کو ایئرپورٹ پر گاڑیاں فراہم نہ کی گئیں، ٹرانسپورٹ کا بروقت انتظام ہوجاتا تو کم سے کم 300 زندگیاں بچائی جاسکتی تھیں۔

ریٹائرڈ جنرل کا کہنا تھا کہ فوج کو راجستھان سے بلایا گیا، پورا ایک دن ایئرپورٹ پر بٹھایا گیا، ریاستی حکومت نے بروقت ذمے داری نہیں نبھائی۔

خیال رہے کہ بھارتی ریاست گجرات میں ہندوؤں کی اکثریت ہے اور یہاں اکثر ہندو مسلم فسادات ہوتے رہتے ہیں۔

2002 میں بھی اس ریاست میں فسادات پھوٹ پڑے تھے جن میں ایک ہزار کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔

بھارت کے موجودہ وزیراعظم نریندر مودی ان دنوں گجرات کے وزیراعلیٰ تھےجبکہ مرکز میں بھی ان ہی کی جماعت کے اٹل بہاری واجپائی کی حکومت تھی ۔

نریندر مودی پر الزام ہے کہ انہوں نے ہندو انتہاپسندوں کو مسلمانوں پر حملوں سے روکنے کی کوشش نہیں کی اور ان سے چشم پوشی اختیار کی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں