آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ4؍ربیع الثانی 1440ھ 12؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اسلام آباد(نمائندہ جنگ، نیوز ایجنسیاں) سپریم کورٹ نے ریلوے کی زمین پر قبضے اور ٹریک کی فروخت پر چیئرمین ریلوے سے تحریری جواب طلب کرتے ہوئے وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کو ضاحت دینے کیلئے طلب کرلیا ہے جبکہ ریلوے کے زیر استعمال اراضی پر ناجائز قبضےکے حوالے سے چاروں صوبائی حکومتوں کو 3روز کے اندر اندرتفصیلات فراہم کرنیکی ہدایت کی۔ چیف جسٹس ثاقب نثارنے ریمارکس شیخرشید تو کہتے تھے اپنی وزارت میں اصلاح کرنی ہے، کیا اب تک یہ بہتری آئی ؟ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے 1998میں چکوال سے سیاسی و کاروباری مفادات کیلئے پاکستان ریلوے لائن کے خاتمہ اور ملک بھر میں ریلوے اراضی پر ہائوسنگ سوسائٹیوں کے قیام ،قبضوں اور کاروباری مقاصد کیلئے دینے سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ ریلوے کی زمین وفاقی یا صوبائی حکومت کی ملکیت ہوتی ہے، ریلوے کسی بھی زمین کی فروخت کا اختیار نہیں رکھتا، ریلوے کی اراضی کسی بھی ہائوسنگ سوسائٹی کو لیز پر نہیں دی جاسکتی ، درخواست گزار ملک فدا الرحمٰن کی وکیل افشاں غضنفر نے موقف اختیار کیا 1886 میں بھون سے مندرہ تک 75 کلومیٹر لمباٹریک بچھایا گیا تھا جسے 1998میں برسراقتدارسیاسی قیادت اور مقامی ٹرانسپورٹ مافیا کے گٹھ جو ڑ سے ختم کر دیا گیا، آج

تک ٹریک بحال کرنے کے حوالے سے قدم اٹھایا گیا نہ ہی اربوں کی اراضی کی حفاظت کی جا سکی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں