آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ18؍رمضان المبارک1440 ھ24؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سپریم کورٹ میں نوازشریف کی درخواست ضمانت پر سماعت

سپریم کورٹ آف پاکستان میں سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس میں سزا کی طبی بنیادوں پر معطلی اور ضمانت پر رہائی کی درخواست پر سماعت ہو ئی۔

چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ درخواست کی سماعت کر رہا ہے،اس موقع پر عدالت عظمیٰ کی سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

عدالت میں محدود نشستوں کے باعث وکلاء، درخواست گزار اور فریقین کو خصوصی اجازت نامے جاری کیے گئے ہیں۔

ؒنواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ 15 جنوری 2019 کو نواز شریف کی طبیعت خراب ہو ئی۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا نوازشریف کی اس سے پہلے کی میڈیکل رپورٹس دکھا سکتے ہیں؟ نواز شریف کی نئی اور پرانی میڈیکل رپورٹس کا جائزہ لیں گے۔

دورانِ سماعت نوازشریف کی 5 میڈیکل رپورٹس پیش کی گئیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہمیں معلوم ہے کہ نواز شریف کا علاج لندن میں ہوا تھا، ہمیں ان کی تمام میڈیکل رپورٹس پڑھنا ہوں گی۔

خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ نوازشریف پہلے ہی روزانہ 17 مختلف ادویات استعمال کر رہے ہیں، اڈیالہ جیل میں قید کے دوران پمز کے ڈاکٹرز نے ان کی رپورٹ دی، میڈیکل بورڈ نے نواز شریف کی صحت کی خرابی سے متعلق رپورٹ دی۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی صحت سے متعلق 16 جنوری کو علامہ اقبال میڈیکل کالج کے ڈاکٹرز نے رپورٹ دی، 17 جنوری 2019ء کو پی آئی سی کے 3 پروفیسرز نے رپورٹ دی۔

خواجہ حارث نے بتایا کہ پنجاب حکومت کے4رکنی میڈیکل بورڈ نے30 جنوری کو نوازشریف کا معائنہ کیا، 5 فروری کو سروسز اسپتال کے 6 ڈاکٹرز نے بھی ان طبی معائنہ کیا۔

نواز شریف کے وکیل کا کہنا ہے کہ علامہ اقبال میڈیکل کالج کے 7 رکنی میڈیکل بورڈ نے 18 فروری کوحتمی رپورٹ دی۔

خواجہ حارث نے عدالت عظمیٰ کو یہ بھی بتایا کہ نواز شریف کی طبی بنیادوں پر سزا معطلی کی استدعا ہائی کورٹ نے مسترد کی۔

مسلم لیگ نون کی رہنما مریم اورنگزیب، شاہد خاقان عباسی، راجا ظفر الحق، خواجہ آصف، ایاز صادق اور حمزہ شہباز سپریم کورٹ میں موجود ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں