آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر9؍ربیع الثانی 1440ھ 17؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال:۔’’آپ کے مسائل اور ان کا حل‘‘ میں آپ نے خواتین کے حق وراثت کو موضوع بنایا ہے۔اس ضمن میں آپ نے ایک مسودۂ قانون کا ذکر کیا ہے جو خواتین کے حقوق پر مشتمل ہے اور اس کے کچھ اقتباسات آپ نے اپنے جواب میں شامل اشاعت کیے ہیں۔میراتعلق شعبۂ قانون سے رہا ہے اور فقہِ اسلامی سے بھی دلچسپی رہی ہے ۔مجھے اس مسودے کاسن کر اور اس کے کچھ اقتباسات پڑھ کر خوشی ہوئی کہ بڑی جامعیت اور قابلیت کے ساتھ عورتوں کے حق وراثت کو قانون میں سمویا گیا ہے۔یقیناً اس کی ضرورت ہے اور اسے قانون کا درجہ دیا جانا چاہیے۔اس وقت آپ سے ہم کلامی کا اصل مقصد یہ ہے کہ عورتوں کاحق وراثت دراصل ان کے عائلی اورشخصی حقوق کا ہی ایک حصہ ہے، جب کہ ہمارے ملک میں عائلی قوانین روزِاوّل سے ہی متنازع رہے ہیں،اس لیے میں عورتوں کے عائلی حقوق کے بارے میں صحیح اسلامی نقطۂ نظرجانناچاہتا ہوں ، جس سے میرا مقصد یہ ہے کہ اسلام نے کس قدر حقوق عورت کو بخشے ہیں اور ہمارے قوانین کس حد تک اسے یہ حقوق عطاکرتے یااس کا تحفظ کرتے ہیں۔اس کے ساتھ ہمارے ملک میں قیدی خواتین کے مسائل بھی فوری توجہ چاہتے ہیں ۔جیلوں میں عورتوں کے ساتھ جو رویّہ رکھا جاتا ہے، میری رائے میں اسے اسلامی تو کجا انسانی کہنا بھی مشکل ہے۔یقیناً آپ نے اپنی مذکورہ کاوش میں اس جانب بھی توجہ دی ہوگی اور اس بارے میں بھی قانون ساز اداروں کے سامنے رہنما خطوط واضح کیے ہوں گے۔اگر ایسا ہے تومیں امید کرتا ہوں کہ آپ اسےمیرے لیے اورمجھ جیسے اور دلچسپی رکھنے والوں کے لیے نظرنواز کریں گے۔(ایم۔ اے فاروقی ایڈووکیٹ)

جواب:۔ عائلی حقوق اسلام میں بہت اہمیت رکھتے ہیں ،یہی وجہ ہے قرآن کریم میں احکام کے بیان کےلیے جتنی آیات ہیں، ان میں زیادہ تر کا تعلق شخصی اورعائلی حقوق سے ہے۔عائلی حقوق کی اس اہمیت کی وجہ سے مذکورہ قانون میں تقریباً ستّر کے قریب دفعات اسی موضوع پر ہیں۔ان تمام دفعات کی ایک کالم میں اشاعت ممکن،اس لیے سردست اسے نظرانداز کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے، البتہ کسی مناسب موقع پر اسے شامل اشاعت کیاجاسکتا ہے۔آپ نے قیدی عورتوں کے ساتھ جس غیر انسانی رویّے کا ذکر کیا ہے، وہ واقعی افسوسناک ہے اورہمارے نظام عدل وانصاف کی بہت بڑی خامی ہے جو فوری اصلاح چاہتی ہے۔مذکورہ مسودے میں قیدی عورتوں کے حقوق کے متعلق جیل اصلاحات پر زور دیا گیا ہے ، چناںچہ اس کی دفعہ ۱۲۹ میں قراردیا گیا ہے کہ :

دفعہ129 ۔جیل کے متعلق اصلاحات:

الف۔عورتوں کے لیے علیحدہ جیل ہوگی، جس کی منتظمہ کوئی خاتون افسر ہوگی۔

ب۔زچّہ قید خانہ میں پیدا ہونے والے بچے کو مکمل نگہداشت فراہم کی جائےگی اورچھ سال سے کم عمربچےاپنی قیدی ماں کے ساتھ رہ سکیں گے۔

ج۔کسی مجرم خاتون کو گرفتارکرنے اورعدالت یا جیل تک لانے کی ذمہ داری خاتون پولیس کی ہوگی۔

د۔خواتین پولیس اسٹیشنوں میں عورتوں سے ہتک آمیزرویّے سے اجتناب کیاجائےگا،عصمت فروشی،بردہ فروشی،جاسوسی وغیرہ میں ملوث خواتین کے جرائم کی خصوصی چھان بین کی جائے گی، تاکہ اصل حقائق معلوم ہوں ،جرم کے محرکات واضح ہوں اوران کاسد باب کیاجاسکے۔

ہ۔ذہنی وجسمانی تشدد ،ہتھکڑی اور بیڑی پہنانے سے پرہیز کیا جائےگا، مخلوط جیلوں میں مرد جیلرز اور جیل کے دوسرے عملہ سے ملاقات پر پابندی ہوگی،رات کے وقت صرف لیڈی وارڈن یا لیڈی سپر وائزر خواتین جیل کادورہ کرسکتی ہیں۔

و۔نسوانی ضروریات کا خاص رکھا جائے گا،چھوٹے بچوں کے ساتھ رہنے والی خواتین کی رہائش کا الگ انتظام ہوگا، قیدی عورتوں کے ساتھ موجود ان کے بچوں کی خوراک ،لباس ،تعلیم اور طبّی ضروریات کی ذمہ داری جیل انتظامیہ کی ہوگی اورعورتوں کی جیل کے ساتھ ان کے بچوں کے لیے اسکول کا اورخودعورتوں کے لیے جیل میں دست کاری اور مناسب نسوانی فنون کا بندوبست کیا جائے گا۔

ز۔جیل میں ایسا ماحول فراہم کیا جائے گاکہ قیدی عورتیں اسلامی اقدارسے واقفیت پیدا کرسکیں اورانہیں پُرامن اورقانون کی پابند شہری کی ترغیب مل سکے۔

ح۔عورت خواہ مجرم ہی کیوں نہ ہو ،وہ انسان ہے اور انسانی حقوق کا تحفظ اسلام کا طرۂ امتیاز ہے،لہٰذاقیدی خواتین کو صاف ستھرا ماحول،متوازن غذا اور مناسب طبّی امداد اور ضروریا ت فراہم کی جائیں گی۔

ط ۔ اگر کسی عورت کے شوہر کی قید چھ ماہ یااس سے زائد ہو تو ہر چھ ماہ پر اسے پیرول کیا جائےگا، یا اس کی بیوی کو اس کے ساتھ چندروز ٹھہرنے کی اجازت ہوگی اور اس مقصد کے لیے مناسب فیملی کوارٹرزکا انتظام کیا جائےگا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں