آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ کےجسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں دورکنی بنچ نےمضرصحت گٹکا، مین پوری اور ماوا کی تیاری اور فروخت کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھنے نا حکم دیتےہوئے کہاہےکہ یہ انتہائی سنگین معاملہ ہےصرف جرمانے لگانے سے کام نہیں چلے گا،انگریزوں کابنایاہوا قانون ہے انگریزوں کو کیامعلوم تھاکہ یہاں گٹکااورمین پوری جیسی مضرصحت اشیاءبھی فروخت ہونگی اس زہر کی تیاری اور فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت سزائیں دینے کےلیے سزاؤں میں اضافہ کرنا ہوگاعدالت عالیہ نے مزید قراردیاہےکہ اگر گٹکا کی فروخت کی شکایت ملی تو ایڈیشنل آئی جی کراچی کو طلب کریں گےعدالت عالیہ نے گٹکا کی تیاری اور فروخت کے خلاف قوانین بھی طلب کرلیےہیں۔جمعہ کو سماعت کے موقع پر پولیس کی جانب سے بتایاگیاکہ ضلع کورنگی میں 60 سے ذائد مقدمات درج کیے گئےملزمان پر جرمانہ بھی عائد ہوا ہےبنچ کے سربراہ نے ریمارکس میںکہایہ سنگین معاملہ ہے صرف جرمانے سے کام نہیں چلے گا، سزائوں میں اضافہ کرنا ہوگا، انگریزوں کے زمانے کا قانون ہے انگریزوں کو کیا معلوم تھا یہاں گٹکا بھی فروخت ہوگا ،بڑی سزائوں والا قانون ہونا چاہئے تاکہ خوف پیدا ہو اورانسانی جانوں سے کھیلنے والے جرم سے دور رہ سکیں۔درخواست گزارممتازمزمل نے کہاکہ کمزورقانون کی وجہ سے

پولیس صرف نمائشی کام کررہی ہے ملزمان کو گرفتار کرکے چھوڑدیا جاتا ہے،مارکیٹ میں گرین پتی نامی گٹکا بھی فروخت ہورہا ہے۔عدالت نے گٹکا سے متعلق دیگر مقدمات کو یکجا کرتے ہوے سماعت 13 نومبر تک ملتوی کردی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں