آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل 21؍ربیع الاوّل 1441ھ 19؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

میں جناب اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصرکا شکرگزار ہوں جنہوں نے دنیا کے مختلف جمہوری ممالک کی پارلیمانوں سے قریبی روابط استوار کرنے کیلئے قومی اسمبلی میں پارلیمانی دوستی گروپوں کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے مجھے پاکستان انڈیا پارلیمنٹری فرینڈشپ گروپ کا کنوینر نامزد کیا ہے۔ دونوں ممالک کے عوام میں ہزار سالوں سے ایک ساتھ رہنے کی بنا پر بہت سی اقدار مشترک ہیں جن میں رہن سہن، ثقافت، بودوباش، تہذیب و تمدن کے ساتھ سب سے اہم مشترکہ تاریخ ہے۔برصغیر کے دونوں ممالک برطانوی سامراج کے خلاف کامیاب جدوجہد آزادی کی تابناک تاریخ کے حامل ہیںلیکن وہ فراموش کردیتے ہیں کہ تقسیم ہند کا اصل مقصد دو متحارب دشمن ریاستیں تخلیق کرنانہیں تھا بلکہ دونوں آزاد ممالک کے مابین باہمی احترام کا رشتہ استوار کرنا، عدم استحکام سے گریز کرنا اور عوام کیلئے خوشحالی یقینی بنانا تھا،اگر دونوں ممالک کی قیادت ٹھنڈے دل سے غور کرے تو ترقی و خوشحالی سے دوری کی بڑی وجہ عوام کی بنیادی سہولتوں کو نظرانداز کرتے ہوئے علاقائی تنازعات میں الجھنا اور مخالفانہ رویہ ہے۔ گزشتہ سات دہائیوں سے دونوں ممالک چند مٹھی بھر شدت پسند عناصر اور نان اسٹیٹ ایکٹرز کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں،یہ ناپسندیدہ قوتیں دونوں ممالک میں روز اول سے سرگرم ہیں جنکا مقصد اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کیلئے نفرت کے ایجنڈے کو پروان چڑھانا ہے۔ اسلام آباد میں انڈیا کے سفارتخانے کی آفیشل ویب سائٹ پر درج پاکستان پالیسی کا محور تنازعات کے حل کیلئے دوطرفہ ڈائیلاگ کا راستہ اپناناہے لیکن انڈیا کے بقول دہشت گردی اور بات چیت ایک ساتھ نہیں چل سکتے، میں سمجھتا ہوں کہ ایسا عدم اعتماد پر مبنی رویہ دونوں ممالک کو قریب لانے میںبڑی رکاوٹ ہے۔ سفارتی معاملات کی سمجھ بوجھ رکھنے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ عالمی تعلقات میں دوستی اور دشمنی کبھی مستقل نہیں ہوا کرتے بلکہ یہ مشترکہ مفادات ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کو قریب لاتے ہیں۔ دہشت گردی کے عفریت سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک پاکستان ہے جس کی بہادر افواج اور عوام آج بھی قربانیاں دے رہے ہیں، اگر انڈیا دہشت گردی کے خاتمے کو اپنا قومی مقصد سمجھتا ہے تو اسے الزام تراشی اور بات چیت سے فرار حاصل کرنے کی بجائے پاکستان سے تعاون کرنا چاہئے۔یہ امر کسی صورت فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ ماضی میں یورپی ممالک بالخصوص جرمنی اور فرانس ایک دوسرے کے خلاف خونی جنگیں لڑتے رہے، دونوں کوریا عالمی طاقتوں کی شہ پر ایک دوسرے کا خون بہاتے رہے لیکن آج اکیسویں صدی میں سب نے جان لیاہے کہ دنیا میں آگے بڑھنا ہے توعوام کی خوشحالی کیلئے پرامن معا شر ے کاقیام یقینی بنانا ہوگا اور امن قائم کرنے کیلئے پڑوسیوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات استوار کرنا بنیادی شرط ہے، چین تائیوان کو اپنا باغی صوبہ قرارضرور دیتا ہے لیکن اقتصادی روابط بھی قائم رکھے ہوئے ہے۔کامیاب قومیں کسی بھی تنازع کو انا کا مسئلہ نہیں بناتیں بلکہ حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے لچک کا مظاہرہ کرتی ہیں، انکی قیادت اچھی طرح جانتی ہے کہ طاقت سے وقتی کامیابی تو حاصل کی جاسکتی ہے لیکن دیرپاحل کیلئے افہام و تفہیم ضروری ہے۔یہی وجہ ہے کہ انتخابات میں کامیابی کے بعد وزیراعظم عمران خان نے اپنی پہلی تقریر میں نڈیا کے ساتھ تعلقات میں بہتری، تجارتی راستے کھولنے اور تمام تصفیہ طلب مسائل کو حل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا،آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کی طرف سے کرتار پور راہداری کھولنے کے اقدام سے دنیا نے پاکستان کو علاقائی امن و استحکام کیلئے پرعزم پایا، وزارت خارجہ کا منصب سنبھالتے ہی شاہ محمود قریشی نے بھی اپنی پہلی پریس کانفرنس میں انڈیا کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کیلئے بات چیت کا عمل دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔انڈیاکی بات کی جائے تو وہاں کی انتخابی مہموں میں پاکستان مخالف بیانیہ افسوسناک حد تک بڑھ چکا ہے، مختلف سیاسی امیدوار الیکشن میں کامیابی کے حصول کیلئے پاکستان کا نام بلاجواز استعمال کرتے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ ایک لیڈر عوام کیلئے رول ماڈل ہوتا ہے اور اگر وہ نفرت پروان چڑھائے گا تو اس کے اس اقدام سے اپنے عوام کے ذہن تو پراگندہ ہونگے، اس کے منفی اثرات سرحد پاربھی پڑتے ہیں جہاں منفی قوتیں اس کو جواز بناکر محب وطن اقلیتوں کیلئے زمین تنگ کردیتی ہیں۔ مجھے موجودہ قومی اسمبلی میںانڈیا پاکستان پارلیمانی دوستی گروپ کا کنوینر منتخب کیا گیا ہے تو میں چاہتا ہوں کہ دونوں ممالک کی پارلیمانوں کو قریب لانے کیلئے سنجیدگی سے کام کیا جائے، اس سلسلے میں سب سے کلیدی کردار دفتر خارجہ کے توسط سے انڈین ہائی کمشنرکاہے، میںدفتر خارجہ سے درخواست کرنا چاہوں گا کہ وہ انڈین ہائی کمشنر کو پاکستانی پارلیمانی نمائندوں کے ساتھ دوطرفہ تعلقات میں بہتری کیلئے تجاویز کے تبادلے کیلئے پارلیمنٹ ہاؤس مدعو کرنےمیں ہماری مدد کریں ، اس موقع پرانڈین سفیر سے کرتارپور راہداری کے جواب میں پاکستان سے ملحقہ ریاست راجستھان میں واقع اجمیر شریف راہداری کے قیام کیلئے ہمارامطالبہ بھی اپنی قیادت تک پہنچانے کی درخواست کی جاسکے۔ انڈیا میں رواں برس مئی کے مہینے میں17ویں لوک سبھا کیلئے قومی الیکشن ہورہے ہیں،میں بطور کنوینر پاکستان انڈیا پارلیمانی دوستی گروپ چاہتا ہوں کہ بھارتی انتخابات میں پاکستان مخالف بیانیہ کا زور توڑنے کیلئے فوری طور پر پاکستانی پارلیمانی نمائندوں پر مشتمل ایک وفد وہاں جائے اور انڈیا کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سمیت اہم مقامی شخصیات سے ملاقاتوں میںمنفی بیانات سے گریز کرنے کا مشورہ دیا جائے ،دورہ انڈیا کے دوران راجیہ سبھا، سپریم کورٹ، تاج محل اور درگاہ اجمیر شریف کی زیارت کے علاوہ بھارتی وزیراعظم، وزیر خارجہ، اپوزیشن لیڈر، اسپیکر سمیت نمایاں شخصیات کو پاکستان کی جانب سے امن کا پیغام پہنچایا جائے، اسی طرح میری خواہش ہے کہ الیکشن کے موقع پربھی پاکستانی وفد بطور الیکشن آبزور انڈیا کا دورہ کرے اوربھارتی عوام کو پاکستان کی جانب سے نیک تمنائیں پہنچاتے ہوئے پاکستان مخالف پروپیگنڈے کا اثر زائل کیا جائے۔ میں چاہتا ہوں کہ دونوں ممالک ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر ایک روشن مستقبل کی راہ ہموار کرنے کیلئے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامیں، اس کیلئے ضروری ہے کہ اپنے مسائل کا ذمہ دار ایک دوسرے کو ٹھہراکر بری الذمہ نہ ہواجائے بلکہ دیرینہ تنازعات کے حل کیلئے غیرمشروط مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔اس سلسلے میں بطور کنوینر پاکستان انڈیا پارلیمانی فرینڈ شپ گروپ میں دونوں ممالک کے مابین قریبی تعلقات کی خواہش رکھنے والے امن پسند شہریوں، سول سوسائٹی، میڈیا اور نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرکے مختلف سیمینار، ورکشاپ،ایکسچینج پروگرام سمیت دیگر تقریبات کا انعقاد کرنے کا بھی خواہاں ہوں، میں خدا سے اپنی نیک نیتی سے کی جانے والی جدوجہد کی کامیابی کیلئے دعاگو ہوں کہ پاکستان انڈیا پارلیمانی گروپ دونوں ممالک کو قریب لانے میںجلد کامیاب ہوجائے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)