آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 7؍ربیع الثانی 1440ھ 15 ؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اسلام آباد(نمائندہ جنگ) عدالت عظمیٰ نے لاڑکانہ میں ہندو کمیونٹی کی جائیدادوں پر قبضہ سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران متعلقہ تحصیلدار کو تاحکم ثانی متنازع 48ایکڑ کا قبضہ لینے اور ان سے ملنے والے کرائے متعلقہ رینٹ کنٹرولر کے پاس جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے 3روز کے اندر اندر عملدرمد رپورٹ طلب کرلی ہے جبکہ اراضی کے 46دعویداروں کو نوٹسز جاری کر تے ہوئے مزید سماعت 24 دسمبر تک ملتوی کر دی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ہیں ہمیں شرم آرہی ہے کہ ہندو کمیونٹی کی اراضی پر مسلمانوں نے قبضے کررکھے ہیں، میری اطلاع ہے وہاں پر مسیحی کمیونٹی کیساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے ،ہم اقلیتوں کیساتھ برابری کی سطح پر سلوک کرینگے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی تو معشوق علی جتوئی نے عدالت کو بتایا لاڑکانہ کی جس اراضی کی بات کی جارہی ہے وہ ہمیں فروخت کی گئی ہے چیف جسٹس نے کہا یہ زمینیں اب آپکی نہیں رہیں گی ہم انہیں اپنی تحویل میں لے رہے ہیں معشوق جتوئی نے کہا عدالت جو فیصلہ کریگی ہمیں قبول ہوگا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں