آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ7؍ صفر المظفّر1440ھ 17؍اکتوبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہر سال 10 اکتوبر کو ورلڈ مینٹل ہیلتھ ڈے یعنی دماغی صحت کا عالمی دن منایا جاتاہے۔ ایک تحقیق کے مطابق ہر چار بالغ افراد میں سے ایک اور ہر دس بچوں میں سے ایک کو دماغی امراض یا مسائل کا سامنا ہے۔ کسی ایک انسا ن کے دماغی مرض سے صرف وہی نہیں بلکہ اس سے وابستہ سبھی افراد متاثر ہوتے ہیں، یوں دیکھا جائےتو اس حالت کے تھپیڑے میں کروڑوں انسان آجاتے ہیں ۔

اس دن کو منانے کاا ٓغاز1992ء میں کیا گیا، جس کا مقصد تھا کہ دنیا بھر کے لوگوں میں ذہنی صحت کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے اور ذہنی مرض میں مبتلا افراد سے بہتر رویہ روا رکھا جائے۔ عالمی ادارہ صحت کا کہناہے کہ دنیا بھر میں45کروڑ افراد کسی نہ کسی دماغی عارضے میں مبتلا ہیں، جن میں سب سے زیادہ پائی جانے والی دماغی بیماریاں ڈیپریشن اور شیزو فرینیا ہیں۔2002ء میں یہ اندازہ لگایا گیا تھا کہ دنیا بھر میں15کروڑ40لاکھ سے زائد افراد ڈپریشن کا شکار ہیں جبکہ تقریباً ایک فیصد افراد کسی ایک وقت میں شیزوفرینیا سے متاثر ہوتے ہیں۔ شیزوفرینیا میں مریض کا دماغ غیر حقیقی چیزوں کو حقیقت سمجھنے لگتا ہے، اسے رشتہ دار اور قریبی عزیز سب ہی دشمن نظر آتے ہیں۔ ان لوگوں میں باہر کی دنیا کا شعور کم ہوتے ہوتے تقریباً ختم ہونے لگتا ہے اور یہ اپنی ہی دنیا میں مگن نظر آتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں چار میں سے ایک شخص کو کچھ حد تک ذہنی صحت کی دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔ ترقی پزیر ملکوں میں دماغی امراض میں مبتلا85فی صدافراد کو علاج تک کوئی رسائی حاصل نہیں کیونکہ ان ممالک میں دماغی بیماری کو شرمندگی اور بدنامی سمجھا جاتا ہے۔

ہمارے ہاں ذہنی امراض کی جہاں کئی وجوہات ہیں، وہیں چند سماجی اور معاشرتی وجوہات بھی موجود ہیں۔ ان میں دہشت گردی، بدامنی، بے روز گاری، عدم تحفظ، غربت اور ٹوٹتا خاندانی نظام سرفہرست ہیں۔ یہ سب ایسے مسائل ہیں جو ایک عام آدمی کو ذہنی مریض بنا دیتے ہیں، ان سے معاشرے میں اضطراب اور بے چینی جنم لیتی ہے۔ ایسے میں جو افراد ان مسائل کا شکار ہوتے ہیں، ان میں چڑچڑاپن اور غصہ لاحق ہو جاتا ہے اور ان میں کسی کو برداشت کرنے کی قوت ختم ہو جاتی ہے، اگر بروقت درست علاج نہ کیا جائے تو وہ شخص ذہنی مریض بن جاتا ہے۔ گاؤں دیہات میں آج بھی لوگ ذہنی مرض میں مبتلا شخص پر کسی آسیب کا سایہ سمجھتے ہیں اور مریض کا علاج کروانے کے بجائے مختلف حیلے بہانے تلاش کرتے ہیں، جس سے مرض بگڑتا چلا جاتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ ناقابل علاج ہو جاتا ہے۔

اس ضمن میں دماغی امراض سے بچنے اور دماغ کو صحت مندرکھنے کیلئے ماہرین کچھ مشورے دیتے ہیں۔

دماغی صحت کیلئے مشورے

٭ لیٹ کر لکھنے اور پڑھنے سے دماغ پر زور پڑتا ہے اور دماغ کی کمزوری ہونے لگتی ہے، جس کی وجہ سے دماغ اپنا کام اس تیزی سے نہیں کرتا جس طرح اسے کرنا چاہیے۔

٭دماغی کام ہمیشہ کھلی روشن اور ہوا دار جگہ پر بیٹھ کر کرنا چاہیے۔

٭دماغی کام کرنے کے بعد چند منٹ متواتر لمبے سانس لینے چاہئیں تاکہ آکسیجن وافر مقدار میں اندر جائے اور خون صاف ہو جائے۔

٭سبزے پر نگاہ ڈالنے سے دماغ کو تازگی حاصل ہوتی ہے، اس لیے دماغی کام کرنے والوں کے لیے باغ کی سیر نہایت مفید ہے۔

٭کچھ دیر تک دماغی کام کرنے کے بعد آسمان کی طرف دیکھنے سے سر کی طرف دورانِ خون کم ہوتا ہے اور آسمان کا نیلا رنگ دماغ کو تقویت پہنچاتا ہے۔

٭دماغی تھکان کی صورت میںدودھ کا ایک گلاس ایک ایک گھونٹ کر کے پینے سے سر کی جانب دورانِ خون کم ہو جاتا ہے اور دماغ کو فرحت حاصل ہوتی ہے۔

٭دماغی محنت سے تھکنے کے بعد کھلی ہوا میں سرکو دونوں ہاتھوں سے آہستہ آہستہ ملنا تھکان میں کمی لاتا ہے۔

٭دماغی صحت کی بہتری کے لئے پزل حل کریں یا پھر مختلف گیم اور سوالات کے جواب دینے کی کوشش کریں۔

٭ نئی نئی زبانیں سیکھنے کی کوشش کریں۔

٭ کتابیں پڑھیں یا باغبانی کریں۔

٭ چھ سے آٹھ گھنٹے اپنی نیند پوری کریں۔

٭سوشل میڈیا، ٹی وی، موبائل اور کمپیوٹر کا استعمال صرف ضرورت کی حد تک ہی کریں، ان کا بے جا استعمال ڈپریشن میں مبتلا کر دیتا ہے۔

٭ چہل قدمی کو اپنا روزانہ کا معمول بنائیں، اس سے دماغ کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔

یونیورسٹی کالج لندن میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق جسمانی طور پر غیر فعال ہونا ڈپریشن اور ذہنی دباؤ کے خطرات بڑھا دیتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ افراد جو ہفتے میں3دن ورزش کرتے ہیں، وہ ورزش نہ کرنے والوں کی نسبت ذہنی تنائوکا شکار کم ہوتے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں