آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ15؍ ربیع الثانی 1441ھ 13؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پھر یوں ہوا کہ آنکھوں سے نیند اچانک روٹھ گئی۔ بے خوابی کی حالت مسلسل رہنے لگی۔ ساری ساری رات چھت کو تکنا اور کڑیوں کو گننا معمول ہو گیا۔ اسی دوران فشارِ خون بھی بڑھ گیا۔ ہاتھوں میں رعشہ آنے لگا۔ قدم لرزنے لگے۔ سانسیں بے ترتیب ہونے لگیں۔ دل کی دھڑکنوں میں توازن ختم ہونے لگا۔ تبخیر معدہ کی شکایت بھی پیدا ہونے لگی۔ اچانک دل میں وسوسے سر اٹھانے لگتے۔ اگر کبھی آنکھ لگ جاتی تو کھٹکے سے کھل جاتی۔ میں ہڑبڑا کر اٹھ جاتا۔ نیند میں ڈرائونے خواب آنے لگتے۔ خوابوں میں سب کچھ تہس نہس دکھائی دینے لگا۔ ناامیدی سی دل پر چھانے لگی۔ پژمردگی مسلسل ذہن پر طاری رہنے لگی۔ تمام دن بخار کی کیفیت رہنے لگی۔ طبیعت ایسی ہو گئی کہ رات کو خدشے مزید شدت سے ذہن میں گردش کرنے لگتے۔ دور کی نظر اور دور ہونے لگی۔ قریب کی چیزیں دھندلانے لگیں۔ گلے میں خراش سی رہنے لگی۔ شریانوں میں خون جمنے لگا۔ تمام دن، بدن پر کسل مندی چھانے لگی۔ جسم بے وجہ دکھنے لگا۔ درد کی کیفیت ہر وقت رہنے لگی۔ ایک پریشانی تھی جو تواتر سے ذہن و دل پر چھائی رہتی۔ کام کاج میں دل نہیں لگتا۔ گھر والوں سے بھی طبیعت اکتائی سی رہنے لگی۔ ساری زندگی میں ایسی کیفیت پہلے کبھی نہیں ہوئی۔ یقین مانیے، چند دن پہلے میں ایسا نہیں تھا لیکن دیکھئے چند دن میں، میں کیا سے کیا ہو گئی۔ یہ طبیعت بلاوجہ نہیں ایسی ہوئی۔ ساری بات ایک سوال سے پیدا ہوئی، اسی سوال نے تشویش کا روپ دھار لیا اور تشویش سے خدشات جنم لینے لگے۔

اس کیفیت سے گھبرا کر گھر والوں نے ڈاکٹر سے مشورہ لینے کی صلاح دی۔ شہر کے معروف ڈاکٹر سے ملاقات کا وقت طے ہوا۔ ڈاکٹر کے کلینک میں پہلے تو مجھ سے اچھی خاصی رقم ایڈوانس کے طور پر دھروا لی گئی۔ بہت دیر کے بعد ڈاکٹر سے ملاقات کا موقع میسر آیا۔ ڈاکٹر صاحب نے مریضوں کے اسٹول پر بیٹھنے کا حکم دیا۔ پہلے نبض چیک کی۔ پھر اسٹیتھواسکوپ لگا کر دل کی دھڑکنوں کا مطالعہ فرمایا۔ پھر زور، زور سے سانس لینے کی ترغیب دی۔ اسی دوران منہ میں تھرمامیٹر گھسیڑ کر بخارکا درجہ ماپنے کی بھی کوشش کی۔ پھر عینک کو ماتھے پر ٹکا کر پوچھنے لگے تو کہیے آپ کو کیا عارضہ ہے۔ دیکھنے میں تو آپ بھلے چنگے ہیں۔ میں نےڈاکٹر صاحب کو بتانا شروع کیا کہ یہ طبیعت بلاوجہ نہیں ایسی ہوئی۔

ساری بات ایک سوال سے پیدا ہوئی، اسی سوال نے تشویش کا روپ دھار لیا اور تشویش سے خدشات جنم لینے لگے۔ ڈاکٹر نے میری بات بالکل نظر انداز کی۔ نظام ہضم کی روانی کے لئےنرم اور ہاضم غذائیں تجویز کیں۔ رائیٹنگ پیڈ کے ایک اور صفحے پر کچھ دوائیاں بھی تجویز کیں۔ طاقت کے لئے کچھ وٹامن بھی لکھ دیئے۔ اینٹی بائیوٹک کا ایک کورس بھی تجویز کر دیا۔ ہاضمے کے لئے کچھ سیرپ بھی بتا دیئے۔ بے خوابی کی شکایت کے لئے کچھ خواب آور ادویات بھی لکھ دیں۔

گلے کی خراش کے لئے کچھ چوسنے والی گولیاں بھی لکھ دیں۔ دل کی بے ترتیب دھڑکنوں کے لئے کچھ ریلکسنٹ بھی تجویز کر دیئے۔ ذیا بیطس کو ہر روز ناشتے سے پہلے ماپنے کے لئے ایک مشین خریدنے کا مشورہ بھی دیا۔ بڑھتے وزن کو کم کرنے لئے چہل قدمی کا بھی مشورہ دیا۔ کھانے کے بعد قہوہ پینے کا بھی حکم دیا۔ میٹھی اشیاء سے پرہیز بھی بتایا۔ میں نے کئی دن ڈاکٹر صاحب کے تجویز کردہ طرز زندگی کو اختیار کیا۔ ہر دوا وقت معین پر کھائی۔ گھنٹوں چہل قدمی بھی کی۔ لیکن کسی بھی دوا سے طبیعت میں ذرہ بھر فرق نہیں آیا۔ مریض کی حالت جوں کی توں رہی۔ بات دراصل یہ ہے کہ یہ طبیعت بلاوجہ نہیں ایسی ہوئی۔ ساری بات ایک سوال سے پیدا ہوئی، اسی سوال نے تشویش کا روپ دھار لیا اور تشویش سے خدشات جنم لینے لگے۔

قارئین کرام اگر آپ کو میری باتوں میں کچھ ہذیان کا پہلو نظر آ رہا ہے تو اس کے لئےمیں دلی طور پر معذرت خواہ ہوں۔ مجھے کامل یقین ہے کہ میری دماغی حالت بالکل درست ہے۔ میں اسی طرح سوچتا ہوں جس طرح عام پاکستانی سوچتے ہیں۔ میری بھی خواہش ہے کہ مجھ کو اچانک قارون کا خزانہ مل جائے۔

دولت کا ہما اچانک میرے سر پر آ بیٹھے۔ کوئی پارس پتھر میرے مقدر میں بھی ہو۔ لیکن میں خود غرض بالکل نہیں ہوں۔ میں ایسا ہی اپنے وطن کے بارے میں بھی سوچتا ہوں کہ اچانک میرے وطن کا نام بھی سب سے اونچا ہوجائے۔ ترقی کی ہر منزل اس ارضِ مقدس کا مقدر ہوجائے۔ اچانک غربت ختم ہو جائے۔ ڈالروں کی ریل پیل ہو جائے۔ لیکن جب میں سوچتا ہوں کہ ایسا ممکن ہونے میں کچھ عوامل حائل ہیں توپھر آپ جانتے ہی ہیں کہ یہ طبیعت بلاوجہ نہیں ایسی ہوئی۔ ساری بات ایک سوال سے پیدا ہوئی، اسی سوال نے تشویش کا روپ دھار لیا اور تشویش سے خدشات جنم لینے لگے۔

طبیعت زیادہ بگڑی تو احباب نے کسی ماہرِ نفسیات سے رابطے کا مشورہ دیا۔ ملک بھر کے معروف ماہر نفسیات سے بات ہوئی۔ ایک نامور ڈاکٹر سے وقت ملا۔ میں نے پھر وہی جملہ دہرا دیا۔ ماہر نفسیات نے بڑے رسان سے میری بات کو سنا۔ پھر اپنے تئیں میری تحلیل نفسی کی کوشش کی۔ پھر تحت الشعور میں جھانکنے کے لئے بہت سے سوال کئے۔ بچپن میں سر پر لگی کسی چوٹ کے بابت بھی دریافت کیا۔ کسی پرانے عشق کی ناکامی کا بھی بار بار پوچھا۔ کاروبار میں مالی خسارے کے خوف کا بھی پوچھا۔ مِیرے چہرے کے سامنے انگلیاں لہرا کر انکی تعداد بھی بارہا دریافت کی۔ علامتی سی ڈرائنگ والے کارڈ بھی میرے سامنے لہرائے۔ گلوب کی طرح کی ایک گول شکل کے آلے کو گھما گھما کر مجھ سے مسلسل توجہ مرکوز کرنے کا بھی حکم دیا۔ ایک کائوچ پر لٹا کر لمبے لمبے سانس لینے کو بھی کہا۔ ایک سادہ صفحے پر اپنی داستانِ حیات لکھنے کا مشورہ بھی دیا۔ میں بہت تحمل سے ماہر نفسیات کے تمام ٹیسٹوں کے مراحل سے گزرتا رہا۔ کئی گھنٹے کی تگ ودو سے جب کچھ حاصل نہ ہوا تو معروف ماہر نفسیات نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر آخر کار براہ راست پوچھ ہی لیا کہ آپ کے ذہن میں وہ کون سا سوال ہے کہ جس کے پیدا ہونے سے پہلے تشویش پیدا ہوتی ہے اور پھر وہ تشویش، خدشات میں بدل جاتی ہے۔ میں نے پہلے ادھر ادھر دیکھا پھر ماہر نفسیات کے کان کے پاس آکر کہا۔ وزیر اعظم کی تقریر سنی تھی۔ ہمارے پاس ایسا گیس کا خزانہ ہے جو پچاس برس کے لئے کافی ہوگا۔ اس خزانے سے ملک بھر کے دلدر دور ہو جائیں گے۔ بس یہی خدشہ ہے کہ ڈرلنگ کے درمیان گیس کہیں لیک نہ ہو جائے۔

ماہر نفسیات نے یہ سن کر اثبات میں سر ہلایا تو میں بولا:بس یہی سوال ہے جوخدشات پیدا کرتا ہے کہیں کسی غیر ہند مند مزدور کی کدال کے وار سے نادانستی میں کہیں یہ ملکی خزانہ بھک سے اڑ نہ جائے۔ کسی پھاوڑے کی ضرب سے، کسی ہتھوڑے کے وار سے کہیں یہ ملکی خزانہ لیک نہ ہوجائے۔ امیدوں کامیناراچانک سے گر نہ جائے۔ بس اسی سوال سے تشویش اور خدشات پیدا ہوتے ہیں۔ ماہر نفسیات پہلے تو مجھے غور سے دیکھتا رہا پھر میرے لئے کچھ نیند کی گولیاں تجویز کیں اور مجھے رخصت کر دیا۔ میری طبیعت کیا بہتر ہونا تھی۔ قریبی ذرائع نے بتایا ہے کہ اس دن سے ماہر نفسیات بھی بہت متوحش ہیں اور مزید یہ کہ نیند اب ان کو بھی نہیں آتی۔