آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 15؍ ذیقعد 1440ھ19؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہمارا موجودہ طرز حیات جس میں اصراف کا بے جا استعمال اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ زیادہ تر لوگ ا ب بھی وسائل کی کمی اور ماحولیاتی آلودگی کو صرف خیا لی باتیں ہی سمجھتے ہیں۔ جس طرح ہم خوراک اورپانی کازیاں اوربڑھتی ہوئی مو سمیاتی تبدیلیوں کو نظراندازکررہے ہیں، اس سے لگتا ہے کہ ہم تاحال اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ آئندہ برسوںمیںبھی نظام زندگی اسی طرح چلتارہے گا۔ ہم عالمی رجحانات سے بھی آنکھیں چرارہے ہیں، جو ان مسائل کی عکاسی کرتے ہیں۔ فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمارکے مطابق 2025ء میں دنیا کی آبادی 9.7ارب سے بھی زائد ہوجائے گی، یعنی آئندہ 7سالوں میں آبادی میں تقریباً 30فیصداضافہ ہوجائے گا۔ اقوام متحدہ کے اعداد وشمار کے مطابق عام طور پر ترقی یافتہ ممالک میں کئی افراد معیاری خوراک کا استعمال کررہے ہیں لیکن اب بھی خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میںلاکھوں افراد فاقہ کشی کا شکار ہیں۔ معیاری خوراک اورسخت فاقہ کشی کے درمیان واضح فرق سے پتہ چلتا ہے کہ دنیاکو غذائی قلت سمیت کئی مسائل درپیش ہیں، جنہیں حل کرنے کی فوری ضرورت ہے۔

خوراک اور زرعی شعبہ عالمی نظام کا اہم حصہ ہے۔ اس سیکٹرسے منسلک چھوٹے کاشتکار آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے قدیم اور روایتی کاشتکاری کے طریقۂ کار کے تحت فصل اُگاتے ہیں، جس کی وجہ سے بہتراور معیاری پیداوارکے حصول میںمشکلات کا سامناکرنا پڑتا ہے۔ گلوبل ہارویسٹ کی رپورٹ کے مطابق پانی کے مسائل، غیر متوقع موسمی تبدیلی اورکیڑے مکوڑوں کی وجہ سے خراب فصل کی پیداوار نے دنیا بھر میں 50کروڑ چھوٹے کاشتکاروں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ علاوہ ازیں زمین کی عدم دستیابی کی وجہ سے یہ مشکلات مزید شدت اختیار کرگئی ہیں۔

پاکستان ترقی پذیر ملک ہونے کی وجہ سے زراعت پر انحصار کرتا ہے اور مذکورہ چیلنجز کا سامنا کررہا ہے۔ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ(آئی ایم ایف) کی رپورٹ کے مطابق پاکستان پانی کی قلت کا سامنا کرنے والے ممالک کی فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے۔ شہری علاقوںکی حدودمیں اضافہ اور آبادی بڑھنے کی وجہ سے زرعی زمین کم ہورہی ہے۔ اگلی دو دہائیوں میں درجہ حرارت میں تین ڈگری تک اضافہ ہونے کا خدشہ ہے جبکہ مون سون کی بارشیں کم ہونے،خشک سالی اور سیلاب کی پیشن گوئی کی جارہی ہے۔

محدود زمین اور کم ہوتے ہوئے وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی آبادی کی خوراک کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے جدید کاشتکاری نظام اور ٹیکنالوجی کو اپنایا جارہا ہے۔ ان ٹیکنالوجیز کو متعارف کروانے کا مقصد موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت،خوراک اور متوازن غذا کی بڑھتی ہوئی طلب، زمین کی محدود دستیابی اوردیگر مسائل کو حل کرنا ہے۔ یہ جدیداقدامات ابتدائی مرحلے میں ہونے کے باوجود سائنسی تحقیق پرمبنی ماڈرن ایگریکلچرپر انحصار کرتے ہیں اور خاص طور پر پاکستان جیسے ملک کو بہتر پیداوار کی ضمانت دیتے ہیں۔ حکومتی و نجی شعبے کی جانب سے زراعت کے شعبے میں ٹیکنالوجی اختیارکرنے کے لئے کئی اقدامات کئے گئے ہیں۔ موبائل کا استعمال اور آئی سی ٹی بیسڈ (ICT-based) اقدامات کاشتکاروں کو معلومات اور آگاہی فراہم کرنے کے لیے مفید ذرائع ہیں۔ پنجاب میں کاشتکاروں کو زراعت کی متعلقہ معلوماتی سروس فراہم کرنے کے لیے Connected Agriculturel Platform(سی اے پی)شروع کیا گیا تاکہ ان کو بروقت اور با خبر فیصلے کرنے میں مدد دی جاسکے۔ اس معلوماتی سروس میں تیکنیکی معلومات، جیسے موسم کی صورتحال اور کیڑے مکوڑوں کو کنٹرول کرنے کے لئے اقدامات، سبسڈیز اور قرضوں سے متعلق معلومات شامل ہیں۔ اسی طرح تعلیمی ادارے بھی زرعی ریسرچ میں اہم کردار ادا کررہے ہیں، جس کے ذریعے جدید ٹیکنالوجی کے بارے میں کسانوں کو آگاہی فراہم کی جار ہی ہے۔ ان میں ایک دلچسپ پہلو ڈیجیٹل ایگریکلچر ٹیکنالوجی ہے۔ لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی مقامی اور انٹرنیشنل پارٹنرز کے اشتراک سے کھیت اور زرعی زمین سے متعلق پروجیکٹس شروع کررہی ہے تاکہ جدیدطریقے اور کم اخراجات میں فارم مینجمنٹ کی جاسکے۔

پاکستان کی نیشنل فوڈ سیکورٹی پالیسی بھی جدیدایگریکلچر ٹیکنالوجی کی معترف ہے۔ پاکستان میں اس وقت 30 تعلیمی ادارے اور 500سے زائد سائنسدان بیج کی مختلف خصوصیات کو کمرشلائزکرنے کے حوالے سے کام کررہے ہیں تاکہ کسان توانائی، پانی اور زمین کا بہتر استعمال کرتے ہوئے زیادہ فصل کاشت کرسکے۔ علاوہ ازیں کپاس، مکئی اور گندم سمیت دیگر فصلوں پر جاری تحقیق بہتر فصل کی پیداوارسے متعلق سائنسی حل تلاش کرنے میں مددفراہم کررہی ہے۔

قدرتی وسائل کی قلت سے متعلقہ حل،ڈیجیٹل ٹولز،بائیو ٹیکنالوجی اورجد ید پلانٹ بریڈنگ کے ساتھ ماڈرن ایگریکلچر ایک مجموعی نقطۂ نظر پیش کرتا ہے تاکہ سائنسی طور پرخوراک کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو پورا کیا جاسکے۔ اسی وجہ سے ماڈرن ایگریکلچردرست اور مؤثر کاشتکاری طریقۂ کار پر عمل کرتے ہوئے موجودہ ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں