آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ15؍ ربیع الثانی 1441ھ 13؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پلوامہ میں کشمیری نوجوان کی فدائی حملے کے بعد امریکہ اور یورپی ممالک تو کیا چین اور سعودی عرب نے بھی شدید الفاظ میں اس کی مذمت کی اور پوری دنیا بھارت کی غمخوار نظر آئی۔ دوسری طرف گزشتہ چند سالوں کے دوران پاکستان میں اسی طرح کے سینکڑوں خودکش حملے ہوئے جن میں ہزاروں انسان لقمہ اجل بنے لیکن دنیا ٹس سے مس نہ ہوئی۔ بھارت کے پاس پلوامہ حملہ میں پاکستان کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں جبکہ پاکستان کے پاس کلبھوشن یادیو کی صورت میں بھارتی مداخلت کا زندہ ثبوت موجود ہے لیکن اس معاملے میں دنیا کے کسی ملک کی طرف سے بھارت کی مذمت ہمیں دیکھنے کو نہیں ملی۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ بھارت دنیا کے سامنے خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور سیکولر ازم کی علامت کے طور پر پیش کرتا رہا جبکہ پاکستان کو اس کی ماضی کی پالیسیوں کی وجہ سے مذہبی انتہاپسندی کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔ پاکستان پر نان اسٹیٹ ایکٹرز کے ذریعے کشمیر اور افغانستان میں مداخلت کا الزام لگتا رہا۔ جنرل پرویز مشرف کی کارگل مہم جوئی کی وجہ سے بھی پاکستان ایک جنگجو ریاست کے طور پر مشہور کیا گیا تھا لیکن نریندر مودی نے جنگجویانہ سیاست سے کام لیتے ہوئے پاکستان کے خلاف جس جنونیت کا مظاہرہ کیا اور ا س کے جواب میں پاکستان نے جس عاقلانہ رویے کا ثبوت دیتے ہوئے، جو صلح جویانہ سیاست کی، اس سے دنیا کے نظروں میں دونوں ممالک کا امیج الٹ ہونے لگا۔ پاکستان کا چہرہ ایک امن پسند جبکہ بھارت کا چہرہ ایک جنگجو ریاست کے طور پر سامنے آیا۔ یہ احسان نریندر مودی نہ کرتے تو ہم دنیا کے نظروں میں اپنا یہ امیج کبھی تبدیل نہیں کر سکتے تھے۔ تبھی تو میری رائے ہے کہ دشمن ہو کر بھی نریندر مودی پاکستان کے محسن ثابت ہو رہے ہیں اور تب ہی تو ان دنوں میری زبان پر بار بار یہ الفاظ آ رہے ہیں کہ شکریہ مودی جی۔

بھارت کو زعم تھا کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی سیکولر جمہوریت ہے جہاں مذہب اور نسل کی تفریق سے بالاتر ہو کر سب شہری برابری کے بنیاد پر زندگی گزار رہے ہیں۔ امریکہ کے بعد دنیا کی دوسری فلم اور میڈیا انڈسٹری کی طاقت کے ذریعے اس نے اس تاثر کو مبالغے کے ساتھ دنیا میں پھیلا دیا تھا لیکن گزشتہ چند روز بھارت میں کشمیریوں پر جس طرح حملے ہوئے اور جس طرح معمولی اختلاف کا اظہار کرنے والوں کے منہ بند کردیئے گئے، اس نے نہ صرف بھارت کے اصل چہرے سے نقاب ہٹا دیا بلکہ ریاست کے اندر موجود فالٹ لائنز کو تازہ اور گہرا کردیا۔ پاک بھارت کشیدگی جلد یا بدیر ختم ہو جائے گی لیکن مودی کی پالیسیوں نے خود بھارت کے اندر جن نفرتوں کو جنم دیا ہے، وہ لمبے عرصے تک اس ریاست کے لئے سوہان روح بنی رہیں گی۔ دوسری طرف مودی کی مہم جوئی سے قبل پاکستان میں سیاسی، نسلی اور علاقائی کشیدگی عروج پر تھی۔ پختونوں، بلوچوں، گلگت بلتستان والوں، سندھیوں اور مہاجروں کی محرومیاں اپنی جگہ پہلی مرتبہ پنجاب میں بھی پی ٹی ایم کی طرح کے خیالات جنم لے رہے تھے لیکن جوں ہی بھارتی جارحیت کا واقعہ ہوا، وہ سب پس منظر میں چلے گئے۔ نہ کوئی بلوچ رہا، نہ سندھی، نہ پنجابی، نہ پختون، نہ مہاجر۔ سب پاکستانی بن گئے اور یک زبان اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ اسی طرح گزشتہ انتخابات کے بعد سول ملٹری قیادت کچھ حوالوں سے ایک پیج پر نہیں تھی اور گزشتہ چھ ماہ کے دوران اپوزیشن جماعتوں کو عسکری قیادت کے ساتھ بیٹھنے کا کوئی موقع میسر نہیں آیا تھا۔ مودی صاحب کی مہربانی سے پاکستان کی تمام سول قیادت کو اپنی عسکری قیادت کے ساتھ ایک کمرے میں بیٹھنے اور تبادلہ خیال کرنے کا موقع میسر آیا۔ گزشتہ دس دنوں کے دوران نہ تو کسی ناراض تنظیم کی طرف سے اپنے اداروں کے خلاف کوئی نعرہ لگا، نہ کسی اپوزیشن رہنما نے اشاروں کنایوں پر مبنی بیان دیا اور نہ کسی ادارے کی طرف سے ان کی کردارکشی کی کوئی ہدایت جاری ہوئی۔ تبھی تو میری رائے ہے کہ دشمن ہو کر بھی نریندر مودی پاکستان کے محسن ثابت ہو رہے ہیں اور تبھی تو اِن دنوں میری زبان پر بار بار یہ الفاظ آرہے ہیں کہ شکریہ مودی جی۔

پاکستان الحمدللہ ایٹمی طاقت ہے۔ اس ایٹمی صلاحیت نے پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان کے اندر انتہاپسند اور عسکری تنظیموں کی وجہ سے بسا اوقات یہ محسوس ہوتا تھا کہ یہ صلاحیت غنیمت کم اور مصیبت زیادہ ہے۔ امریکہ، بھارت اور اسرائیل جیسی طاقتیں یہ تاثر دیا کرتی تھیں کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار انتہاپسندوں کے ہاتھوں میں جانے کا خطرہ ہے۔ اس کی بنیاد پر یہ طاقتیں اور بالخصوص امریکہ وقتاً فوقتاً پاکستان کو بلیک میل کرتا رہا۔ اب جبکہ ایک طرف الحمدللہ پاکستان نے بڑی حد تک دہشت گردی کے مسئلے پر قابو پا لیا ہے تو اس نازک اور جذباتی موقع پر تحمل اور امن پسندی کا مظاہرہ کر کے پاکستان نے ثابت کر دیا کہ اس کے ایٹمی ہتھیاروں کے بارے میں سارے شکوک بے بنیاد ہیں۔ دوسری طرف دنیا پر واضح ہو گیا کہ نہ صرف اس وقت پورا بھارت ایک مذہبی جنونی کے ہاتھ میں ہے بلکہ اس کے ایٹمی پروگرام کے بٹن پر بھی ایک انتہاپسند جنونی کی انگلی ہے۔ اب پاکستان اس پوزیشن میں آگیا ہے کہ دنیا کو بتا دے کہ اسے پاکستان نہیں بلکہ بھارت کے ایٹمی ہتھیاروں کے بارے میں فکر مند ہونا چاہئے۔ تبھی تو میری رائے ہے کہ دشمن ہو کر بھی نریندر مودی پاکستان کے محسن ثابت ہورہے ہیں اور تبھی تو ان دنوں میری زبان پر بار بار یہ الفاظ آرہے ہیں کہ شکریہ مودی جی۔

مودی صاحب نے ایک بڑا احسان ہم پر یہ کیا کہ انہوں نے پاکستان کی حکمراں جماعت کو حقیقت پسند بنا دیا۔ ماضی میں جب یہی مودی صاحب خود چل کر میاں نوازشریف کے پاس آئے تو ان کو ویلکم کرنے کے جرم میں اس وقت کے وزیراعظم میاں نوازشریف کا جینا حرام کردیا گیا۔ ان کو غدار تک کے القاب سے نوازا گیا۔ اس الزام تراشی میں عمران خان صاحب اور ان کے غمخوار سب سے آگے تھے۔ چنانچہ میاں نوازشریف مفاہمت کے سلسلے کو آگے ہی نہ بڑھا سکے۔ اسی طرح جو بھی پاکستانی سیاستدان یا صحافی پاکستان ریاستی پالیسیوں سے رتی بھر اختلاف کی جرات کرتا تو اسے غدار ڈیکلیئر کر دیا جاتا لیکن الحمدللہ اب یہ کام پاکستان میں نہیں ہوگا کیونکہ جو لوگ غدار غدار کا ورد کیا کرتے تھے، خود انہوں نے مودی کی ہٹ دھرمی اور جارحیت کے باوجود اسے مذاکرات کی پیشکش کی۔ الحمدللہ جب پاکستان میں غدار غدار کا یہ کھیل ختم ہونے کو ہے تو بھارت میں وہ زور پکڑ رہا ہے اور ہم پاکستانیوں سے بڑھ کر کوئی نہیں جانتا کہ حب الوطنی کے پاک نام پر پروان چڑھائے جانے والے اس گندے کھیل کا نتیجہ کن خطرناک شکلوں میں نکلتا ہے۔ صرف دو ہفتے قبل کی بات ہے کہ میرے ٹی وی پروگرام جرگہ میں وفاقی وزیر علی امین گنڈاپور نے کلبھوشن یادیو کے معاملے پر میاں نوازشریف کو غداری کے سرٹیفکیٹ سے نوازا۔ اگلے دن ایک اور وفاقی وزیر نے اپنے لیڈر کی خوشنودی کے لئے اسی کلبھوشن یادیو کی آڑ لے کر میاں نوازشریف کو غدار قرار دے دیا۔ میاں نوازشریف کی حکومت نے تو پھر بھی کلبھوشن یادیو کو دو سال تک قابو کئے رکھا اور ان کی حکومت میں ہی اس کو سزائے موت بھی ہوئی لیکن اب جب عمران خان صاحب نے صرف دو دن بعد بھارتی پائلٹ کو بھارت کے حوالے کرنے کا اعلان کیا تو ان وزرا کو پتہ لگ گیا ہو گا کہ سفارتی مجبوریاں کیا ہوتی ہیں۔ اب اگر وہ میاں نوازشریف سے معافی نہ مانگیں تو کم ازکم مستقبل میں اس الزام کو نہیں دھرا سکیں گے۔ اسی طرح پارلیمنٹ کے فورم پر عمران خان صاحب کے اس اعلان کہ وہ کل رات سے کوشش کر رہے ہیں لیکن مودی صاحب سے بات نہیں ہو پا رہی، کے بعد اب پاکستان کے سیاسی نابالغوں کی بھی آنکھیں کھل گئی ہوں گی کہ حقائق کی دنیا کیا ہوتی ہے۔ تبھی تو میری رائے ہے کہ دشمن ہو کر بھی نریندر مودی پاکستان کے محسن ثابت ہو رہے ہیں اور تبھی تو ان دنوں میری زبان پر بار بار یہ الفاظ آرہے ہیں کہ شکریہ مودی جی۔