آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار16؍رجب المرجب 1440ھ 24؍مارچ 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سبز عمارتیں (Green Buildings) نہ صرف ماحول کو صاف اور ٹھنڈا رکھتی ہیں بلکہ یہ توانائی بھی کم خرچ کرتی ہیں، نتیجتاًآپ کے پیسے بچاتی ہیں۔ صرف یہی نہیں، سبز عمارتوں پر تعمیراتی لاگت بھی کم آتی ہے۔ تاہم اس کے باوجود، دنیا کے اکثر ممالک پائیدار (Sustainable) عمارتوں کے بجائے روایتی تعمیرات کے ساتھ ہی مطمئن اور خوش دِکھائی دیتے ہیں۔

ریسرچ اینڈ مارکیٹس کی ایک رپورٹ کے مطابق ہر تین سال بعد، دنیا بھر میں سبز عمارتوں کی تعداد دُگنی ہورہی ہے اور توقع ہے کہ 2030ء تک سبز عمارتوں کی عالمی مارکیٹ میں سالانہ اوسطاً13فیصد سے زائد اضافہ ہوگا۔ اندازہ ہے کہ آج سے تین سال بعد 2022ء میں ’گلوبل گرین بلڈنگ سولیوشنز‘ کی مالیت 364ارب ڈالر تک جا پہنچے گی۔

رپورٹ کے مطابق، اگرچہ یورپ کے کئی شہروں جیسے پیرس اور لندن میں سبز عمارتوں کی شرح زیادہ ہے(بالترتیب 64فیصد اور 68فیصد)، ایشیا میں یہ شرح انتہائی کم ہے۔

ایشیا میں صرف سنگاپور واحد ملک ہے، جہاں سبز عمارتوں کی تعداد نسبتاً زیادہ ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ

سنگاپور کی حکومت نے 2011ء میں اعلان کیا تھا کہ وہ 2030ء تک ملک کی 80فیصد عمارتیں سبز (Green)کردے گی۔ 2017ء کے اختتام تک سنگاپور میں سبز عمارتوں کی شرح 30فیصد ہے جبکہ بیجنگ 11فیصد، شنگھائی 15فیصد، ٹوکیو 8فیصد اور ہانگ کانگ 4فیصد کے ساتھ اس شرح کو بہتر بنانے کے ابتدائی مراحل میں ہیں۔

اگرچہ، گرین بلڈنگز کے اعتبار سے، سنگاپور ابھی سے ہی ایشیا میں بہترین ملک کا اعزاز حاصل کرچکا ہے، تاہم جہاں تک ہدف کا تعلق ہے،اس سلسلے میں اب تک ہونے والی پیش رفت کو دیکھتے ہوئے، ماہرین کو شبہ ہے کہ سنگاپور کی حکومت 2030ء تک یہ ہدف غالباً حاصل نہیں کرپائے گی۔ماہرین سمجھتےہیں کہ سنگاپور کی حکومت بلڈنگ ڈیویلپرز، ڈیزائنرز اور مکینوں کے مابین بہتر ڈائیلاگ کو فروغ دے کر گرین بلڈنگز کی رفتار کو تیز کرسکتی ہے۔

تعمیراتی ماہرین کا کہنا ہے کہ، جب 2011ء میں اس منصوبے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اعدادوشمار کے مطابق، 2017ء تک حکومت صرف 30فیصد عمارتوں کو گرین بنانے میں کامیاب رہی ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگلے 12سال میں حکومت کو مزید 50فیصد روایتی مواد سے تیار عمارتوں کو سبز عمارتوں میں بدلنا ہوگا۔ آٹھ سال کی پیش رفت کے پیشِ نظر یہ کہنا مشکل ہے کہ آئندہ 11سال میں سنگاپور کی حکومت یہ ہدف حاصل کرلے گی۔

ماہرین کے مطابق، اس کی وجہ یہ ہے کہ تعمیراتی شعبے سے وابستہ لوگوں کو، تعمیرات کو روایتی سے گرین ٹیکنالوجی پر لے جانے کے لیے اپنے بزنس ماڈل میں تبدیلی کی ضرورت ہے، بدقسمتی سے اس پر زیادہ کام نہیں کیا گیا۔

سبز عمارتوں کے کئی فوائد ہیں، جیسے کہ مکینوں کی صحت بہتر رہتی ہے اور پیداوار یت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ آپریشنل اخراجات میں کمی کے باعث تعمیرات پر منافع زیادہ ہوتا ہے جبکہ گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں کمی، پانی کے استعمال میں کمی اور کم فضلے جیسے ماحولیاتی فوائد اس کے علاوہ ہیں۔ البتہ، ان فوائد کے بارے میں اس صنعت سے وابستہ افراد اور عوام میں آگہی کی کمی ہے، اس لیے لوگ ایک روایتی عمارت کو سبز تعمیر کرنے یا پہلے سے تعمیر شدہ روایتی عمارت کو سبز میں تبدیل کرنے کے لیے آنے والے اخراجات برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

ایشیا میں گرین بلڈنگز کی مارکیٹ صرف حال ہی میں اپنے ابتدائی مرحلے سے کچھ آگے بڑھ پائی ہے اور اس کی وجہ بھی مارکیٹ کھپت کے بجائے حکومتی قانون سازی ہے۔

ماہرین کے مطابق، اگر ایشیا کی بات کریں تو تین ممالک سنگاپور، ملائیشیا اور تھائی لینڈ میں گرین بلڈنگز پر نسبتاً بہتر کام ہورہا ہے اور توقع ہے کہ جلد ہی ان ممالک میں گرین بلڈنگز کی تعمیر حکومتی سرپرستی سے نکل کر نجی شعبے میں بھی شروع ہوجائے گی۔

ماہرین کے مطابق، اس صدی کے وسط تک ایک تہائی عمارتیں گرین ٹیکنالوجی کے تحت بننا شروع ہوجائیں گی، تاہم زیادہ مسئلہ پہلے سے تعمیر شدہ عمارتوں کا ہے کہ ان عمارتوں کو گرین بنانے کے لیے جو سرمایہ درکار ہے، وہ کہاں سے آئے گا اور ان عمارتوں کے مکینوں کو کس طرح تیار کیا جائے گا کہ وہ گرین ٹیکنالوجی پر خرچ کریں۔ اس کی ایک وجہ یہ سوچ بھی ہے کہ سبز عمارتیں بہت زیادہ مہنگی ہیں اور اس کے مقابلے میں فوائد اتنے زیادہ نہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ، جہاں تک توانائی بچانے کا تعلق ہے تو لوگوں کا خیال ہےکہ توانائی صرف ایئر کنڈیشنر کے استعمال میں ہی خرچ ہوتی ہے، اس لیے لوگ نئی ٹیکنالوجی والے ایئرکنڈیشنر خریدکر سمجھتے ہیں کہ وہ توانائی کی بچت کررہے ہیں۔ تاہم لوگوں کو یہ علم نہیں کہ دیواروں پر کیا جانے والا رنگ و روغن، تعمیراتی سامان اور دیگر پراڈکٹس کو جس طرح استعمال کیا جاتا ہے، اس کا بھی توانائی کی بچت پر اثر پڑتا ہے۔

جہاں تک سنگاپور کا تعلق ہے تو وہ تعمیرات کی صنعت سے وابستہ افراد اور مکینوں کو سبز عمارتوں کو ترجیح دینے کے لیے جہاں توانائی کی بچت کے فوائد سے آگاہی دے رہا ہے، وہاں انھیں سبز عمارتوں کے لیے مختلف مدت کی مالی معاونت بھی فراہم کررہا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ 2030ء تک 80فیصد سبز عمارتوں کا ہدف حاصل کرنے کے لیے سنگاپور کو ابھی مزید محنت کرنا ہوگی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں