آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات16؍شوال المکرم 1440ھ 20؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بنتِ حوّا اب کمزور اور پابندِ سلاسل نہیں رہی۔ لاکھ دشواریاںپار کرکے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ہر سال ہم اپنی کامیابیوں کی داستان رقم کرتی رہتی ہیں۔ عالمی جریدے فوربس نے بھی ایسی ہی کاوش’’2018 کی انتہائی طاقتور100 خواتین‘‘ کی صورت پیش کی ہے، جہاں سے ہم سال کے جاتے جاتے دستورِ زمانہ انتہائی طاقتور ،کامیاب سربراہ خواتین سے متعارف ہوتے ہیں۔ ان خواتین نے اعلیٰ انتظامی پوزیشن پر فائز ہوکر ملکوں کے وقار اور کمپنیوں کے کاروبار میں اضافہ کرکے ثابت کردیا کہ وہ بھی کسی سے کم نہیں ہیں۔ یہاں آپ کو سابق امریکی صدر اوباما کی اہلیہ مشیل اوباما بھی ملیں گی تو پہلے نمبر پر فائز جرمن چانسلر اینجلا مرکل بھی۔ بھارت کی چار خواتین اس فہرست میں شامل ہیں لیکن ہمارے ہاں سے کسی خاتون کو یہ اعزاز نہیں بخشا گیا۔

میری برّا، سی ای او جنرل موٹرز

امریکی ریاست مشی گن کے شہرنووی میں جنم لینے والی 56 سالہ میری برّا (Mary Barra)کی قائدانہ صلاحیتوں کا اندازہ اس امر سے لگائیں کہ انہوں نے برقی، خود کار اور میون نامی رائڈ شیئرز گاڑیوں کی تیاری میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری سے جنرل موٹرز کو دنیا کی اعلیٰ کار ساز کمپنیوں کے مرتبے پر فائز کرتے ہوئے فورڈ اور ٹیسلا کے مقابل لاکر کمپنی کا مستقبل محفوظ کیا۔ نومبر میں تنظیم نو کرتے ہوئے کمپنی کو زیادہ منافع بخش بنانے کے لیے اپنے ہنر مند اور انتظامی امور پر فائز اسٹاف کو کام میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے14ہزار نارتھ امریکن ملازمین کو مراعات کا پیکیج دیا، جس سے کام کے معیار ،رفتار اور توجہ میں اضافہ ہوا۔ میری کی جرأتِ مستانہ کی ہلکی سے جھلک اس وقت میڈیا پرشہ سرخیوں کی نذر ہوئی، جب ان سے صدر ٹرمپ ناراض ہوئے اور پانچ فیصد کٹوتی کا قانون نافذ کردیا،لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔2017ء میں22ملین امریکی ڈالر فروخت کا ہدف حاصل کرکے انہوں نے جنرل موٹرز کو تین بڑی کار ساز کمپنیوں میں شمار کروایا۔ صنفی مساوات کی سالانہ عالمی رپورٹ میں جنرل موٹرز نے پہلی پوزیشن حاصل کی، جو بیری کی ہی کاوشوں کی بدولت ممکن ہوا۔انہیں کسی بھی بڑی کار ساز کمپنی کی پہلی سی ای او ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

ایبی گیل جانسن، سی ای او فڈیلٹی انویسٹمنٹس

پرائیویٹ میوچل فنڈکمپنی فڈیلٹی انویسٹمنٹس( Fidelity Investments) کی سی ای او ایبی گیل جانسن (Abigail Johnson)کو یہ عہدہ وراثت میں ملا ہے کیونکہ ان کے دادا نے اس سرمایہ کار کمپنی کی بنیاد رکھی تھی۔ ایبی گیل، جو14.7ارب ڈالر کے اثاثوں کی مالک ہیں، نےاپنی کمپنی کو بلندیوں پر پہنچا کر ثابت کردیا کہ صرف بیٹے ہی نہیں بیٹیاں بھی ماں باپ کا سہارابن سکتی ہیں۔ کمپنی کےموجودہ مینیجڈ اثاثے2.5ٹریلین ڈالر ہیں۔ عورتوں کو ترجیح دینے والی جانسن نے رواں برس ملینئل فرینڈلی زیرو فری انڈیکس فنڈز اور کرپٹو کرنسی پلیٹ فارم متعارف کراکے ڈیجیٹل اثاثوں کی سرمایہ کاروں تک رسائی کو ممکن کر دکھایا۔

میلنڈا گیٹس، شریک چیئرپرسن بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن

انتہائی طاقتور خواتین کی فہرست میں مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس کی اہلیہ میلنڈا گیٹس بھی جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ انہیں اس وقت دنیا کی ایک بڑی فلاحی تنظیم (بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن) کی سربراہ ہونے کا شرف حاصل ہے ، جس کے ٹرسٹ کے وقف کردہ اثاثوں کی مالیت40ارب ڈالر ہے۔ ان کا عزم دنیا سے غربت کا خاتمہ کرنا اور تعلیم و صحت کا فروغ ہے۔ فلاح و بہبود کے حوالے سے دنیا کو غربت سے نکال کر علم کی روشنی پھیلانے میں میلنڈا کے قائدانہ کردار کو ہم قطعاً فراموش نہیں کر سکتے۔ ویسے بھی ان کے خاوند بل گیٹس نے ونڈو سسٹم سے کمپیوٹر کو عوامی بناکر موجودہ انٹرنیٹ انقلاب کی راہ ہموار کی ہے،اس لیے ان دونوں میاں بیوی کی خدمات کو زمانہ کبھی نہیں بھلا پائے گا۔

اسٹیسی کننگھم، صدر نیویارک اسٹاک ایکسچینج

سرمائے کے حوالے سے مارکیٹ کے اُتار چڑھاؤ کی بات آئے اور اسٹاک مارکیٹ کا ذکر نہ ہو، ایسا ممکن نہیں۔ ہماری اسٹاک مارکیٹس میں عمومی طور پر مردوں کا غلبہ ہے لیکن امریکا کے سب سے اہم کاروباری مرکز نیویارک اسٹاک ایکسچینج میں ایک خاتوں اسٹیسی کننگھم (Stacey Cunningham) صدر ہیں،جنہوں نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے دنیا کے سب سے بڑے اسٹاک ایکسچینج کی ایکویٹیز، ڈیری ویٹیوز اور ایکسچینج ٹریڈیڈ پروڈکٹس میں اضافہ کرتے ہوئے اسے دنیا کی سب سے بڑی شیئر مارکیٹ میں تبدیل کردیا۔ انہوں نے امریکا کے تمام اسٹاک ایکسچینجز کو ٹیکنالوجی سے منسلک کرکے شیئرز کےسودوںکو عالمی افق پر پہنچایا۔ اب وہ ’’عوامی حصص‘‘ بڑھانے کے لیے انقلابی اقدامات کر رہی ہیں۔ کاروباری دنیا میں امریکی خواتین کی بڑھتی تعداد دیکھ کر یہ محفوظ پیش بینی کی جاسکتی ہے کہ آئندہ بھی امریکا میں اہم عہدوں پر خواتین فائز ہوسکتی ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں