آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل15؍رمضان المبارک 1440ھ 21؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا بھر میں خواتین کاعالمی دن ایسے حالات میں منایاجارہاہے جب بلوچستان کی خواتین صحت کے گھمبیرمسائل سے دوچار ہیں،اس کااندازہ اس بات سے بھی لگایاجاسکتاہے کہ صوبےمیں دوران زچگی ماؤں کی شرح اموات ملک کےدیگرصوبوں کی نسبت سب سےزیادہ ہے۔

بلوچستان، رقبے کےلحاظ سےملک کا سب سے بڑا اورآبادی کےاعتبارسےسب سےچھوٹاصوبہ ہے۔معدنی وسائل سےمالامال ہونےکےباوجودملک میں سب سے کم آباد ی کے حامل اس صوبےکےعوام گوناگوں مسائل کاشکارہیں ،اس حقیقت کااندازہ خواتین میںصحت سے متعلق بڑھتے مختلف مسائل بالخصوص دوران زچگی ماؤں کی تشویشناک شرح اموات سے لگایاجاسکتاہے۔

بلوچستان کے سب سے بڑے سرکاری ٹیچنگ اسپتال ،سنڈیمن صوبائی ہیڈکوارٹر اسپتال کےشعبہ گائناکالوجی کےایک یونٹ کی سربراہ اور صوبےسے کالج آف فزیشن اینڈ سرجنز آف پاکستان (سی پی ایس پی)کی پہلی خاتون کونسلر پروفیسر ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے خواتین کے صحت کےبڑھتے ہوئے مسائل پر شدید تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں خواتین کےصحت کےمسائل گھمبیر ہیں۔

اس حوالےسے انہوں نے خاص طور پر خواتین کی دوران زچگی شرح اموات کاذکر کیا،ان کا کہناتھا کہ بلوچستان میں ہر سال ایک لاکھ میں سے 850مائیں دوران زچگی موت کاشکار ہوجاتی ہیں،یہ شرح ملک کےدیگر حصوں کی نسبت بہت زیادہ ہے،کیونکہ دیگر حصوں میں یہ شرح 270کےقریب ہے،ایشیاء میں بھی پاکستان اس حوالےسےآگے ہے اور اس کی وجہ بھی بلوچستان میں ماؤں کی زیادہ شرح اموات یعنی maternal mortality rate کا ہوناہے۔

ماہرین کے مطابق بلوچستان میں خواتین کےصحت سے متعلق بڑھتے مسائل کی وجوہات میں پسماندگی ،بنیادی ڈھانچےاورتربیت یافتہ طبی ماہرین اورعملہ کی کمی کےعلاوہ شعوروآگہی کافقدان اور خواتین کےحوالے سے مردوں کے سماجی اورمعاشرتی رویے شامل ہیں،یہ حقیقت بھی اپنی جگہ ہے کہ صوبےکےبیشترضلعی اورتحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال مناسب طبی سہولیات سے تو محروم ہیں ہی اس کے ساتھ ساتھ وہاں گائناکالوجسٹس اور تربیت یافتہ پیرامیڈیکل عملہ بھی تعینات نہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کاکہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اندرون صوبہ صورتحال زیادہ خراب ہے،وہاں خواتین اور خاص طور پر ماؤں کےلئے طبی سہولیات کافقدان شرح اموات کےبڑھنے کی بڑی وجہ ہے،دوردراز علاقوں سے زچگی کےلئے شہروں میں لاناپڑتا ہے،اس کےعلاوہ وہاں سڑکیں اور ٹرانسپورٹ کامناسب بندوبست بھی نہیں ہے ۔

جب ان کی توجہ اندرون صوبہ اسپتالوں میں مناسب سہولیات کےفقدان اور گائناکالوجسٹ کےنہ ہونے کی جانب مبذول کرائی گئی تو ان کا کہناتھا کہ یہ درست ہے کہ کوئٹہ کےعلاوہ تمام شہروں اوراضلاع میں گائناکالوجسٹس تعینات نہیں ہیں،اس کی وجہ وہاں سکیورٹی کےمسائل ہیں،خواتین ڈاکٹرز دوردراز علاقوں میں جانے سے گریزاں ہوتی ہیں ،ایک تو سکیورٹی کامسئلہ اور دوسرا وہاں اس میں ان کےلئے سہولیات کا نہ ہونا آڑے آتاہے،اگر اندرون صوبہ ڈسٹرکٹ اور تحصیل ہیڈکوارٹراسپتالوں میں ڈاکٹروں کو بہتر سہولیات اور مراعات دی جائیں تو وہ وہاں جانے سے گریز نہیں کریں گی۔

اس کےعلاوہ صورتحال میں بہتری کےحوالے سے تجاویز دیتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کا کہنا تھا کہ اسپتالوں کی حالت بہتر بنائی جانی چاہئے،وہاں لیبرروم اور گائنی وارڈ میں بستروں کی تعداد میں اضافہ کیاجاناچاہئے،جبکہ لیبرروم میں اپنا بلڈ بنک ہو،جہاں بوقت ضرورت خون کی فوری فراہمی ممکن ہو کیونکہ خون کی کمی اور بلیڈنگ کی وجہ سے خواتین موت کےمنہ میں چلی جاتی ہیں۔

اس حوالےسے سماجی شعبے میں کام کرنےوالی ایک خاتون عہدیدار شمائلہ ناز کا کہناتھا کہ دوردراز علاقوں کی وجہ سے خواتین کو بہترتعلیمی اور طبی سہولیات تک رسائی نہیں ہے،اس کےعلاوہ ان میں تعلیم کی کمی اور اپنے حقوق کےعلم نہ ہونے کی وجہ سے مسائل کاسامناکرنا پڑتاہے،ان کا کہناتھاکہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ روایتی معاشرے میں خواتین کو عزت دی جاتی ہےمگر ان کےمسائل بہرحال اپنی جگہ ہیں۔ اس حوالے سے تبدیلی انہیں بہترتعلیم کےمواقع فراہم کرنے سے ہی آسکتی ہے۔

دوسری جانب خواتین کےعالمی دن کےموقع پر جاری ایک پیغام میں وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے یہ باور کرنا ضروری خیال کیا کہ آبادی کا نصف حصہ خواتین پر مشتمل ہے اور نصف حصہ کو نظر انداز کر کے ملک ترقی نہیں کرسکتا۔

اپنے پیغام میں وزیراعلیٰ کا یہ بھی کہنا تھا کہ معاشرے کی پسماندگی دور کرنے اور اسے ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے ضروری ہے کہ خواتین کے احترام اور تمام معاملات میں ان کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے، حکومت خواتین کے حقوق کا پورا احترام کرتی ہے اور خواتین کو برابر کے شہری کی حیثیت دینے کی غرض سے بلوچستان اسمبلی میں قانون سازی بھی کی گئی ہے۔

حکومت باتوں اور دعووں کی حد تک تو ترقی نسواں کی بات تو کرتی ہے مگر عملی اقدامات بہرحال خال خال ہی نظر آتے ہیں،جیسا کہ پالیسی اورفیصلہ سازی میں خواتین کی موثرنمائندگی کےنہ ہونے اور بالخصوص صوبائی کابینہ میں کسی خاتون کےشامل نہ کئے جانے سےبھی لگایاجاسکتاہے،جبکہ اس سال کےلئےعالمی یوم خواتین کاموضوع بھی ترقی اوربہتری کےلئےصنفی توازن برقراررکھنے کی ضرورت پر زور دیتاہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں