• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

23مارچ 1940ء کا سورج ایک ایسے ناقابل فراموش دن کا اجالا لے کر طلوع ہوا، جس نے مسلمانانِ ہند کی تقدیر بدل کر رکھ دی۔ لاہور کے اقبال پارک میں منظور کی گئی قرار دار کی بدولت اس دن کو پاکستانی تاریخ میں نہایت اہمیت حاصل ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تحریکِ پاکستان میں کس طرح مسلسل جدوجہد کے ذریعےمسلمانوں نے انگریزوں اور ہندؤں کی ایذارسائی سے نجات حاصل کی۔

تحریکِ پاکستان میں مردوں کی طرح خواتین کا کردار بھی خاصا نمایاں رہا ہے۔ فاطمہ علی جناح، امجدی بانو بیگم، سلمیٰ تصدق حسین، بی اماں، رعنالیاقت علی خان اور فاطمہ صغریٰ کے شانہ بشانہ بے شمار خواتین تھیں جنھوں نےاپنی زندگیاں جدوجہدِ پاکستان کے لیے وقف کیں۔ ان خواتین کا لازوال کردار، عظمت وحوصلہ اور مسلمانوں کے لیےعلیحدہ ریاست حاصل کرنے کا جذبہ مردوں سے کسی طور کم نہ تھا، جس کے باعث یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سماجی پابندیوں کا سامناکرتے ہوئے خواتین کی فعال شرکت نے تحریک پاکستان میں ایک نئی روح پھونکی۔ آج کی تحریر میں تحریکِ پاکستان میں نمایاں کردار ادا کرنے والی چند خواتین پر بات کرتے ہیں۔

مادرِ ملت محترمہ فاطمہ علی جناح

اپنے بھائی اوربانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح ؒکی طرح مادرِ ملت محترمہ فاطمہ علی جناح بھی سیاسی بصیرت، قیادت، جرأت مندی اور ایثار و قربانی کے جذبوں سے مالامال تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک پاکستان کے لیے ان کی بے لوث محنت اور انتھک جدوجہد آنے والی نسلوں کے لیے ایک مثال بن گئی۔ محترمہ فاطمہ علی جناح پیشے کے اعتبار سے دندان ساز (Dentist) تھیں لیکن قائداعظم محمد علی جناح کی اہلیہ کی وفات کے بعد ان کی خدمت کی خاطر اپنی پریکٹس چھوڑ کر ان کی قریبی ساتھی اور مشیر بن گئیں۔ قرار دادِ پاکستان کی منظوری کے بعد برصغیر کے طول و عرض کے سیاسی دورے ہوں، خواتین میں علیحدہ مسلم ریاست سے متعلق شعور بیدار کرنے کا معاملہ ہو، مسلمانوں کو منظم اور متحرک کرنا ہویا پھر تحریکِ پاکستان کے لیے مالی اعانت کے مسائل کا حل، محترمہ فاطمہ علی جناح قائداعظم کے شانہ بشانہ رہیں ۔ نہ صرف قائد اعظم کی زندگی میں بلکہ ان کی وفات کے بعد بھی محترمہ فاطمہ جناح کی ملکی معاملات پر مضبوط گرفت پاکستان کے لیے ایک سنہرا اور روشن باب ثابت ہوئی۔

بی اماں (اصل نام آبادی بانو)

عظیم سیاسی رہنمامولانا محمد علی جوہر کی زوجہ امجدی بانو بیگم کی طرح ان کی والدہ بی اماں کا بھی تحریکِ پاکستان میں کردار ناقابل فراموش ہے۔ تعلیم یافتہ نہ ہونے کے باوجود انھوں نے ایک آزاد مملکت کی جدوجہد کو آگے بڑھایا۔ انھوں نے چند کانفرنسز کی صدارت بھی کی۔ تحریک پاکستان کی جدوجہد کو آگے بڑھانے کیلئے چندہ جمع کرنا ہو یا پھر خواتین میں جذبہ حریت کی بیداری، بی اماں ہر جگہ پیش پیش رہیں۔

بیگم رعنا لیاقت علی خان

بیگم رعنا لیاقت علی خان کی خدمات کا ذکر کیے بغیر تحریکِ پاکستان کی تاریخ مکمل نہیں ہوسکتی۔ انھوں نے قرار دادِ پاکستان کے مسودے کی تیاری کے دوران اہم کردار ادا کرتے ہوئےچند کلیدی نکات بتائے۔ معاشیات (Economics) میں ماسٹر ز ہونے کے باعث آپ نے تحریکِ پاکستان جناح کمیٹی میں بطوراقتصادی مشیرخدمات سرانجام دیں۔ بیگم رعنا لیاقت علی پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کی بیگم تھیں، اس طرح وہ پاکستان کی پہلی خاتون اوّل تھیں۔ اس کے علاوہ انھیں تحریکِ پاکستان کی کارکن اور سندھ کی پہلی خاتون گورنر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ آپ نے مملکتِ خداداد میں عورتوں کو بااختیار بنانے سے متعلق پروگرام کا آغاز کیا۔1950ء میں آپ ہالینڈ میں پاکستان کی پہلی سفیر مقرر کی گئیںجبکہ 1960ء میں اٹلی اور بعدازاں تیونس میں بھی بطور پاکستانی سفیر خدمات سرانجام دیں۔1952ء میں آپ کو اقوام متحدہ میں پاکستان کی پہلی خاتون نمائندہ ہونے کا اعزاز حاصل ہوا جبکہ1973ء سے 1976ء کے دوران پاکستان کی پہلی خاتون گورنر (سندھ)کے طور پرفرائض نبھائے۔ پاکستان ویمن نیشنل گارڈ، ویمن نیول ریزرو ، گھریلوں صنعتوں ، تعلیمی اداروں بالخصوص ہوم اکنامکس کی تعلیم کے اداروں کے علاوہ پاکستان میں پہلی غیر سرکاری تنظیم اپو ا (APWA) قائم کرنے کا سہر ابھی بیگم رعنا لیاقت علی خان کے سر ہے۔

بیگم جہاں آرا شاہنواز

بیگم جہاں آرا شاہنواز کا شمار بھی تحریک پاکستان میں نمایاں کردار ادا کرنے والی خواتین میں ہوتا ہے۔ آپ مسلمانوں کی نمائند ہ جماعت آل انڈیا مسلم لیگ کا نام تجویز کرنے والے عظیم سیاسی رہنما سر میاں محمد شفیع کی صاحبزادی تھیں۔ بیگم جہاں آرا شاہنواز کو آل انڈیا مسلم لیگ کی پہلی خاتون رکن ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ آل انڈیا مسلم لیگ کی خاتون سیاسی رکن ہونے کے باعث انھوں نے تینوں گول میز کانفرنسوں میں مسلمانوں کی نمائندگی کی۔ اس کے علاوہ لیگ آف نیشنز کے اجلاس سمیت آپ نے مزدوروں کی بین الاقوامی کانفرنس میں بھی شرکت کی۔ 1930ء میں برطانیہ سے جن اہم سیاسی رہنماؤں کو گول میز کانفرس میں مدعوکیا گیا تھا، ان میں بیگم جہاں آرا کے علاوہ اہل خانہ سے ان کے والد اور بیٹی ممتا ز شاہنواز نے بھی شرکت کی۔ قیام پاکستان سے قبل بیگم جہاں آرا کو دو مرتبہ پنجاب اسمبلی کا رکن منتخب کیا گیا جبکہ قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں۔

بیگم جہاں آرا شاہنواز کی بیٹی ممتاز شاہنواز نے بھی مسلمانوں کے لیے علیحدہ ریاست کی جدوجہد کی۔وہ 16اپریل 1948ءکوآئرلینڈ میں گرنے والے امریکی طیارے میں سوار تھیں اور یوں 29مسافروں کے ساتھ راہِ عدم کی مسافر بن گئیں۔

بیگم زری سرفراز

تحریک پاکستان میں ایک اہم کردار بیگم زری سرفراز کا بھی ہے جن کا اصل نام زرنگار تھا ۔بیگم زری سرفراز نہ صرف تحریک پاکستان کی ایک سرگرم کارکن تھی بلکہ پاکستان کے قیام کے بعد بھی بطور سیاستدان آ پ نے اپنی تمام تر زندگی خواتین کی بہتری کو فروغ دینے کے لیے وقف کردی۔آپ کا تعلق خیبر پختونخواہ کے علاقے مردان کے ایک معزز اور امیر گھرانےسے تھا ۔والدخان بہادر سرفراز علی خان، قائد اعظم محمد علی جناح سے دلی لگاؤ رکھتے تھے جبکہ والدہ کوکب علی خان مسلم لیگ کی جنرل سیکرٹری تھیں۔ بیگم زری سرفراز 1940کے تاریخ ساز جلسے میں شریک ہوئیں، یہ جلسہ ان کی زندگی میں مسلمانوں کی علیحدہ ریاست اور ان کے مطالبات کی منظوری کے لیے ان کا خاص کردار ادا کرنے کا سبب بنا۔اس جذبے کا صلہ 1944میں انھیں مسلم لیگ کی باقاعدہ کارکن منتخب ہونے کا سبب بنا۔مردان میں مسلم لیگ خواتین کی داغ بیل ڈالی جبکہ صرف ایک سال بعدیعنی 1945 میں برصغیر کی مسلم لیگی خواتین کی کانفرنس منعقد کروانے کا سہرابھی آپ کو ہی جاتا ہے۔1945میں انھیں مردان مسلم لیگ کی جنرل سیکرٹری منتخب کیا گیا۔ آپ کی دن رات کی گئی محنت کے باعث مسلم لیگ نے ضمنی انتخاب میں اہم نشست پر کامیابی بھی حاصل کی،1947میں سول نافرمانی اوروائسرائے لارڈ مائونٹ بیٹن کے پشاور کے دورے کے موقع پر بھی مظاہروں کی قیادت کرکے گراں قد خدمات انجام دیں ۔

تازہ ترین