آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل17؍شعبان المعظم 1440ھ 23؍ اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سعودی کمپنیوں کی پاکستان میں سرمایہ کاری خوش آئند ہے،اسد عمر

اسلام آباد (نمائندہ جنگ) پاکستان کا دورہ کرنے والےسعودی عرب کے میڈیا وفد نے منگل کو وزیر خزانہ اسد عمر سے ملاقات کی ، وزیر خزانہ نے وفد کا خیرمقدم کیا اور معیشت کے استحکام سے متعلق حکومتی اقدامات سے آگاہ کیا ۔وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ سعودی کمپنیوں کی پاکستان میں سرمایہ کاری خوش آئند ہے، انہوں نے سعودی عرب کی جانب سے پاکستان میں آئل ریفائنری لگانے کے منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستان میں سرمایہ کاری اور ترقی کے لحاظ سے معیشت پر دورس اثرات مرتب ہونگے ۔وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو وسیع تر مواقع کی پیش کش کی ہے اور پاکستان میں سعودی کمپنیوں کی پیٹرو کیمیکلز ، مائننگ سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کا خیرمقدم کیا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ اب دونوں ملکوں نے سماجی و معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے نوجوانوں کو مواقع فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ انہوں نے سی پیک منصوبوں میں سعودی شراکت داری کابھی خیرمقدم کیا۔ سعودی عرب کے میڈیا وفد نے وزیر خزانہ سے اپنے دورہ پاکستان کے تاثرات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں ملکوں کے مابین معاشی تعاون کو بلندیوں پر دیکھنے کے خواہاںہیں۔دریں اثناء پاک ترک سٹریٹجک اکنامک فریم ورک کی کمیٹی کا اجلاس منگل کو وزیر

خزانہ اسد عمر کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں مجوزہ فریم ورک کو مرتب کرنے سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وزیر توانائی ، وزیراعظم کے مشیر امور تجارت و ٹیکسٹائل ، وزیر بین الصوبائی رابطہ اور وزیر نجکاری بھی شریک ہوئے۔ اقتصادی امور ڈویژن کے سیکریٹری نے اجلاس کو تفصیلی پریزینٹیشن دی اور مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کی جانب سے تجاویز سے شرکاء کو آگاہ کیا۔وزارت تجارت کی آزادتجارتی معاہدے کے ذریعے تجارت میں اضافے اور دونوں ملکوں کے مابین کسٹم کے عمل میں آسانی کی تجاویز دی گئیں ۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان ترکی کی سیاحت کی صنعت کے تجربات سے بھر پور استفادہ کر سکتا ہے۔ وزیر خزانہ کہا کہ ترکی کی مد د سے پاکستان میں آٹو کے شعبے میں ترقی کے وسیع مواقع ہیں ، دونوں ملکوں کے بنکوں کو ایک دوسرے کےملک میں برانچیں کھولنی چاہئیں اس سے کاروبار فروغ پائے گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں